حماس کی اعلی قیادت کو قطر اور ترکی میں قتل کرنے کا مںصوبہ

اسرائیل نے جنگ کے بعد قطر میں موجود فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حما س کی اعلی قیادت کو ٹھکانے لگانے کی منصوبہ بندی
کر لی ہے. اس بارے میں وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی خفیہ ایجنسی موساد
کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے۔

غزہ پر اسرائیلی جارحیت، جنگی اخراجات اور داخلی دباؤ

نیتن یاہو اپنے پیشرو گولڈا میئر کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں اور وہ ‘آپریشن راتھ آف گاڈ’ جیسے گھناؤنے مشن کی منظوری دینی کی
خواہش رکھتے ہیں. ماضی کی وزیراعظم نے بھی جنگ کے بعد ایک ایک کر کے تمام فلسطینی رہنماؤں کو دنیا بھر میں قتل کر دیا
تھا بالکل اسی طرح غزہ جنگ کے بعد کسی بھی ملک میں موجود اسرائیل کے دشمنوں کو مار ڈالنے کا مںصوبہ بنایا گیا ہے۔

منصوبہ کیا ہے؟

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نیتن یاہو نے “موساد ” کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر منصوبہ تیار کر لے. کہا جارہا ہے کہ موساد
ترکی، لبنان اور قطر میں حماس کی قیادت کو بے اثر کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے. خصوصا قطر حماس کی میزبانی کررہا ہے۔
حماس کا سیاسی دفتر “2012 میں امریکی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کی غرض سے امریکی درخواست پر ہی کھولا گیا تھا.
موساد کی فہرست میں شامل بڑے ناموں میں اسماعیل ہنیہ، محمد دیف، یحییٰ سنوار اور خالد مشعل قابل ذکر ہیں۔

اسماعیل ہنیہ

60 سالہ ہنیہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں جو سابق فلسطینی وزیر اعظم ہیں۔ وہ 2017 میں حماس کے سیاسی بیورو کے
سربراہ کے طور پر منتخب ہوئے. 2006 میں فلسطینی وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ہنیہ کو زہر سے بھرے خط
کے ذریعے قتل کی سازش تیار کی گئی تھی لیکن خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے. ہنیہ رضاکارانہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں
وہ زیادہ تر قطر اور ترکی میں رہتے ہیں۔

محمد ضیف

محمد ضیف حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے سربراہ ہیں. انہیں اسرائیل کا نمبر ون دشمن قرار دیا جاتا ہے.
اسرائیلی حکام ان کے قتل کی کم از کم چھ کوششیں کر چکے ہیں. وہ 2015 سے “بین الاقوامی دہشت گردوں” کی امریکی فہرست
میں بھی شامل ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کی صبح سویرے اسرائیل پر فضائی، بحری اور زمینی حملےسے متعلق دنیا کو پیغام ان ہی کی آواز میں دیا گیا تھا.
اس اہم ترین پیغام کو “ال اقصیٰ سیلاب” کا نام دیا گیا تھا. یہ انتہائی خفیہ مقام پر رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں. آرٹیفشل
ٹیکنالوجی میں دنیا پر سبقت رکھنے والا اسرائیل کا معلوم کرنے میں ناکام رہا ہے.
اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ فلسطینی رہنما غزہ کی پٹی میں حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں.

یحییٰ سنور

61 سالہ سنوار عزدین القسام بریگیڈ کے سابق کمانڈر ہیں اور 2017 میں غزہ میں حماس کے سربراہ کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔
انہوں نے 2011 میں رہائی سے قبل اسرائیل کی جیلوں میں 23 سال گزارے ہیں. حماس کی قید سے رہائی پانے والی بعض
اسرائیلیوں نے سنوار کی وہاں موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔

خالد مشعل

خالد مشال حماس پولٹ بیورو کے بانی رکن ہیں اور 2017 تک چیئرمین تھے۔ حماس کے سیاسی مرکز قطر میں قیام پزیر
ہیں. غزہ جنگ کے بعد سے کئی مسلمان ممالک کے رہنماؤں سے انہوں نے قطر میں ہی ملاقاتیں کی ہیں.
1997 میں اردن میں موساد کے ایجنٹوں نے کینیڈا کے سیاحوں کا روپ دھار کر خالد مشعل کو زہر کے ذریعے شہید کرنے کی
کوشش کی تھی. ان پر ایک کان میں مہلک زہر چھڑکا گیا تھا. حماس کے جنگجوؤں نے موساد کی قاتل ٹیم کو پکڑلیا تھا.
خیال رہے 7 اکتوبر سے جاری اسرائیل کی جارحیت میں 20 ہزار فلسطینی شہید اور 40 ہزار زخمی ہوئے ہیں. غزہ مکمل طور
پر تباہ ہو چکا ہے.