تعلیم کے بجائے بچوں سے ہوٹلز، فیکٹری اور بھٹوں پر مزدوروں‌ کیوں‌ کرائی جاتی ہے؟

شیئر کریں:

وزیر آباد سے ضمیر کاظمی
بچے کسی بھی گھر کے آنگن کی چھاؤں اور سکون ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں نہ تو بچوں کی جسمانی
صحت پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے حقوق سے متعلق سماجی آگہی کا کوٸی مناسب بندوبست موجود ہے،

پاکستان میں اس وقت بچوں سے چھوٹی فیکٹریوں، ہوٹلوں، کارخانوں، اینٹوں کے بھٹوں اور دوسرے کاروباری مراکز
میں مشقت لی جارہی ہے جو سرا سرظلم کے مترادف ہے.

بچوں کے عالمی دن پر بھی ان سے مزدوری کرائی جارہی ہے 20 نومبر 1979 کو اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق
کے لیے بنائے گئے مسودہ پر دستخط کیے لیکن آج بھی بچوں کے حقوق پر بات تو کی جاتی ہے مگر عمل درآمد
دیکھنے میں نہیں آتا۔

ضلع گوجرانوالہ کی سب سے بڑی تحصیل وزیرآباد میں یوں تو تعلیمی شعور موجود ہے لیکن کچھ ایسے علاقے بھی
موجود ہیں جہاں پر شرح خواندگی پر توجہ نہیں دی جاتی۔

آج بھی ہزاروں کی تعداد میں بچے مختلف کارخانوں، فیکٹریوں، بھٹوں، ہوٹلوں، ڈھابوں اور دوکانوں پر کام کرتے دکھائی
دیتے ہیں جو پیٹ کا ایندھن بھرنے کے لیے انتہاٸی مشقت بھی کرتے ییں۔
اس وقت معصوم بچوں سے مشقت کی حوصلہ شکنی کرنا اور چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف
کاروائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


شیئر کریں: