حق کے متلاشیوں کا امام “حر ریاحی”

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
شہید کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے ہر کردار کو مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کیا ہے جو تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔ ایسا ہی ایک کردار حر ابن یزید ریاحی کا ہے۔
خانوادہ رسالت نے اپنی قربانی سے دین حق کا پرچم تاقیامت سربلند کر دیا۔ کربلا کا ہر کردار منفرد ہے، حُر بن ریاحی کا کردار شاید سب سے مختلف ہے۔ حُر دراصل حق کےمتلاشیوں کا ہیرو ہے۔
حُر بن یزید ریاحی ابن زیاد کے اُن چار کمانڈر میں شامل تھا جنہیں کربلا میں اپنے دستوں کے ہمراہ بھیجا گیا تھا۔ ابنِ زیاد نے حر ابنِ ریاحی کو خراسان کی حکومت کی پیشکش کر رکھی تھی اور شرط یہ رکھی تھی کہ امام حسینؑ کا کوفہ آنے سے روکو اور یزید کی بیعت پر راضی کرو۔

ذوحسم کے مقام پر حر نے امام کا راستہ روکا اور اُنہیں کوفہ نہ جانے دینے کا پیغام پہنچایا ۔حر کا لشکر پیاس سے جاں بلب تھا۔جس پر امام حسینؑ نے حکم دیا کہ حُرؑ کے لشکر کو بھی پانی پلایا جائے اور اُس کے گھوڑوں کو بھی۔ حر کربلا تک امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پہنچا اور نو محرم تک فوج اشقیا میں رہا۔
شب عاشور خیامِ حسینیؑ سے بچوں کے رونے کی آوازیں حر اور اس کے بیٹے کو بے چین کررہی تھیں۔ حُر بن ریاحی نے عمر بن سعد کو رعونت و تکبر کے ساتھ اپنے سپاہیوں کو یہ حکم دیتے سنا کہ میرے گھوڑوں کے سموں پر پانی ڈالو، گرمی کی شدت سے کہیں یہ جل نہ جائیں۔ قافلہِ حسینیؑ پر پانی بند کیا جاچکا تھا۔ بس یہ وہ مقام تھا جب حُر نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا، جیسے باطل سے حق کی طرف سفر کا فیصلہ کرچکا ہو۔

حُر اپنے بیٹے کے ہمراہ گھوڑے پر سوار ہوکر جھکی ہوئی گردن اور آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ خیامِ حسینیؑ کی جانب بڑھا تو امام حسینؑ اُس کا استقبال کرنے باہر آئے ۔ حر نے فقط اتنا کہا کہ مجھے معاف کردیجئے ابا عبداللہؑ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ لوگ آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہیں۔امام حسینؑ نے مسکراتے ہوئے حُر کو معاف کردیا ۔

کربلا میں قبیلہ بنی اسد کا کردار

وہ حُر بن ریاحی جس کے دل میں یہ ندامت شاید ہمیشہ رہ جاتی کہ کربلا میں اگر خانوادہ رسالت شہید ہوگا تو اس کی وجہ وہ ہوگا، اُس حُرؑ کے زخمی ہوکر گھوڑے سے گرنے پر اُس نے اپنا سر امام حسینؑ کے زانو پر پایا۔ امام حسینؑ نے حُر سے مخاطب ہوکر کہا کہ اے حُر تم اس دنیا میں بھی حُر تھے اور آخرت میں بھی حر رہوگے، بالکل اُسی طرح جیسے تمہاری ماں نے تمہارا نام حُر رکھا۔ اس کے بعد اپنی ماں سیدہ فاطمہؑ کا رومال حُر کی پیشانی پر باندھ کر ہمیشہ کے لیے حُر کی حریتؑ پر حسینی مہر لگا دی۔ حُر بن ریاحی کو اسی رومالِ زہراؑ کے ساتھ دفنایا گیا۔


شیئر کریں: