جموں و کشمیر میں فسادات کی نئی سازش

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

جموں و کشمیر پر بھارت کا غیرقانونی غاصبانہ قبضہ برقرار ہے۔
اس پر مسلسل بات کی جارہی ہے اور کیوں نہ کی جائے جس کے سینے میں دل ہے وہ
انسانیت کے لیے ضرور دھڑکتا رہے گا۔


اس تحریر کے ذریعے میں بھارت کی جموں کشمیر میں فسادات کی سازش کو بے نقاب کرنا چاہتا ہوں۔

فسادات کی نئی سازش

مودی سرکار نے انتہا پسندی کا نظریہ پھیلانے والے اپنے کارندوں کو مقبوضہ وادی میں چھوڑ دیا ہے۔
جموں اور کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کر کے بھارت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے
2 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ بھی بنالیا ہے۔
ان دو لاکھ گھروں میں بھارت کی ریاستوں سے ہندووں کو لاکر بسایا جانا شروع کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 30 ہزار سے زائد انتہا پسند ہندووں کو مقبوضہ کشمیر بھیجا جا چکا ہے۔
بی جے پی حکومت ان 30 ہزار کارندوں کی مدد سے وادی میں منظم فسادات کروانے کی سازش کر رہی ہے۔
فسادات کے ذریعے غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی وادی جموں اور کشمیر میں ہندوؤں کی آبادکاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اسی لیے بھارتی فوج روزانہ کی بنیاد پر آر ایس ایس، شیو سینا اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کے
دہشت گردوں کو مقبوضہ وادی منتقل کر رہی ہے۔

قتل و غارت گری بھی حوصلے پست نہ کر سکی

بھارتی حکومت کشمیر میں ہندوؤں کو بسانے کے لیے کشمیریوں کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت
پانچ اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرچکی ہے۔
جموں و کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضہ کو ایک سال ہو رہا ہے اس دوران وہاں انسانی
حقوق کی خلاف ورزیاں انتہا پر پہنچ چکی ہیں۔
ایک سال قبل پانچ اگست کو نہ صرف جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی
گئی بلکہ ہندتوا نظریے کی پیروکار بھارتی حکومت نے معصوم کشمیریوں کو وادی میں قید بھی کردیا۔

لداخ، جموں ‌اور کشمیر پر صرف یوم سیاہ کافی؟

دنیا کے کسی بھی خطے میں ایک سال کے طویل عرصہ تک لاک ڈاون اور غیرقانونی کرفیو کی مثال نہیں ملتی۔
مودی حکومت کی سفاکانہ پالیسی بھی کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں کوئی کمی نہ لاسکی۔
آزادی کا جذبہ نسل در نسل منتقل ہورہا ہے اور معصوم کشمیری قابض بھارتی فوج کے خلاف سینہ سپر ہیں۔
ایک سال کے دوران بھارتی افواج نے نام نہاد آپریشنز کی آڑ میں سیکڑوں معصوم کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
سیکڑوں عورتوں کے سہاگ اجاڑ دیے گئے اور بچوں کے سر سے باپ کا سایہ بھی چھین لیا گیا۔
لیکن اس کے باوجود بھارتی ظلم و جبر کے خلاف کشمیر کا بچہ بچہ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔

نام کیوں بدلے جارہے ہیں؟

کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکامی پر اب مودی سرکار نے کشمیر میں علاقوں کے نام تبدیل کرنا شروع کردیے ہیں۔
شیخ عبداللہ سے منسوب کئی علاقوں کے نام تبدیل کر کے سردار پٹیل اور دیگر بی جے پی کے رہنماؤں سے منسوب کردیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی کنونشن سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور سری نگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم سمیت کئی عمارتوں کے نام ہندوؤں سے منسوب کیے جا چکے۔
یہی نہیں ریڈیو کشمیر سری نگر کا نام بھی تبدیل کرکے آل انڈیا ریڈیو سری نگر رکھ دیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت بے بنیاد مقدمات کے تحت کشمیریوں کی زمین ہتھیا رہی ہے۔

فلسطن طرز پر کشمیر میں آبادکاری

کشمیری علاقوں میں بالکل فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کی طرح یہودیوں کی طرز پر ہندووں کی بستیاں آباد کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی سوا دو ارب ہے لیکن بدقسمتی سے کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اخلاقی اور سیاسی اعتبار سے صرف پاکستان کے 22 کروڑ عوام ہی کھڑے ہیں۔
بھارت نے جموں کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے جہاں مظالم ایسے ڈھائے جارہے ہیں جس کی مثال دور جدید میں کہیں نہیں ملتی۔
ہٹلر نے بھی یہودیوں پر شائد وہ مظالم نہیں ڈھائے ہوں گے جو مودی نے کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے ہیں
جہاں کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ ان کی زمینیں بھی ہتھیائی جارہی ہیں۔
اب تک چالیس ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کو غیرقانونی طور کشمیر کے ڈومیسائل جاری کیے جا چکے ہیں
اس صورت حال میں بھی بدقسمتی سے مسلمان ممالک انسانیت پر تجارت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بھارت نے مسلمان بھائی بہنوں کو اسیر بنا رکھا ہے اور بے جرم و خطا ماورائے عدالت قتل بھی کر رہا ہے لیکن مسلمان ممالک نے اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک بڑے پیمانے پر بھارت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
یعنی مسلمان ممالک بھارت کی ڈوبتی معیشت کو سہارہ دے کر کشمیریوں پر ظلم و ستم میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔

جس طرح مسلمان ملک باالخصوص عرب ممالک فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف خاموش رہے ہیں کشمیر کے معاملے پر بھی یہی بے حسی والی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
مودی سرکار دور جدید میں ہٹلر طرز کے مظالم کشمیریوں پر ڈھا رہی ہے اور سب خاموش بیٹھے ہیں۔مشرق وسطی میں اپنے اقتدار کو طول رکھنے کے لیے عرب ممالک بدقسمتی سے اسرائیل اور بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

 

ہندو پنڈت میدان میں آگئے لیکن مسلمان بدستور مصلحت پسندی کا شکار

 

بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کے خلاف مسلمان ممالک تو خاموش ہیں لیکن اب پندو پنڈت میدان میں آگئے ہیں۔
کشمیر کے پنڈتوں نے بھی آواز اٹھانی شروع کردی ہے مودی سرکار سے وہ کہتے ہیں اپنے لوگوں کے ساتھ جنگیں نہیں لڑی جاتیں۔
مائیگریٹ کشمیری پنڈت آرگنائزیشن کے چیئرمین ستیش مہالدار نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پنڈتوں نے فوری طور پر مفاہمت، راحت، سکھ ، چین اور بحالی کے کام شروع کرنے پر زور دیا ہے۔
ستیش مہالدار کے مطابق بھارت کے آئین میں سب کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔
بھارت کا آئین برادری ، مذہب، علاقائی اور سماجی سطح پر کسی سے تمیز نہیں کرتا سب کے یکساں حقوق ہیں۔
پنڈتوں کا ماننا ہے کہ کسی کے بھی ساتھ زات پات اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا سکتا۔
کسی بھی جمہوری ملک میں سیاسی مسئلہ کا حل فوجی آپریشن کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے راستہ نکالا جاتا ہے۔
کبھی بھی اپنے لوگوں پر جنگ مسلط نہیں کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے مودی سرکاری ایسا کر رہی ہے۔
کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسائل حل کرنے کے لیے ان کی قانون ساز اسمبلی موجود ہے وہ اپنے مستقبل کا بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔
یہی بھارت اور خطے کے لیے بہتر ہو گا۔
جموں کشمیر ہی کو خصوصی حیثیت حاصل نہیں تھی بلکہ کئی اور ریاستوں کو خصوصی حیثیت کے تحت اپنی زندگی گزر رہی ہیں۔
ان ریاستوں میں آرونا چل پردیش، آسام،ہما چل پردیش، منی پور، میگھالے، میزورام، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ، اترپردیش اور اتراکھنڈ آئین کی شق 371 اور 371 اے سے ایچ قوانین کے تحت اپنا نظام چلارہی ہیں۔

پھر یہ کیا وجہ ہے کہ لداخ، جموں اور کشمیر کو حاصل مخصوص حیثیت ختم کر دی گئی؟

بھارت کی دس ریاستیں اسپیشل کیٹیگری اسٹیٹس کے تحت چلائی جارہی ہیں یہ وہ ریاستیں ہیں جو جغرافیائی سطح پر دور دراز، سرحدوں کے قریب یا پہاڑی علاقوں میں ان کی ریاست زمہ داری اٹھاتی ہے۔
یہاں معاشی اور تجارتی سرگرمیاں دیگر شہروں اور ریاستوں کی طرح نہیں ہو سکتیں۔
ان ریاستوں میں تمام ترقیاتی کام پر 90 فیصد سرمایہ کاری مرکزی حکومت کرتی ہے اور صرف فیصد زیرو سود پر ریاست نے واپس کرنے ہوتے ہیں
جموں اینڈ کشمیر کو آئین کی شق 370 کے تحت اسپیشل اسٹیٹس اور 35 اے کے تحت اسپیشل کیٹیگری اسٹیس حاصل تھا جسے ختم کر کے بھارت کی یونین میں شامل کر لیا گیا ہے۔

تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعد میں عوامی رائے کے خلاف غیرقانونی طور پر انڈیا سے الحاق پرمشروط آمادگی ظاہر کردی۔
بھارت نے نہ صرف اس معاہدے کی خلاف ورزی کی بلکہ بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کے اس خصوصی حیثیت کو بھی ختم کردیا۔
بی جے پی کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اے کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔
اب جموں و کشمیر کے داخلہ امور وزیراعلیٰ کی بجائے براہِ راست وفاقی وزیرِ داخلہ کے تحت آ گئے۔

لداخ، جموں اور کشمیر کا انتظام غیرقانونی طور پر لیفٹیننٹ گورنر سے چلایا جا رہا ہے۔
یہاں آرٹیکل 35 اے کی تشریح بھی ضروری بنتی ہے۔
آرٹیکل 35 اے کے تحت ریاست کے باشندوں کی بطور مستقل باشندہ پہچان تھی اور انھیں بطور مستقل شہری خصوصی حقوق ملتے تھے۔
آئین کی شق 35 اے کے بعد بھارت بھر کے ہندووں کو غیرقانونی طور پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کیے جارہے ہیں بلکہ انہیں مقامی زمین خریدنے کا مجاز بھی قرار دیے دیا گیا ہے۔
اس ساری صورت حال میں مسلم دنیا کو بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر آج مسلم امہ اس صورت حال پر بھی خاموش رہی تو اس کے نتائج ان کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔
مسلم دنیا کو اس ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تاریخ کبھی مسلم رہنماوں کو معاف نہیں کرے گی۔


شیئر کریں: