جوئین مارنے والی دوا کورونا مریضوں کے لیے موثر ثابت

شیئر کریں:

بچوں اور خواتین میں جوئیں مارنے والی عام دوا ’آئیورمیکٹِن‘ حالیہ کورونا وبا میں دنیا بھر میں استعمال ہوئی ہے۔
پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر کے بعد اب لندن میں بھی اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

گیارہ مختلف ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ آئیورمیکٹن کووڈ 19 سے اموات کو ڈرامائی طور پر 80 فیصد کم کرسکتی ہے
اگر کورونا سے 100 افراد موت کے منہ میں جارہے ہوں تو ان میں سے 80 افراد تک بچ سکتے ہیں یا محفوظ رہ سکتے ہیں۔
لیورپول یونیورسٹی کے ماہرِ وبائیات ڈاکٹر اینڈریو ہِل نے یہ تفصیلی تجزیہ کیا ہے اور انہوں نے موت
کے منہ میں جانے والے انتہائی سیریئس مریضوں کے لیے اس دوا کو ایک ڈرامائی اور اہم ترین دوا قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ 1970 میں تیار کی جانے والی آئیورمیکٹِن کھائی جاتی ہے
اور کریم کی شکل میں جلد پر لگائی جاتی ہے۔
اس طرح یہ جسمانی پیراسائٹس کو ختم کرتی ہے۔
یہ دنیا میں عام استعمال ہورہی ہے لیکن کورونا وائرس سے متاثر ہونے
والے شدید بیمار افراد کےلیے بھی اس کے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

مصر میں کورونا کے درمیانے درجے کے آثار والے 100 مریضوں کو آئیورمیکٹِن دی گئی
تو پانچ روز میں ان کی تمام علامات جاتی رہیں۔
لیکن اگلے 100 مریضوں کو یہ دوا نہیں دی گئی تو ان کی وبا ختم ہونے میں 10 دن لگے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی بعض مریضوں پر آئیورمیکٹِن
آزمائی گئی ہے اور وہاں بھی اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔


شیئر کریں: