توشہ خانوں سے وزرائے اعظم کس طرح لوٹ مار کرتے رہے؟

شیئر کریں:

دوست ممالک کے دوروں کے دوران سربراہان مملکت اور وزراء کو تحائف ملنا معمول کی بات ہے۔ بادشاہوں کے دور سے شروع ہونے والی یہ روایت آج بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے۔پاکستان میں صدر، وزیراعظم اور اعلی حکومتی حکام کو غیر ملکی معززین سے ملنے والے تحائف کو سرکاری ’توشہ خانہ‘ میں رکھا جاتا ہے۔
توشہ خانہ‘ فارسی زبان کا لفظ ہے. جس کے معنی ہیں وہ جگہ جہاں امیروں کے لباس، پوشاک اور زیورات وغیرہ جمع رہتے ہیں۔ پاکستان میں صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرائے اعلی، ججز، سرکاری افسران اور حتی کہ سرکاری وفد کے ہمراہ جانے والے عام افراد کو بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ کے ضابطہ کارکے تحت کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لانا اور یہاں جمع کروانا ضروری ہیں.
بیرون ملک دوروں کے دوران دفتر خارجہ کا عملہ میزبانوں کی جانب سے ملنے والے تحائف کی لسٹ بناتا ہے اور توشہ خانہ میں جمع کرا دیئے جاتے ہیں ضابطے کے مطابق سٹیٹ بنک تحائف کی ویلیو متعین کرتا ہے 30ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بطور تحفہ ملنے والا شخص خود رکھ سکتا ہے جبکہ اس سے زائد مالیت کے تحائف توشہ خانہ میں رکھے جاتے ہیں اور ہر سال تحائف کی نیلامی ہوتی ہے۔ سول اور ملٹری افسران نیلامی میں حصہ لیتے ہیں۔
تاہم دسمبر 2018 کے ضابطہ کار کے تحت تحفے میں ملنے والی گاڑیاں اور نوادرات خریدے نہیں جا سکتے، بلکہ گاڑیاں سرکاری استعمال میں آجاتی ہیں اور نوادرات صدر، وزیراعظم ہاؤس، میوزیم یا سرکاری عمارتوں میں نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر میں توشہ خانہ کے دو سو کے قریب تحائف کی نیلامی کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ان اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین حصہ لے سکتے ہیں لیکن اس نوٹیفیکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چلینج کر دیا گیا تھا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اس سال 25 مئی کو توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اور نئے رولز بنانے کا حکم صادر کیا تھا۔
توشہ خانہ سے خلاف ضابطہ خریداری پر سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف علی زرداری پر نیب میں کیس زیر التوا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان بطور اپوزیشن لیڈر حکمرانوں کی جانب سے کم قیمت پر توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے تنقید کرتے رہے ہیں۔ مگر جب وہ خود اقتدار میں آئے تو تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہونے والی نیلامی میں کیا ہوا اور وہ کون خوش قسمت ہیں جو ان تحائف کے حقدار قرار پائے، تمام تفصیلات قومی مفاد کے بیانئے کر ڈھال بنا کر چھپائی گئیں۔ معاملہ اب بھی زیر سماعت ہے۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں الزام لگایا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خانے سے گھڑیاں ، ہیرے زیوارات سمیت تحائف کم قیمت پر خرید کر 14 کڑوڑ روپے میں فروخت کردیئے۔ جس کے جواب میں عمران خان حکومت کے سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے بیان میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر سابق وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب سے تحفے والی گھڑی بیچ بھی دی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔


شیئر کریں: