بے خوف رہو

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر

دنیا کچھ بھی بولے ،دنیا کچھ بھی سوچے ،دنیا کیسی ہی سازشیں کر لے، دنیا کیسا بھی پروپگنڈہ کر لے ،یہ اہم نہیں ہے۔ اس سے انسان کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے جو دنیا کے خوف میں جیتے ہیں وہ خوف زدہ اور ڈرے سہمے لوگ ہیں ،ڈرپوک لوگ کبھی بھی خود کو تبدیل نہیں کرسکتے اور نہ ہی دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ خوف زدہ لوگوں کی زندگی تباہ کن ہے ہر وقت ،ہر لمحے ایسے لوگ مشکلات میں رہتے ہیں۔
بے خوف کون ہے؟ جس نے جو کرنا ہے وہ کرنا ہے دنیا اس کا کچھ نہیں اکھاڑ سکتی۔ بے خوف لوگ دنیا کی آوازوں پر کان نہیں دھرتے کہ دنیا کیا کہہ رہی ہے ،وہ وہی کرتے ہیں جو ان کا من کرتا ہے۔کسی کے خوف سے بے خوف لوگ پیچھے نہیں ہٹتے ،دنیا کے تمام وہ انسان جنہیں دنیا کامیاب کہتی ہے ،یہی وہ لوگ ہیں جب انہیں یہی دنیا ناکام کہتی تھی اور ان کے خلاف باتیں کی جاتی تھیں۔ خوف زدہ لوگوں کو ہی ناکام انسان کہا جاتا ہے ،بے خوف لوگوں کو کامیاب کہا جاتا ہے ۔

جو کسی قسم کے نتائج کی پرواہ نہیں کرتا ،اسے کے اندر کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا ،جو نتائج کی پرواہ کرتا ،وہ ڈرا ہوا ہوتا ہے ،نتائج کی پرواہ کرنے والا ہمیشہ یہی سوچتا کہ ناکام ہو گیا تو دنیا نہین چھوڑے گی ،اس لئے وہ جو بھی کام کرتا ہے ڈر ڈر کر کرتا ہے ،اور جو کام خوف کے ماحول میں کیا جائے ،وہاں ناکامی یقینی ہے اور جو کام بے خوف ہوکر کیا جائے وہاں کامیابی یقینی ہے۔

آپ ایک کام کررہے ہو ،کام کرنے سے پہلے ہی آپ خود سے ہی سوچے جارہے ہو کہ کام تو میں کررہا ہوں ،گھر والے ناراض نہ ہوجائیں ،کسی کو برا نہ لگ جائیں ،کہیں ناکام نہ ہوجاوں ،یہ سب نفسیاتی ڈر ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
ایک اور ڈر ہوتا ہے جو اہم ہے وہ ڈر کیا ہے کہ آپ کے پاس اچھا خاصا پیسہ ہے ،آپ کوئی بزنس شروع کرنے والے ہو ،دل میں یہ چل رہا ہے کہیں یہ پیسہ ڈوب نہ جائے ،تو یہ ڈر ضروری ہے ،اس ڈر سے باہر نلکلنا تو مکمل منصوبہ بندی اور نالج کے ساتھ بزنس شروع کریں تاکہ ناکام ہونے کے چانسز کم سے کم ہوجائیں۔

جو انسان اچھے طریقے سے خوف کی نفسیات کو سمجھ جاتا ہے وہ بہتر طریقے سے زندگی میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور gradually ہر قسم کے خوف سے نکلتا چلا جاتا ہے۔

زندگی سمجھ کا کھیل ہے ،جوں جوں انسان کی سمجھ میں deapth آتی چلی جاتی ہے وہ خوف کی دنیا سے نکلتا چلا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ تمام قسم کے خوف سے نکل جاتا ہے۔
بہت سے انسان مرنے سے ڈرتے ہیں ،مرنے کا زکر آتا ہے تو وہ لال پیلے ہونے لگتے ہیں ،میں مر گیا تو کیا ہوگا ۔یہ کیا ہے بے وقوفی ہے۔ جسے ہم مرنا کہتے ہیں اس قسم کی موت ہم ہر روز دیکھتے ہیں ،ہمیں یہ بھی معلوم ہے دنیا کے کسی انسان نے ہمیشہ نہیں رہنا ،اس کے جسم نے مرنا ہی مرنا ہے۔
لیکن جب انسان یہ جان جاتا ہے کہ وہ کانشئینس ہے ،وہ کانشئیس ہے ،اس میں جو دیکھ رہا ہے ،وہ کبھی مرتا نہیں ،وہی میں ہوں تو پھر انسان باڈی کی موت سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوتا ،جسمانی موت کے خوف سے انسان آزاد ہوجاتا ہے۔
جو لوگ زندگی کو سمجھداری سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہر ڈر پر قابو پالیتے ہیں ،دنیا میں کوئی ایسا ڈر ہو ہی نہیں سکتا جس پر قابو نہ پایا جائے بس انڈر اسٹینڈنگ ضروری ہے۔


شیئر کریں: