جوڑواں بچوں “کورونا” اور “کووڈ” کی پیدائش

شیئر کریں:

کرہ ارض پر کورونا وائرس نے لوگوں سے ان کا سک چین چھین لیا وہیں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے کورونا وائرس کوڈ 19 کو ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔
بھارت میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کے نام ان کے والدین نے مہلک وائرس کے نام ہی پر رکھ دیے ہیں۔
کشمیری عوام کے خلاف دنیا پہلا طویل ترین لاک ڈاؤن کرنے ملک بھارت کے عوام کے اعصاب پر کوروناسوار ہو چکا ہے۔
ہندو مذہب کے پیرو کار والدین نے نومولود جڑواں بچوں کےنام “کورونا ” اور “کووڈ ” رکھ دیے۔
بچوں کے والدین بھی کچھ زیادہ ہی اسمارٹ ہیں کہتے ہیں وائرس نے لوگوں کو صاف ستھرا رہنے اور حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنےکی عادت ڈالی۔
اس عادت نے انہیں مجبور کیا کہ بچوں کو ہمیشہ ہم انہی ناموں سے پکاریں گے۔
کورونا اوکووڈ کے والدین کہتے ہیں یہ بچےانہیں تمام عمرمہلک وائرس کے ہاتھوں درپیش مصائب و آلام کی یاد دلاتے رہیں گے۔
بچوں کی پیدائش ایسے نفسا نفسی کے انتہائی مشکل حالات میں ہوئی ہےجب کوئی ایک دوسرے کو سہارا بھی نہیں دے پارہا ہے۔
ایسی صورت حال میں منفرد ناموں کی وجہ سے جڑواں بچے پورے اسپتال کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔


شیئر کریں: