تاجکستان کے بزنس فورم میں “اتنے ظالم نہ بنو عمران بھائی” کی گونج

شیئر کریں:

سوشل میڈیا پر تاجکستان میں بزنس فورم کے اجلاس میں ایک دل جلے پاکستانی کی جانب سے پڑھی گئی
تنقیدی نظم کی بڑی دھوم مچی ہوئی ہے۔

جمعرات کو تقریب میں موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستانی بزنس کمیونیٹی کے نمائندہ شخص نے کچھ
تجاویز دیں اور پھر وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کیا۔
ایک شعر انہیں نظر کیا
“یہ پاکستان کہہ رہا ہے کہ کچھ اپنے بھی دل پر زخم کھاؤ
میرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والوں میں لڑکھڑایا تو کیا کروگے”

آخر میں براہ راست وزیراعظم سے کہا عمران خان صاحب آپ کے لئے ایک شعر ہے اتنے ظالم نہ بنو
عمران بھائی آپ کے لئے۔
آپ تو اب ایک قیدی ہو گئے ہیں جب کنٹینر پر تھے تو زبردست تھے ۔ اب تو پتہ نہیں کن کے
چکروں میں آگئے ہیں۔

اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت ہی سیکھو ۔ رزاق داؤد انہیں روکنے کی کوشش کی اور اسی دوران سرکاری
ٹی وی پر بیٹھے افسر کو بھی خیال آگیا کہ کچھ ہو گیا ہے شائد، پھر پینل پروڈیوسر نے سوئیچر سے
بزنس مین سمیت پوری قوم کی آواز دبا دی۔ بزنس مین کی تو آواز دبی ہی ساتھ میں وزیر اعظم کی آواز
بھی دب گئی بس یہی سنائی دیا کہ بزنس کی باتیں کریں شعر و شاعری بعد میں ہو گی۔

بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا پر سونامی آگیا۔ عمران خان کے نام سے ٹریڈن چل پڑا۔ سب اپنے اپنے
انداز سے تبصرے کرتے رہے۔
صحافی رضا رومی کو بھی شاعر کا شعر یاد آگیا
“اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے”

اسی طرح اور صارفین نے بھی شعرا کے اشعار اور چبتے ہوئے جملوں سے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔

خیال رہے پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ابھی اوگرا نے پیٹرول
کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی لیکن وزیر اعظم نے فیاضی کا مظاہرہ
کرتے ہوئے فی لیٹر پانچ روپے اضافہ کر دیا۔

مہنگائی کے سونامی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہو چکی ہے اور اب حکومت کو ووٹ دینے
والے بھی وزیر اعظم کے خلاف ہو چکے ہیں۔ اور حال میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کا نتیجہ زمینی
حقائق اور حکومت کی گرتی ہوئی مقبولیت کا عکاس ہے


شیئر کریں: