جسٹس عظمت سعید شیخ نے براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن سے ہاتھ کھڑے کر لیے

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) عظمت سعید نے “براڈ شیٹ اسکینڈل” کے تحقیقاتی کمیشن کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے جس پر وفاقی حکومت کی طرف سے مجوزہ انکوائری کمیشن کے قیام اور جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کا بطور سربراہ تقرر کا باضابطہ اعلامیہ یعنی سرکاری نوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے۔
معلوم ہوا ھے کہ مقتدر قوتوں کے بھی “براڈ شیٹ اسکینڈل” کی تفصیلی چھان بین پر شدید تحفظات ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقتدر حلقے نہیں چاہتے کہ ایسے کسی سنگین اسکینڈل کی تحقیقات سے ایک ایسا نیا پنڈورا بکس کھل جائے جس کے نتیجے میں سویلین ملٹری تعلقات میں دراڑ پیدا ہو کیونکہ اس معاملے کی چھان بین کے امکانی نتائج سے بنی گالہ اور جی ایچ کیو کے مابین فاصلے بڑھ جانا ناگزیر دکھائی دیتا ھے۔
باور کیا جاتا ہے کہ “براڈ شیٹ اسکینڈل” کی تحقیقات کے امکانی نتائج سے سب سے زیادہ منفی اثرات قومی سلامتی کے ذمہ دار عسکری ادارے اور اس سے جڑی حساس ایجنسیوں کی ساکھ کو پہنچے گا جبکہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر اعتماد ہے کہ سیاسی محاذ پر حکومت اور پی ٹی آئی کو اس اسکینڈل کی چھان بین سے کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔
البتہ دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں بالخصوص “نون لیگ” کی قیادت کی ساکھ کو شدید ٹھیس پہنچے گی۔

ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ جسٹس عظمت سعید شیخ نے غیر رسمی انداز میں “براڈ شیٹ اسکینڈل” کی انکوائری کمیٹی / کمیشن کی سربراہی سمیت مجوزہ کمیٹی / کمیشن کے تفتیش کاروں میں کسی طور بھی شرکت کی ذمہ داری قبول کرنے سے معذرت کرلی ھے اور وفاقی حکومت کو غیر رسمی طور پر اس بابت آگاہ کر دیا ھے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) عظمت سعید نے وفاقی حکومت کی طرف سے اپنے ساتھ رابطہ کرنے والے حلقوں سے خرابی صحت کی بنا پر یہ ذمہ داری قبول کرنے سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ھے “میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں یہ اھم ٹاسک انجام دے سکوں ، مجھے نہیں لگتا میں تحقیقاتی کمیٹی / کمیشن کے ہیڈ کے طور پر ذمہ داری بخوبی ادا کر پاؤں گا۔”

یہاں یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ بنیادی طور پر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جسٹس (ر) عظمت سعید عنفوانِ شباب اور اپنے کیریئر کے ابتدائی زمانے میں اچھے خاصے”کامریڈ عظمت سعید” رہے ہیں۔
ترقی پسند اور روشن خیال شخصیت کے مالک عظمت سعید بائیں بازو کے خیالات کے حامل رہے ہیں۔
1980 میں جب وہ بطور وکیل اپنا کیریئر شروع کرنے کی غرض سے مستقلاً لاہور شفٹ ہوگئے تھے تو اس زمانے میں انہیں “مزدور کسان پارٹی” کے معروف رہنما میجر اسحاق کا قرب حاصل رہا۔
یہاں تک کہ وہ میجر اسحاق کے دست راست بھی سمجھے جاتے تھے اور اپنی جوانی میں جسٹس (ر) عظمت سعید کو میجر اسحاق کے ساتھ ان کا بیگ اٹھا کے چلتے دیکھا جاتا رہا۔
لاء پریکٹس شروع کرنے کے بعد وہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانون دان رضا کاظم کے ایسوسی ایٹ کے طور پر ان کے لاء چیمبر سے منسلک رہے۔
رضا کاظم سابق جسٹس اخلاق حسین کے صاحبزادے اور نامور صحافیوں نسیم زہرہ اور عباس کاظم کے بھائی ہیں جو اسی طرح “اٹک سازش کیس” کی فوجی چھان بین میں زیرِ تفتیش رہے ہیں جس طرح میجر (ر) اسحاق “پنڈی سازش کیس” کے زیر عتاب کرداروں میں شامل تھے۔

جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کو ججی سے ریٹائر ہونے کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) اور شوکت خانم کینسر اسپتال کے بورڈز آف گورنر میں شامل کر لیا گیا تھا۔
بطور جج وہ مجموعی طور پر آزادانہ ذہن کے ساتھ فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔


شیئر کریں: