بین الافغان کانفرنس دوحہ میں ساتواں دور

افغانستان میں مستقل قیام امن کے لیے پاکستان اور عالمی طاقتوں کی کوششیں جاری ہیں۔ ان ہی کوششوں کے سلسلے میں دو روزہ بین الافغان کانفرنس قطر کے دارلحکومت دوحہ میں ہو رہی ہے۔ سات اور آٹھ جولائی کو ہونے والی کانفرنس کے قطر اور جرمنی مشترکہ میزبان ہیں۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورس کے انخلا پر بات ابھی تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پار ہی ہے۔ امریکا فوجوں کی واپسی کا کہتا تو ضرور ہے لیکن اس کی طرف سے واپسی کا وقت واضح طور پر نہیں بتایا جا رہا۔ گوکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں فوج 14 ہزار سے کم کر کے 9 ہزار کی جا چکی ہیں۔ اس کے برعکس ایک اور امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تاحال فوج میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ امریکا اپنی تاریخ کی طویل جنگ افغانستان میں اٹھارہ سال سے لڑ رہا ہے۔ سات جولائی کو شروع ہونے والی کانفرنس میں 60 کے قریب شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ افغان حکومت کے بھی لوگ شامل ہیں لیکن وہ ذاتی حیثیت میں شرکت کر رہے ہیں۔ پچھی دو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے سابق اٖفغان صدر حامد کرزئی نے چین میں ہونے پر شرکت سے معزرت کر لی ہے لیکن کانفرنس کے لیے انہوں نے نیک خواہشات اور مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے ۔ مائیک پومپیو نے گزشتہ ماہ دورہ افغانستان میں خواہش ظاہر کی تھی کہ امریکا یکم ستمبر 2019 سے پہلے افغان طالبان کے ساتھ معملات سمیٹھنا چاہتا ہے لیکن معمالات اسی وقت سیدھے ہوسکتے ہیں جب افغان حکومت اور طالبان براہ راست بات چیت کریں۔ اس وقت تک طالبان کسی بھی صورت افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک اشرف غنی کٹ پتلی صدر ہیں۔ بظاہر ستمبر تک معاہدہ کے اثار انتہائی کم ہیں۔ کوئی معجزہ ہی یکم ستمبر تک بات چیت کو حتمی مراحل میں لے جا سکتا ہے۔