جنگ، ایکسپریس اور دنیا گروپ کو اربوں روپے کے اشتہارات کیوں دیے گئے؟

شیئر کریں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں وزارت اطلاعات نے سال 2013سے لیکر 2018اور سال 218سے نومبر2021تک میڈیا اداروں کو
دیئے گئے سرکاری اشتہارات کی تفصیلات پیش کردیں۔
جنگ گروپ کو 2013سے2018تک تین ارب بارہ کروڑ بتیس لاکھ روپے کے اشتہارات دیئے گئے۔
مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں جنگ گروپ کو سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات دیئے گئے۔
مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور2013سے 2018تک دنیا گروپ کو ایک ارب گیارہ کروڑ بارہ لاکھ کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے۔
مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں ایکسپریس گروپ کو ایک ارب ستر کروڑ ستر لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے سولہ دیگر میڈیا اداروں کو مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور 2013سے 2018آٹھ ارب چورانوے کروڑ بیس لاکھ کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے۔
مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں نیو نیوز کو گیارہ کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے۔
موجودہ حکومت میں سات جولائی 2018سے لیکر اٹھائیس نومبر 2021تک جنگ گروپ کو ایک ارب آٹھ کروڑ چوراسی لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے۔
موجودہ حکومت کے دور میں اب تک دنیا گروپ کو چھپن کروڑ ترانوے لاکھ روپے کے اشتہارات دیئے گئے ۔
موجودہ دور حکومت میں ایکسپریس گروپ کو ننانوے کروڑ بیس لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے
موجودہ دور حکومت میں پندرہ دیگر میڈیا اداروں کو تین ارب سڑسٹھ کروڑ روپے کے اشتہارات دیئے گئے
موجودہ دور حکومت میں تین کروڑ باون لاکھ روپے کے وفاقی سرکاری اشتہارات دیئے گئے
مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں اے آر وائی کو آٹھ کروڑ پچاس لاکھ کے اشتہارات دیئے گئے
موجودہ حکومت میں پندرہ کروڑ تیس لاکھ روپے کے اشتہارات دیئے گئے ہیں
مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں سما نیوز کو اٹھارہ کروڑ چھیاسی لاکھ روپے کے اشتہارات جاری کئے گئے
موجودہ دور حکومت میں سمانیوز کو بارہ کروڑ روپے کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے
پی ٹی وی کو موجودہ دور حکومت میں گیارہ کروڑ روپے کے سرکاری اشتہارات دیئے گئے۔
پی ٹی وی کو مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور حکومت میں اکیس کروڑ چوراسی لاکھ روپے کے اشتہارات دیئے گئے۔


شیئر کریں: