حکومتی پالیسیاں ناکام، رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران برآمدات میں 4 فیصد کی کمی

شیئر کریں:

حکومت کا رواں مالی سال برآمدات میں اضافے کا دعوی ایک بار پھر اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار نے غلط قرار دے دیا،، مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ
تقریبا 4 فیصد کی کمی رکارڈ کی گئی۔۔ جنوری کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ 23 کروڑ ڈالر رہا۔۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران مجموعی طور پر
ملکی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے اس عرصے کے مقابلے میں 3.8 فیصد کی کمی رکارڈ کی گئی۔
درآمدات میں 6 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا،،
پاکستان ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مالی سال کے
پہلے 7 ماہ کے دوران مجموعی طور پر ملکی برآمدات میں 5.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر کے بعد جنوری میں بھی کرنٹ اکاونٹ
میں 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا،
تاہم مجموعی طور پر مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران بیرونی کھاتوں میں
حکومت کی مجموعی آمدنی اخراجات سے 91 کروڑ 20 لاکھ ڈالر زیادہ رہی،،
گزشتہ سال اس عرصے میں 2 ارب 54 کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا تھا،،
جولائی سے جنوری تک ملکی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.8 فیصد کمی ہوئی۔
درآمدات میں 6.1 فیصد کا اضافہ رکارڈ کیا گیا،، اس دوران اشیا اور سروسز کی بیرونی تجارت میں پاکستان کو 14 ارب 85 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا خسارہ ہوا،،
بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے 16 ارب 47 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پاکستان بھجوائے گئے،،
رپورٹ کے مطابق سات ماہ کی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا ڈالر میں حجم 162 ارب 71 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔۔


شیئر کریں: