جی ڈی اے نے انتخابی نتائج مسترد اور احتجاج کی کال دے دی

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے الیکشن نتائج کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کی کال دے دی۔ پہلے مرحلے میں 16 فروری بروز جمعہ کو حیدرآباد بائے پاس پر دھرنا دیا جائے گا دھرنے میں شرکت کے لیے دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کیے جائیں گے۔ جی ڈی اے کے سربراہ پیر صاحب پاگارہ کہتے ہیں کہ انتخابات کو اس لیے مسترد کرتے ہیں کہ یہ اینٹی اسٹیٹ الیکشن تھے جو کام بھٹو صاحب اور بے نظیر نہیں کرسکی وہ زرداری نے کردیا۔
مجھے کہا گیا کہ جی ڈی اے ختم کردیں ورنہ نتیجہ صفر ہوگا۔ خیرات میں دی گئی دو سیٹیں بھی اپنے پاس رکھ لیں یہ بات انہوں نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اہم اجلاس کی صدارت کے بعد پریس کانفرنس میں کی۔
اجلاس میں پیر سید صدرالدین شاہ راشدی، سید غوث علی شاہ، غلام مرتضی جتوئی، صفدر علی عباسی، لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سردار عبدالرحیم ،سید زین شاہ، ایاز لطیف پلیجو، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، عرفان اللہ مروت، جلال شاہ جاموٹ، راحلیہ گل مگسی، بیرسٹر حسنین مرزا، محمد خان جونیجو، راشد شاہ راشدی، سائرہ بانو، عبدالرزاق راہموں، جام نفیس، غلام دستگیر راجڑ، نند کمار گوکلانی، مسرور خان جتوئی، سید زوہیب شاہ، روشن برڑو، امیر آزاد پہنور، دیدار جتوئی، ارباب انور، محسن مگسی سمیت دیگر شریک تھے۔
پیر صاحب پاگارا نے کہا کہ ان انتخابات کو ریاست مخالف الیکشن اس لیے کہتا ہوں کہ اکہتر میں بھٹو صاحب کی 60 نشستیں تھیں اور مجیب الرحمٰن کی 107 نشستیں تھیں۔ اکثریتی رائے کو تسلیم نہ کرکے جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے لہذا ہمارے اداروں کو سوچنا ہوگا انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پندرہ سالہ بدترین کارکردگی کے بعد ایسے نتائج کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ پیر صاحب پاگارا نے کہا کہ مجھے کسی دوست نے جی ڈی اے ختم کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ فنکشنل مسلم لیگ کے تحت الیکشن میں حصہ لیں اور زرداری کے ساتھ الائنس بنا لیں تو آپکو اپنی قومی اور صوبائی کی نشستیں مل جائینگی لیکن میں نے کہا کہ جی ڈی اے ختم نہیں کرسکتا تو جواب میں کہا گیا کہ پھر نتیجہ صفر ہوگا۔
جی ڈی اے کے سامنے صفر لکھا ہوا تھا اور ایم کیو ایم کے سامنے پندرہ لکھا ہوا تھا پیر صاحب پاگارا نے کہا کہ یہ آر اوز کا کام نہیں ہے یہ آر اوز کے بس کی بات نہیں ہے۔ پورا صوبہ زرداری کے حوالے کرنا تھا تو الیکشن کی کیا ضرورت تھی ہم اینٹی اسٹیٹ لوگ نہیں ہیں یہ ملک ہے تو ہم ہیں میرے والد نے ہمیشہ فوج کی حمایت کی وہ 1954 سے جی ایچ کیو کے ساتھ رہے اور ہمیں بھی ہمیشہ یہی مشورہ دیا کہ فوج کے ساتھ چلنا ہے لیکن جہاں آپکو عزت اور انصاف نہ ملے تو وہاں ہم احتجاج کا تو حق رکھتے ہیں ہم اس بوگس الیکشن کے خلاف پرامن احتجاج کریں گے۔
انہوں نے کہا ہمیں دو نشستیں خیرات میں ہیں ؟ یہ دو نشستیں بھی ہم واپس کرتے ہیں یہ سیٹیں بھی زرداری کو دے دیں اسے ضرورت ہے۔ پیر صاحب پاگارا نے کہا یہ باجوہ صاحب جاتے جاتے ایک پنڈورہ باکس کھول گیے کہ سانحہ بنگلہ دیش سیاستدانوں کی وجہ سے ہوا تو باجوہ صاحب بتائیں اس وقت صدر کون تھا ؟ یہ سیاسدانوں پر زمہ داری کیوں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر عوام کا شدید دباؤ ہے ہم قانون کے دائرہ میں رہ کر احتجاج کرینگے ہمارے احتجاج میں ایمبولینس کو کوئی نہیں روکے گا نہ فیملی کی گاڑیوں کو روکا جائیگا ایک سوال کہ آپ کے احتجاج سے اسٹبلشمنٹ ناراض ہوگئی تو کے جواب میں پیر صاحب پاگارا نے کہا کہ بیٹا باپ سے ناراض ہوتا ہے تو وہ بھی گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے پیر صاحب پگارا نے کہا کہ عمران خان میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے لیکن اس الیکشن میں پی ٹی ائی کے نوجوانوں نے جو کردار ادا کیا اس پر انہیں سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس موقع پر جی ڈی اے رہنما صفدر عباسی نے کہاکہ ہم 16 فروری بروز جمعہ حیدرآباد بائے پاس پر دھرنا دینگے ہم اپنے احتجاج کے دائرہ کار کو بڑھایینگے دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کرینگے اجلاس کے روز سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرینگے ہمارے دو ارکان اسمبلی حلف نہیں لیں گے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نثار درانی نے اس الیکشن کو سبو تاژ کیا ہے اس نے زرداری کو پورا پورا فایدہ پہنچایا ہے ہمیں عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ قبول نہیں انہوں نے کہا ہم لاڑکانہ واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں افسوس کہ جن پر فائرنگ ہوئی جو مارے گئے انہیں پر مقدمات قائم کردیے گیے۔ آج مرتضی جتوئی صاحب اور عرفان اللہ مروت کے خلاف انسداد دہشتگردی کے کیسز بنا دیئے گیے لیاقت جتوئی کے کزن پر مقدمہ بنایا گیا یہ انتقامی کارروائیاں ہیں کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔
صفدر عباسی کا کہنا تھا کہ پیر صاحب پاگارا سولہ فروری کے احتجاج کی قیادت کرینگے ہم جی ڈی اے کو پیر صاحب کی قیادت میں آگے لیکر جائیں گے۔ دھرنے میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے۔ احتجاج کے سلسلے میں تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔