جو آپ کا کام نہیں اس میں ٹانگیں نہ اڑائیں

شیئر کریں:

تحریر امبرین خان
میں جو بھی لکھتی ہوں بہت سے لوگ اس سے ری لیٹ کر رہے ہوتے ہیں اور مجھے کہا
جاتا کہ اکثر امبر ہماری زندگی میں ایسا ہی ہے۔
اور بہت کم رائٹرز ہوں گے جو آب بیتی لکھتے ہوں گے زیادہ تر تو تجربے اور مشاہدے
کی بنیاد پر ہی لکھتے ہیں۔
جیسے جن جن لوگوں نے آزادی پر کتابیں لکھیں وہ اکثر جیل یعنی قید میں ہوتے تھے اور
آزادی پر کتابیں لکھتے تھے۔

میں اگر کبھی سیاست پر کچھ لکھتی ہوں تو وہی لکھ سکتی ہوں جو دیکھا ہوتا یا جو لوگوں
کو برداشت کرتے دیکھتی ہوں۔
اسی طرح میں بہت عرصے سے اس موضوع پر لکھنا چاہ رہی تھی کہ مردوں کے مقابلے میں
عورتوں کی لکھی ہوئی بات کو زبان سے نکلے الفاظ کو یا سوچ کو زیادہ پرکھا جاتا ہے۔

عورتوں پر مردوں‌ کو ترجیح کیوں؟

یہ بولا تو کیوں بولا، یہ لکھا تو لازمی اس کی لائف میں ایسا ہی چل رہا ہو گا مطلب
عدالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
یہ بہت مشکل بات ہوئی ہے کہ آپ اوور آل یعنی کوئی عام بات کرتے ہوئے بھی سو دفعہ سوچو،
کوئی تحریر اچھی لگ جائے تو اس کو شئیر اس وجہ سے نہیں کر پاتے کہ عوام کی عدالت میں جو
سوال ہوں گے اس کا جواب نہیں دے سکتے۔

لوگ پرسنل لیول پر پرکھنا شروع کر دیتے ہیں اور خاص طور پر وہ لوگ ذاتیات پر اتر آتے ہیں
جو بحث میں ہار جاتے ہیں۔
کسی بھی کتاب کے ٹائٹل سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ اندر پانچ سو یا سات سو صفحات پر کیا
لکھا ہو گا یا کسی فلم کے نام سے اس کی کہانی نہیں بنائی جاسکتی۔

لوگوں‌ کو جج کرنا کب چھوڑیں‌گے

خدارا لوگوں کو جج کرنا چھوڑ دیں اگر لوگ آپ کو مڑ کر جواب نہیں دے رہے تو اس کا مطلب ہے
ان کی زندگی میں آپ سے اہم بھی اور کام ہیں لیکن کسی حد تک یہ بھی درست ہے کہ اگر فارغ اور
ویلے لوگ دوسروں کی زندگی بارے اندازے نہیں لگائیں گے اور تکے نہیں ماریں گے تو وہ اور کیا کریں گے۔

ٹانگ اڑنا ضروری ہے کیا؟

جو کام آپ کا نہیں اس میں ٹانگیں نہ اڑائیں اور جو کام آپ کا ہے اس میں کسی کو انٹرفئیر مت کرنے دیں۔
ایک دفعہ کسی سے سنا تھا کہ محبت، سوچ اور دعا تین ایسی چیزیں ہیں جس کو کوئی روک نہیں سکتا۔
جیسے کسی کی سوچ کو آپ پکڑ نہیں سکتے محبت کو آپ کنڑول نہیں کر سکتے اور دعا کو آپ روک نہیں سکتے۔

اور کیا خوبصورت لائن میں نے پڑھی کہ اگر دوسروں کو دکھ دے کے آپ کو خوشی ملتی ہے تو آپ نفسیاتی
طور پر ہر حد تک بے غیرت ہیں۔
لیکن پھر بھی جو آپ سے بغیر مقصد کے نفرت کرتا ان کو نفرت کا مقصد دیجیے اور مزید کامیابی حاصل کیجیے۔
ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں عزت سب کی کریں لیکن عزت کرنے کی شروعات خود سے کریں۔
اگر خود کی عزت ہو گی تو باقی سب بھی باعزت ہی نظر آئیں گے ورنہ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔
باقی باتیں اگلے بلاگ میں صحیح

ماہواری میں استعمال کی جانے والی چیزیں خواتین کو مفت فراہم ہوں گی


شیئر کریں: