تحریک انصاف حکومت کی تین سالہ کارکردگی اور عام عوام

شیئر کریں:

تحریر فہیم منجوٹھہ

گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کی تین سالہ حکومتی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی ؛ تقریب
میں وزیر اعظم ؛گورنر ؛وزیر اعظم آزاد کشمیر سمیت وزیروں مشیروں اور تحریک انصاف کے
کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اس تقریب کو پاکستان ٹیلی ویژن سمیت تمام چینلز نے براہ راست نشر بھی کیا اس تقریب کو حکومت کی جانب سے لاہور ؛کراچی اسلام آباد؛ پشاور ؛کوئٹہ ؛گلگت اور ملتان سمیت مختلف
شہروں میں بڑی اسکرین پر بھی دیکھایا گیا ؛ یقینًا تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے یونیوسل صحت کارڈ ؛ یکساں نظام تعلیم ؛ڈیمز کی تعمیر ؛ملین سونامی ٹریز ؛ سیاحت ؛خارجہ پالیسی سمیت دیگر بہتر شعبوں میں بہتر اقدامات کیے گئے جن کا ذکر تقریب میں خوب کیا گیا وہ آپ سن اور دیکھ چکے ۔

تقریب میں وزیر اعظم نے وزراء اور وزراء نے وزیر اعظم کی کارکردگی پر خوب اظہار اطمینان کیا اور یہ تائثر دیا کہ تین سالوں میں تحریک انصاف حکومت نے ملک کو گہرے کنویں سے نکال کر ترقی کی آخری سیڑھی پر لا کھڑا کیا ہے ؛ یقینًا یہ سب وہاں موجود وزیروں مشیروں اور امراء کے لیے اچھا ہو گا لیکن عام عوام پر یہ تین سال بہت بھاری گزرے ہیں ؛ نواز اور ذرداری دور کی ستائی عوام کو عمران خان کی صورت متبادل ملا اور خان صاحب کے دعووں اور وعدوں نے عوام کے اندر ایک امید پیدار کر دی ملک میں خوشحالی ؛انصاف اور مضبوط معیشت کا خواب سجائے عوام نے عمران خان کو اپنا لیڈر منایا اور وزیر اعظم کی کرسی پر لا بٹھایا ؛اور پھر عوام منتظر ہی رہے کہ عمران خان کب اپنے 100 دن کے پلان پر عمل کرینگے اور پھر دن گزرتے گئے مگر خان صاحب کے وعدے وفا نہ ہو سکے ؛خان صاحب نے ملکی حالات کا ذمہ دار حسب راویت پچھلی حکومتوں کو قرار دیا اور عوام کو صبر کی تلقین کی ؛
خان صاحب کو خودکشی والی بات سے بھی یوٹرن لینا پڑا اور آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑا ؛ تین سال گزرنے کے باوجود تحریک انصاف عام آدمی کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکی ؛ہاں مہنگائی ؛غربت ؛ بے روزگاری میں ہوش ربا اضافہ ضرور ہوا ہے ؛ تین سالہ کارکردگی کی بات کی جائے تو ان تین سال میں عوام کا جینا مشکل ہی کیا گیا ہے نہ کہ ان کو ریلیف مہیا کیا گیا ہے ؛ 2018 سے 2021 تک عام انسان کی ضرورت زندگی کی اشیاء میں حیران کن اضافہ نے غریب کی کم توڑ کے رکھ دی ہے ؛
2018 میں ترقی کی شرح 5.5 فیصد تھی اب 3.9فیصد ہے ؛تین سال قبل مہنگائی 4فیصد تھی اب یہ 8 فیصد ہے ؛ پٹرول 88 روپے سے 121 روپے جا پہنچا ہے ؛ بجلی گیس کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ کیا گیا ہے ان تین سالوں میں ؛چینی 55کلو سے 105روپے تک جا پہنچی ہے اور اکثر نایاب رہی ؛ 170 روپے کلو والا گھی 310 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے ؛ ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو ملا ؛ادویات کی قمیتوں میں 500 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ؛ آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ؛ یہ تمام وہ اشیاء ہیں جن کا تعلق براہ راست عام عوام سے ہے یہ ہے تین سالہ کارکردگی کہ کس طرح تبدیلی کی خواہاں عوام کا جینا مشکل کیا گیا ؛ 2018 میں تمام تر سرکاری اداروں کامجموعی قرضہ 14ارب روپے تھا اب تین سال بعد یہ 2400 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ؛گردشی قرضہ کو ختم کرنے کی دعویدار حکومت کے تین سالہ دور حکومت میں گردشی قرضہ 1150 ارب روپے سے 2400ارب روپے تک جا پہنچا ہے ؛ ان تمام تر حالات کے باوجود حکومت تین سالہ کارکردگی پر فخر محسو کر رہی ؛ خواجہ آصف سے فقرہ مستار لیتے ہوئے
کوئی شرم ہوتی ہے؛ کوئی حیا ہوتی ہے ۔


سرائیکی وسیب کے رہنماؤں کو ایک سو دن میں سرائیکی صوبہ کے قیام کا وعدہ دیکر شامل کیا گیا مگر تا حال وعدہ وفا نہ ہو سکا ہے ڈمی سیکرٹریٹ کی صورت یہ صوبہ منظور نہیں سرائیکیوں کو 23 اضلاع پر مشتمل الگ خود مخیتار صوبہ دیں ؛ وزیر اعظم ملک میں انصاف کے نظام کی بات کرتے تھے مگر اج ملک میں انصاف کس حد تک میسر ہے یہ سب جانتے ہیں ؛ رشوت کرپشن کے خاتمہ کی دعویدار حکومت کے تین سالہ دور اقتدار میں کرپشن اور رشوت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ؛ وزیر اعظم ہاؤس ؛ گورنر ہاوس یونیورسٹی میں تبدیل ہونا تھا وہ نہ ہو سکے ؛ملک میں بے روز گاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ایک اندازے کے مطابق تقریبًا 2کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ؛ ملک سے بے جا پروٹوکول کا خاتمہ نہ ہو سکا ہے ؛ یہ ہے تین سالہ کارکردگی ؟ ؟
تقریب میں ہمارے سرائیکی کے نامور گلوکار عطااللہ خان عیسی خیلوی نے گیت پیش کیا جس میں انہوں نے قوم کو اچھے دن آ گئے کی خوشخبری دی ؛ عیسی خیلوی صاحب یقینًا آپ کے لیے اچھے دن ہونگے مگر غریب عوام خودکشیوں پہ مجبور ہے مہنگائی غریب نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے لوگ گھر کے دانے بیچ کر بجلی کا بل ادا کر رہے ؛ اپنے گیت میں انہوں نے عمران خان کو بھر پور خراج تجسین پیش کیا اور کہا کہ آپ نے مافیا پہ ہاتھ ڈالا ہے ؛ خان صاحب کونسا سا مافیا پہ ہاتھ ڈالا گیا ہے ؛ چینی ؛آٹا پٹرول مافیا نے تو خان صاحب کو ناکوں چنے چبوا دیئے ؛ہر بار خان صاحب مافیا کے آگے ڈھیر ہو گئے

جناب عمران خان صاحب ؛ابھی دو سال باقی ہیں آپ کے خدارا عوام کا بھی خیال کر لیں اور ان دو سالوں میں مافیا نہیں عوام کے آگے ڈھیر ہو کر ان کو روز مررہ اشیاء ؛بجلی ؛گیس کی قیمتوں میں کمی کر کے حقیقی ریلیف فراہم کریں اور پھر اپنی کارکردگی پر فخر محسوس کریں؛ اگر آئندہ سالوں میں بھی ایسی ہی کارکردگی دکھائی تو اس قوم کا اللہ حافظ پھر۔

(مضمون کے مصنف کا نقطہ نظر اپنا ہے اور ادارہ کا اس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں)


شیئر کریں: