حضرت زینب کے خطبات اور یزید کی رسوائی

شیئر کریں:

تحریر بتول فاطمہ

کربلا میں قافلہ حسینی کے ایک ایک شریک کار کا کردار قابل رشک رہا ہے۔ لیکن کربلا سے
شام تک جس طرح امام حسین کی بہن جناب زینب سلام اللہ علیہ نے یزید کو رسوا کیا شائد ہی
کسی نے کیا ہو۔ سب سے بڑھ کے بی بی کے خطبہ نے یزیدیت کے مکرو چہرے کو دنیا کے
سامنے بے نقاب کردیا۔

یزید جتنا چھپا رہا ہے
حسین اتنا ہی چھا رہاہے

معرکا کربلا کے بعد یزید اور اس کے حواری اپنی قوت اور شر کے بل بوتے پر مقصد امام حسین کو چھپانے کی کوشش کررہے تھے۔ ایسے میں دنیا کے سامنے امام عالی مقام کی بہن جنھیں دین اسلام کی آبیاری کے لیےقربانی کی وجہ سے شریکتہ الحسین کہا گیا۔ ان کے خطبات نے یزید کے سارے عزائم خاک میں ملا دیے۔انھوں نے اپنے خطبات سے ایسے انقلاب کی بنیاد ڈالی جس نے تھوڑے ہی عرصے میں یزید کی ظالمانہ اور اسلام دشمن حکومت کا نام و نشان تک مٹا ڈالا۔
حیدر کرار اور سیدہ نساء العالمین کی عالمہ فاضلہ بیٹی بی بی زینب نے دربار یزید میں اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا
“تو سمجھتا ہے کہ تجھے دنیا مل گئی، تیرے معاملات منظم و مستحکم ہو گئے،ہمارا ملک تیرے قبضے مں آگیا اور ہماری سلطنت تجھے حاصل ہو گئی، ٹھہر جا جہالت سے اتنا نا اچھل کیا تو اللہ کا ارشاد بھول گیا” ۔

“ہر گز یہ خیال نہ کرو کہ ہم نے کافروں کو اس لیے مہلت دی ہے کہ اس میں ان کی بھلائی ہے بلکہ اس وجہ سے مہلت دی ہے کہ ان کے گناہ زیادہ ہو جائیں اور وہ ذلیل کرنے و الے عذاب میں مبتلا ہوں”۔
بی بی پھر ارشد فرماتی ہیں
“اے آزاد کردہ غلاموں کے بیٹے یہ تیرا نصاف ہے کہ تو اپنی بیویوں اور لونڈیوں کو تو پس پردہ رکھے اور رسول کی بیٹیوں کو قید کرکے دربدر پھرائے۔ تو نے ہماری ہتک
حرمت کی ۔ ہمارے چہروں کو بے نقاب کیا تیرے حکم سے ہمیں شہر شہر پھرایاجا رہاہے”۔
اسی طرح جب انھیں بازار کوفہ لے جایا گیا کہ لوگ آل رسول کی توہین کریں اور انھیں باغی کہیں۔ بی بی زینب نے غفلت میں ڈوبے لوگوں کو ان الفاظ میں جھنجھوڑا۔

“تم کیا کہو گے، کیا جواب دو گے جب سرکار رسالت تم سے فرمائیں گے ۔ارے تم نے آخری امت ہو کر یہ کیا کیا۔ میرے اہل بیت، میری اولاد اور میری عزت و حرمت کے ساتھ یہی کہ بعض کو ان میں سے قید اور بعض کو قتل کیا”۔
اسی طرح یزید کے سپاہ سالار ابن زیاد سے مخاطب ہوئیں۔
“اے ابن زیاد تو کہتا ہے کہ قتل حسین سے تیری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں لیکن حسین وہ تھے کہ جن کے دیدار سے رسول اللہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی تھیں، آنحضرت انھیں چومتے تھے، ان کے ہونٹوں کو چوستے تھے، حسین اور ان کے بھائی حسن کو پیٹھ پر بٹھاتے تھے”۔
بس تو عذاب الہی کی جو ابدی ہے کے لیے تیار ہوجا۔
بی بی زینب کے ان خطبات نےدربار یزید میں ہلچل پیدا کردی۔ یزید کو دربار سے بازار و کوچہ میں بغاوت پیدا ہوتی نظر آئی جس پر اس نے خوفزدہ ہو کر آل رسول کو قیدخانوں سے نکال کر واپس مدینہ بھیجنے میں ہی عافیت سمجھی۔


شیئر کریں: