بین الاقوامی اداروں کا جیو اور جنگ سے صحافیوں کی تنخواہیں دینے کا مطالبہ

شیئر کریں:

پاکستان کے سب سے بڑے اور معتبر ادارے کے دعوے دار جیو نیوز اور جنگ میڈیا گروپ کے ورکرز کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
ادارے میں کام کرنے والے صحافیوں کے بار بار احتجاج کے باوجود ان کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔

جیو اور جنگ گروپ سے صحافیوں کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیم انٹر نیشنل فیڈیشن آف جرنلسٹز نے بھی ادارے میں کام کرنے والے صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کردیا ہے۔ آئی ایف جے کا کہنا ہے کہ جیو اور جنگ میں کام کرنے والے صحافیوں کو کئی کئی ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں:سما کے اینکر ندیم ملک اور ٹیم کا کورونا ٹیسٹ

موجودہ صورت حال میں صحافیوں کو فوری تنخواہیں ادا کی جائیں۔
پاکستان کے دیگر نیوز اداروں میں بھی کارکنوں کو اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
بیشتر اداروں میں تین تین ماہ سے صحافیوں کو تنخواہیں نہیں دی جارہی جس پر صحافی فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف چینلز پر اشتہارات کی بھرمار ہے اور مالکان شاہی طرز زندگی گزار رہے ہیں تو دوسری طرف جان بوجھ کر صحافیوں کو تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں۔
اس ساری صورت حال پر صحافیوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر صحافی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر چینلز اور اخبارات کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان ناساز حالات میں مالکان کو چاہیے کہ صحافیوں کے بقایا جات اور تنخواہیں فوری ادا کی جائیں۔
صحافیوں کا جب کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے تمام لوگ گھروں میں بیٹھے ہیں وہاں ہم اپنے والدین اور بچوں کو چھوڑ کر خبروں کی تلاش میں سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔
مالکان اور اعلی شخصیات تو بہتر ماسک اور سینی ٹائزر استعمال کر رہے ہیں لیکن کارکنوں کے پاس کیا ہیں؟
تنخواہوں سے محروم کارکن اپنی صحافی تنظیموں سے بھی نالاں ہیں، ان کا کہنا ہے ہمارے رہنما بھی مالکان ہی کی زبان بولتے ہیں۔


شیئر کریں: