جموں کشمیر کے انتظامی امور سے مسلمانوں کو الگ کر دیا گیا

شیئر کریں:

بھارت نے جموں کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کے بعد اب مقامی افراد کو انتظامی
امور سے بھی علیحدہ کر دیا ہے۔

مودی حکومت نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مقامی
لوگوں کی حکومتی اور انتظامی امور سے نمائندگی یکسر ختم کردی ہے۔

گزشتہ سال پانچ اگست کو آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مودی سرکار اپنے
عزائم تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔

ایک سال بعد حکومتی ایوانوں کے دروازے مسلمانوں کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر جی سی مورمو کی زیر صدارت بیوروکریٹس کا اجلاس ہوا۔
اجلاس کی تصاویر نے جموں و کشمیر سمیت بھارت میں شدید تشویش پیدا کردی۔

اجلاس میں شریک 19 افسران میں صرف ایک مسلمان فاروق احمد لون تھے
باقی کا تعلق بھارت سے تھا۔

جموں کشمیر میں 97 فیصد مسلمان ہیں لیکن حکومت میں ان کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔

مودی کی انتہا پسندانہ پالیسی کے خلاف بھارت میں بھی اٹھائی جانے والی آوازوں میں شدت آگئی ہے۔

بھارتی کہتے ہیں اس برے انداز میں تو برطانیہ نے بھی برصغیر پر حکومت نہیں کی۔

برطانوی دور میں بھی مقامی لوگوں کو آبادی کے تناسب سے لازمی نمائندگی دی جاتی تھی تاکہ
وہ اپنے لوگوں کے مسائل حل کرسکیں۔

بی جے پی حکومت نے کشمیریوں کو قید کرکے بھارتی حکمرانوں کو معصوم
کشمیریوں پر مسلط کر دیا ہے۔

آرٹیکل 35اے کو ختم کرکے ہندوں کو مقبوضہ کشمیر کی بنیادی پوزیشنز پر
نوکریاں دی جارہی ہیں۔

کشمیر کے لوگوں کے اتنی بری صورت حال ڈوگرہ راج میں بھی نہیں تھی۔
مودی حکومت کا کشمیری رہنماؤں کے ساتھ بھی دوغلا سلوک جاری ہے۔

عمر عبداللہ سمیت وہ کشمیری سیاست دان جن کے مودی حکومت کے لیے موقف میں
نرمی آرہی ہے انہیں آزاد کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف سخت موقف پر قائم جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کی
قید میں تین ماہ کی مزید توسیع کردی گئی۔


شیئر کریں: