جوا کھیلے مالک اور مرغا ڈنڈے کھائے قید کاٹے

شیئر کریں:

سندھ کے شہر گھوٹکی میں جوا کھیلنے والے شخص کے مرغے کو پولیس نے پکڑ لیا۔
مالک پکڑا میں پولیس کامیاب نہیں ہوئی لیکن مرغے کو 8 ماہ تحویل سے رکھا گیا۔

ضلع گھوٹکی کی عدالت نے آٹھ ماہ سے پولیس کی تحویل میں مرغے کو مالک کے
حوالے کرنے کا حکم دیا۔

جواری مالک کا پالتو ہونا اور مالک کی لگائی گئی شرط جیتنے کیلئے حریف مرغے
سے لڑنا اس کا جرم بن گیا۔

سندھ کے ضلع گھوٹکی میں مرغے لڑانے کے جرم میں ظفر میرانی کو گرفتار کیا۔

کارروائی کے دوران جوئے پر لگائی گئی رقم کے ساتھ مرغا بھی پولیس نے تحویل میں لے لیا۔

ملزم ظفر میرانی نے وکیل کیا اور عدالت سے ضمانت پر رہا ہو گیا
لیکن مرغا تھانے میں ہی بند رہا۔

مرغا نہ تو وکیل کر سکا اور نہ ہی انسانوں کی عدالت میں معزز جج کے
سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرسکا۔

پولیس کہتی ہے مرغا بطور کیس پراپرٹی تحویل میں لیا گیا عدالت کے فیصلے
تک اس کا تحفظ تھانہ کی ذمہ داری ہے۔

تھانے میں مرغوں کیلئے حوالات نہ ہونے پر اسے سرکاری مال خانے میں جمع کروایا جاسکتا ہے۔
اس لئے ٹانگ سے رسی باندھ کر درخت سے باندھا گیا۔

مرغا جب پولیس کی جیب پر بھاری پڑنے لگا تو مالک سے سپردگی کی
درخواست عدالت میں جمع کروا دی۔

منظوری کے بعد مرغا ظفر میرانی کے حوالے کیا گیا۔

مرغا گھر تو چلا گیا لیکن پولیس اور عدالتی نظام پر سوال چھوڑ گیا۔

کیس پراپرٹی یا مال مسروقہ تو سرکاری مال خانے میں جمع ہوجاتا ہے لیکن
جاندار مال مسروقہ کے لئے کوئی قانون ہے؟

ایک بے زبان پالتو جانور کو اس کے مالک کے جرم میں کیسے شریک کیا جاسکتا ہے؟

اگر ملزم یا مجرم انسان کیلئے ضمانت پر رہائی کا قانون ہے تو پھر بے زبان جانور
کس عدالت میں فریاد کرے گا؟

دنیا میں پالتوں جانوروں کیلئے قانون ہیں کیا وطن عزیز کے قانون ساز اس بارے میں سوچتے ہیں؟
سزا کا مستحق کون ہے؟


شیئر کریں: