حکمت عملی میں اختلاف کا حزب اختلاف کی تقسیم کسے فائدہ پہنچارہی ہے؟

شیئر کریں:

لیل و نہار /عامر حسینی

ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا معاملہ طے ہوگیا ہے- میجر جنرل ندیم انجم 23 نومبر 2021 کو ڈی جی آئی ایس آئی کا منصب سنبھال کر اپنا کام شروع کردیں گے اور اگلے سال نومبر 2023 تک وہ موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر پرویز باجوہ کے ساتھ ہی کام کریں گے – فرق صرف اتنا ہے کہ جنرل قمر باجوہ ندیم انجم کو اکتوبر کے شروع میں ہی ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پہ کام کرتے دیکھنا چاہتے تھے لیکن وزیراعظم عمران خان نے جنرل فیض حمید کو قریب قریب دو ماہ اور کام کرنے کا موقع دے دیا-

یہ دو ماہ کیا واقعی محض “دودھ میں مینگنیاں” ڈال کر دینے جیسا عمل ہے یا وزیراعظم عمران خان ان دو ماہ میں اپنی حکومت اور اپنے مقرر کردہ کچھ اہداف کا حصول چاہتے ہیں؟ اگر کچھ اہداف کا حصول مقصود ہے تو وہ کیا ہوسکتے ہیں؟ کیا چیف آف آرمی اسٹاف اور نئی تقرری کے منتظر جنرل نوید انجم کی مدد کے بغیر تن تنہا جنرل فیض حمید ان مبینہ مفادات کو حاصل کرسکیں گے؟

یہ ایسے سوالات ہیں جو اقتدار کی غلام گردشوں میں پوچھے جارہے ہیں-

مسلم لیگ نواز کے حامی تحقیقاتی صحافیوں کا تجزیہ تو یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ میں وزیراعظم عمران کی حکومت کو “بوجھ” سمجھنے والا ایک سیکشن اب چیف آف آرمی اسٹاف کو بھی اپنا ہمنوا بنا چُکا ہے – اور یہ سیکشن جو پی ٹی آئی کی حکومت کے تین سالوں کے دوران مسلسل کوشش میں تھا کہ کسی طرح سے غالب سیکشن سلیکٹرز کا ذہن بدلے اب بہتر پوزیشن میں ہے – اور 22 نومبر کے بعد جی ایچ کیو اور ڈی جی آئی ایس آئی آفس دونوں ایک پیج پہ ہوں گے-

مسلم لیگ نواز نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پہ پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کے دوران واضح طور پہ جنرل فیض حمید کے خلاف محاذ بنایا اور جنرل باجوہ کی حمایت کی – اب مسلم لیگ نواز جنرل ندیم انجم کی تقرری کا کریڈٹ بھی خود ہی لینا چاہتی ہے-

اسلام آباد کے باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کی 22 نومبر 2021 تک توسیع کے پس پردہ عمران خان کا ہدف پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے اراکین پہ نقب لگانا ہے – مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی قوت اور استعداد کو کمزور کرنا ہے-

شیخ رشید احمد بار بار مسلم لیگ نواز کے تین ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کی پیشن گوئی کررہے ہیں تو کیا اس پیشن گوئی کا ماخذ اور سورس عمران خان کی حمایت میں کھڑے جنرل فیض حمید اور دیگر سیلکٹرز کا سیکشن ہے؟

پنجاب میں مسلم لیگ کی پارلیمانی طاقت کو کمزور کرنے کا زریعہ کون سا ہے؟ ایک تو کالعدم تحریک لبیک ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی حکومت تحریک لبیک پہ پابندی اٹھانے اور اس جماعت کے مرکزی سربراہ سعد رضوی کو پُرامن پارلیمانی سیاست پہ زور دینے کا سوچ رہے ہیں – وہ چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن تک تحریک لبیک اپنی تیاری کرے اور پچھلے الیکشن کی طرح 2023 میں اگر انتخابات ہوں تو تحریک لبیک مسلم لیگ نواز کو دو درجن سے زائد نشستوں سے محروم کرنے ک سبب بن جائے۔ 2018ء کے انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان لاہور سمیت شمالی پنجاب میں نواز لیگ کی 19 کے قریب نشستوں پہ ہار کا سبب بنی تھی۔ مسلم لیگ نواز کا حامی پریس تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان حالیہ بات چیت اور ممکنہ معاہدے پہ اپ سیٹ دکھائی دے رہا ہے اور اس پریس میں شایع ہونے والے تجزیے حکومت پہ تحریک لبیک کو مکمل طور پہ کچل ڈالنے پہ زور دےرہے تھے۔

اسٹبلشمنٹ میں مبینہ تقسیم میں جس سیکشن کو عمران خان کو بوجھ سمجھنے والا سیکشن قرار دیا جارہا ہے ، اس سیکشن کے حوالے سے کہا یہ جارہا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو پانچ سال پورا کرنے کے حق میں ہے لیکن وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس حکومت میں پی ٹی آئی کے اتحادی آخری سال میں حکومت سے فاصلہ اختیار کریں اور اس کی خواہش ہے کہ آنے والے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ق، آزاد امیدوار ، پی پی پی کے پاس پنجاب میں اتنی نشستیں ہوں کہ مسلم لیگ نواز پنجاب میں اپنی حثیت میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ رہے اور مرکز میں ایسا بندوبست ہو کہ پاکستان پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، مسلم لیگ ق اور پی ڈی ایم پہ مشتمل حکومت بنے۔

پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہوگی کہ وہ اسٹبلشمنٹ میں سلیکٹرز میں اپنے حامی سیکشن کے ساتھ مل کر ایک طرف اپنے اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھے۔ دوسری طرف اس کی کوشش ہوگی کہ وہ دسمبر 2023ء میں ایسے چیف آف آرمی اسٹاف کو لیکر آئے جس سے اسٹبلشمنٹ میں اس کا حامی سیکشن زیادہ بہتر پوزیشن میں آجائے۔اس سارے سنیاریو میں پاکستان تحریک انصاف کی اسٹبلشمنٹ میں حمایت میں اضافے کے لیے اشد ضروری ہے کہ حکومت افغانستان میں افغان طالبان سے وہ مطالبات منوانے میں کامیاب ہو جو امریکہ، یورپ ، چین، روس اور دیگر ممالک کررہے ہیں۔حکومت کے سامنے امریکی جو بائیڈن انتظامیہ سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کا چیلنج بھی کھڑا ہے جس کے ٹھیک نہ ہونے کے سبب پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات تاحال کامیاب نہیں ہوسکے ہیں-

پاکستان تحریک انصاف کو اندرونی سطح پہ معشیت کے جس بڑے بحران کا سامنا ہے اس سے نمٹنے میں اس کا بچاؤ ہے۔ اسے ایک طرف تو بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کو کم کرنا ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے جو کرنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے اسے بھی کم کرکے متوازن بنانا ہے۔ اس وقت ڈالر کی بڑھتی سط، روپیا کی گرتی شرح، پٹرول، بجلی ، گیس کی قیمتوں میں اضافے اور اس اضافے سے دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے درمیانے اور چھوٹے تاجروں، درمیانے اور نچلے طبقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان طبقات میں پی ٹی آئی کی مخالفت غصے اور برہمی میں بدل رہی ہے۔ حکومت اس کا خمیازہ بہت بڑے احتجاج کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں پہلے مرحلے پہ بڑے شہروں میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہی ہیں۔ پی پی پی، جماعت اسلامی اور اے این پی الگ الگ احتجاجی مظاہرے کررہی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے فروری یا مارچ میں مسلم لیگ نواز پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے کی خواہش مند ہے۔ایسا نظر آتا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن جماعتبں یہ چاہتی ہیں کہ وہ فروری یا مارچ میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرکے حکومت کو اسٹبلشمنٹ میں باوجوہ سیکشن کی مدد سے مستعفی ہونے پہ مجبور کردیں۔

پی پی پی ابھی تک “لانگ مارچ” کو ترجیح نہیں دے رہی۔ وہ اب بھی مسلم لیگ نواز سے کہہ رہی ہے کہ وہ پہلے مرحلے پہ پنجاب میں بزدار کے خلاف عدم اعتماد لائے اور پھر وفاق میں عدم اتحاد آئے۔ یہ دونوں مطالبات ایسے ہیں جن کو نواز لیگ رد کررہی ہے۔اسے شک ہے کہ عدم اعتماد کی کوشش پنجاب اسمبلی اور وفاق میں ناکام ہوجائے گی اور اس اقدام سے نواز لیگ کے پنجاب سے تعلق والے اراکین اسمبلی کو توڑنے کی حکومتی کوششیں تیز تر ہوجائیں گی۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں میں سٹریٹجی کو لیکر پایا جانے والا اختلاف براہ راست حکومت کے حق میں جارہا ہے۔

عامر حسینی “خبروالے ” کے چیف رپورٹر ساؤتھ پنجاب ہیں


شیئر کریں: