تبدیلی بذریعے ووٹ، تمام راستے مسدود کردیئے گئے ہیں

امریکہ پاکستان کے انتخابات پر اثرانداز ہورہا ہے

تحریر: محمد رضا سید
جن پاکستانیوں کی عمریں 60 تک پہنچ گئیں ہیں ان تمام لوگون نے محض پانچ سال کی عمر میں پاکستان کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا اور اپنی کمسنی میں وہ درد محسوس کیا جو 30 سے پچاس سال کی عمریں پانے والے پاکستان کے شہریوں نے محسوس نہیں کیا، مجھے یاد ہے جب پاکستان دو لخت ہوا تو میرے والد اور والدہ بلند آواز میں گریہ کررہے تھے، اس سے قبل ہر روز میں اپنی والدہ کیساتھ امام بارگاہ جاکر فریادی ماتم کیا کرتے تھے اور غیبی امداد کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ جب عمر 13 سال ہوئی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کنفرم کردی، ایک بار پھر فریادی ماتم کیلئے امام بارگاہوں خواتین جمع ہوتیں اور بھٹو کی پھانسی ٹل جانے کی دعائیں کرتیں۔
اب میں سن بلوغ کو پہنچ رہا تھا، مجھے یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ ھماری فریاد اللہ تعالی کیوں نہیں سن رہا، پاکستان کو بابائے، قوم قائد ملت اور مادر ملت کیساتھ ناروا سلوک رکھنے کی سزا مل رہی ہے، لیکن جب عمر 30 سال کو پہنچی تو سمجھ میں آیا سزا پاکستان کو نہیں اس میں بسنے والے شہریوں کو مل رہی ہے، پاکستان میں جب مادر ملت کو صدارتی انتخابات میں جعل سازی کے ذریعے ہرایا گیا اور قوم نہیں نکلی بلکہ ایک فوجی آمر کو بجات دہندہ مان لیا اور ہر سیاہ سفید کا اختیار دیدیا اس وقت سے پاکستان کی جڑیں زمین سے باہر نظر آنا شروع ہوگئیں تننے میں دیمک لگ گئی، فوج جسے دفاعی ذمہ داریاں ادا کرنی تھی وہ سیاست اور تجارت کرنے لگی، بعض افراد فوجی جنرلوں کو باقی فوج سے الگ کرنے کی کوسس کرتے ہیں، یہ سراسر زیادتی ہے، فوج فوج ہے یہ ایک کنبہ ہے، اسے تقسیم کرنے سے گناہ تقسیم نہیں ہونگے۔
اب مجھے پاکستان کی تباہی کی وجہ سمجھ آنے لگی تو ملک میں جمہوریت کا کھیل شروع کردیا گیا، سیاستدانوں نے بھی اس دوارن اپنا دامن سیاہ کیا۔
بہت عرصہ گزرنے کے بعد عمران خان کی زبان سے نظام کی تبدیلی کا سنا مگر جب 2018ء کے انتخابات کا وقت قریب آیا تو وہی پرانے اور روایتی سیاستدان عمران خان کے ساتھی بن گئے، نظام کی تبدیلی کیلئے ابھی ا ب ج لکھی جانے لگی کہ ایک جنرل سے سیاستدان رات کی تاریکیوں میں ملنے لگے اور اچھی خاصی چلتی حکومت کو امریکی آشیرواد سے گرادیا گیا، غریب مہنگائی کی چکی میں پسنے لگا لیکن نئے انتخاب کے جوش میں اس تکلیف کو برداشت کیا۔۔۔۔اللہ اللہ کرکے انتخابات کا وقت آیا لوگ ووٹ کے ذریعے نظام کی تبدیلی کیلئے باہر نکلے بیرون ملک سے ووٹ ڈالنے کیلئے پاکستانی شہری مادر وطن پہنچے مگر پاکستان کی مقتدرہ نے ووٹ کے ذریعے نظام کی تبدیلی کا راستہ مسدود کردیا اور انتخابات میں ایسی دھاندلی ہوئی کہ لوگ بھٹو کی دھاندلی کو بھول گئے
وقت تیزی سے گزر رہا ہے ووٹ کے ذریعے تبدیلی کا راستہ مسدود کیا گیا تو نوجوانوں کے پاس سوچنے کیلئے صرف ایک راستہ بچے گا، وہ ہوگا انقلاب کا راستہ اور انقلاب خون مانگتا ہے، پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، ھمارے پڑوس میں انقلاب آیا جس کی ہر سال 11 فروری کو سالگرہ منائی جاتی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس انقلاب نے کئی جنرلوں اور آرمی کی اعلی قیادت کو پھانسی دیدی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدام حسین کو ایران پر حملہ کرنے کی جرات پیدا ہوئی اور پورے خطے نے جنگ کی آگ کو محسوس کیا اور اب بھی اس جنگ کے مضر اثرات کا مسلمانوں کو سامنا رہتا ہے حالانکہ ایران اور عراق مین بھائی چارگی پہلے سے زیادہ بہتر ہوئی ہے مگر پاکستان کا ازلی دشمن اسلام اور مسلمانوں لڑرہا ہے اور فی الحال اس سے بھائی چارگی کی امید نہیں رکھنی چاہیئے لہذا کوئی ایسا اقدام جو پاکستانی فوج کی کمزوری کا سبب بنے گریز کرنا چاہیئے، اس وقت انتخابات کے حقیقی نتائج جاری کئے جائیں ہیرا پھیری کے تمام اقدامات کو ریورس کیا جائے تاکہ عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کو اقتدار منتقل کیا جاسکے، یہی وطن عزیز کیلئے بڑی خدمت ہوگی۔