تحریک لبیک نے 7 سال بعد پھر فیض آباد پر دھرنا دے دیا

شیئر کریں:

مزہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے ریاستی اداروں کے روکنے کے باوجود فیض آباد
چوک پر دھرنا دے دیا ہے۔


فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے خلاف راولپنڈی سے نکالی گئی ریلی گزشتہ شب لاٹھی
چارج اور شیلنگ برداشت کرتے ہوئے فیض آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ خادم حسین رضوی نے متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر
فرانس کے خلاف گزشتہ ماہ سے تحریک چلا رکھی ہے۔

راولپنڈی میں تحریک لبیک اور پولیس کے درمیان تصادم، شیلنگ پتھراؤ

شہر شہر مظاہروں اور ریلیوں کے بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ پر اتوار کو بڑے مظاہرہ اور پھر
اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔
اتوار کو دن بھر اور پھر رات تک راوالپنڈی کا مری روڈ میدان جنگ بنا رہا لیکن تحریک لبیک

کے کارکن ٹس سے مس نہ ہوئے۔
مظاہرین نے راستوں پر لگائے گئے کنٹینرز تک اٹھا کے پھینک دیے اور تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے
فیض آباد پہنچے۔
فیض آباد راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والا جنگشن ہے اس کی بندش لوگوں کو مسائل کا
سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام 2014 کا دھرنا نہیں بھول سکتے جب انہیں ائیرپورٹ جانے اور
آنے میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اب پھر جڑواں شہروں کے مکینوں کو اتوار سے موبائل فون اور میٹرو بس سروس کی بندش کا
سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

صورت حال بدستور خراب ہے شہریوں کا کہنا ہے کبھی ان کی زندگی لال مسجد آپریشن تو
کبھی فیض آباد جیسے واقعات سے متاثر کی جاتی ہے۔

آخر یہ سب کچھ ہے کیا؟
آخر غیر ریاستی عناصر ریاست اور حکومت سے زیادہ طاقتور کیسے ہو جاتے ہیں؟

اگر حکومت نے انہیں ریلی اور دھرنے کی اجازت نہیں دی تو پھر یہ کیسے حساس علاقوں سے
ہوتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ گئے؟

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو تو باآسانی گرفتار کر لیا جاتا ہے آخر ان کے پیچھے کون ہے؟
دھرنا کیس صرف فرانس کے خلاف ہے یہ اس کا مقصد پیغام کہیں اور دینا مقصود ہے؟


شیئر کریں: