ترکی دوبارہ خلافت کی طرف جارہا ہے

شیئر کریں:

تحریر:عمیداظہر

لاوزین کا معاہدہ کیا ہے؟ کیا حرم کے انتظامات سعودی حکومت سے وآپس لے لیے جائیں گے اور ترکی دوبارہ سے مکہ اور مدینہ کا انتظام سنبھال لے گا؟ صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں کیوں تبدیل کیا گیا؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی اتحاد نے ترک سلطنت کو تقسیم کرنے منصوبہ بنایا۔ تاکہ مستقبل میں ترکی ان ممالک کے خطرہ نہ بن سکے۔
لاوزین کا امن معاہدہ برطانیہ، فرانس ، اٹلی اور جاپان اتحاد نے ترک سلطنت کو تقسیم کرنے کے لیے 1920 میں تجویز کیا گیا۔ معاہدے کا مقصد ترک سلطنت کو چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنا تھا۔ برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے تجویز دی کہ غیر ترک ممالک کو معاہدے کے ذریعے آزاد کر دیا جائے۔
یہ فیصلہ ترکوں اور مسلم امہ کے لیے قیامت سے کم نہ تھاْ
ترکوں نے برطانیہ ، فرانس اور اٹلی اتحاد کی تجویز کو مسترد کردیا اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ترکش نیشنل مومنٹ کے نام سے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ترکوں کی عملی جدوجہد تین سال تک جاری رہی۔ بالآخر ترک برطانیہ کے مضبوط اتحاد کے سامنے بے بس ہوگیا اور معاہدے کے لیے ترکوں کو رضامند ہونا پڑا۔
24 جولائی 1923 کو برطانوی اتحاد اور ترک حکومت کے درمیان لاوزین کے مقامی ہوٹل میں معاہدے پر اتفاق ہوا۔ اسی مناسبت سے اس معاہدے کو لاوزین کا معاہدہ بھی کہا جاتا ہے۔

صوفیا مسجد کی بحالی سیاسی ایجنڈا یا مذہبی عقیدت؟ سعودی عرب اور ترکی ایک دوسرے کے خلاف کیوں متحرک ہوئے؟ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کا انتظام 2023 میں کون سنبھالے گا؟ جانیے سینئر تجزیہ کار ندیم رضا سے

معاہدے کی نتیجہ میں ترک سلطنت کوچھوٹے ممالک میں تقسیم کردیا۔ اور موجودہ ترکی وجود میں آیا۔
نئے معاہدے کی بعد ترکی میں عثمانیہ خلافت کا خاتمہ کردیا گیا اور کمال اتا ترک نے ترکی کی حکومت سنبھال لی۔
خلافت عثمانیہ کے دوران ترک سلطنت جنوب مشرقی یوپ، جنوب مغربی ایشیا اور مغربی افریقہ تک محیط تھی۔
لاوزین معاہدے کے تحت ترک سلطنت کو موجودہ بچاس سے زائد ممالک میں تقسیم کردیا ۔
1923 کے لاوزین معاہدے کے تحت ایک نیا مسلم ملک سعودی عرب قائم کردیا گیا
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا انتظام ترکی سے لے کر زبردستی سعودی عرب کے حوالے کر دیا۔ اس فیصلے سے مسلم امہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

ترکی نے تاریخی صوفیا میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کردیا

برطانوی اتحاد نے مسلم امہ کو حرم کے تقدس اور اس کی حفاظت کی یقین دہانی کروائی۔
معاہدے کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ یہ معاہدہ سو سال تک قابل عمل ہوگا جس کے بعد معاہدہ ختم ہوجائے گا۔
24 جولائی 1923 کو ہونے والا یہ معاہدہ 2023 میں ختم ہو جائے گا۔
معاہدے کے خاتمے کے بعد دنیا کے جغرافیے پر بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
حرم پاک کی خفاظت اور نگہداشت کو لے کر ترکی میں بے حد عقیدت پائی جاتی ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران ترک خلفہ کی عقیدت کا عالم یہ تھا کہ حافظ قران بچوں کو فن تعمیر سے روشناس کروایا گیا تھا۔ جب یہ بچے بڑے ہوئے اور ماہر مستری بن گئے تو ان سے مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کروائی گئی۔ یہ حافظ قرآن معمار ہر اینٹ کو لگاتے ہوئے قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔

فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ سیاہ فاموں سے بھی بدترین سلوک

سعودی عرب میں قائم السعود بادشاہت کے بارے میں ترکوں میں کچھ اچھی رائے نہیں پائی جاتی کیوں کہ ترکوں کا ماننا ہے السعود خاندان حرم پاک پر ناجائز قابض ہے۔ نہ صرف السعود خاندان نے زبردستی کے معاہدے کے تحت حرم شریف کا انتظام سنبھالا ہوا ہے بلکہ وہابیت نظریے کے حامل اس خاندان نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے ترک صدر طیب اردگان نے کمال اتا ترک کے سیکیولر ترکی کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔
اپنے پرزور بیانیے کی وجہ سے طیب اردگان اسلامی دنیا پر ایک لیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں ۔
مسلہ کشمیر ہو، فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانی یا برما کے مسلمانوں پر ظلم کا معاملہ ہو ، طیب اردگان نے ہر معاملے پر کھل کر موقف بیان کیا اور مسلمانوں کی نمائندگی کی۔
اب حال ہی میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے۔
ترکی کی اعلیٰ عدالت کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ آتے ہی ترک صدر نے صدارتی فرمان پر دستخط کردیے۔
صدارتی حکم کے بعد آیا صوفیا کی میوزیم کی حیثیت ختم ہوگئی ہے
اور اس کا کنٹرول محکمہ مذہبی امور نے سنبھال لیا ہے۔
اسی طرح مشرق وسطہ اور فلسطین کی صورت حال پر ترکی نے دو ٹوک موقف اپنایا ہے اس سے ترکی کو مسلم ممالک میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
اسلامی دنیا میں روس، چین، پاکستان ، ترکی اور ملائشیا کی نئی صف بندیوں نے مسلم امہ میں امید جگا دی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی صف بندیاں اس بات کی عقاس ہیں کہ ترکی دوبارہ سے ایک لیڈر کے طور پر ابھر رہا ہے جو مستقبل میں مسلم ممالک کی نمائندگی کر سکتا ہے۔


شیئر کریں: