بیروزگاری کی وجہ سے عورتیں “سونا” بیچنے لگیں خریدار غائب

سونے کی قیمت 96 ہزار 300 روپے ہوگئی
شیئر کریں:

کورونا کی عالمی وبا نے دنیا کے بیشتر ممالک کی اقتصادیات کو آسمان سے زمین پر گرادیا ہے۔
تھائی لینڈ کے شہری ضروریات پوری کرنے کے لئے گھروں میں رکھا سونا بیچنے لگے ہیں۔
عورتوں سونے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں اور امیر ہو یا غریب سب ہی خواتین زیورات پہنتی ہیں۔
روزگار کے مواقع مسدود ہونے کی وجہ سے گھروں میں فاقے آئے تو لوگ سونا بیچنا شروع ہو گئے۔
بنکاک میں سونے کی قیمت بڑھتے ہی شہری گھروں میں رکھے ہوئے سونے کو بیچنے
کے لئے سناروں کے پاس جا پہنچے۔
شہری لائنوں میں لگ کر سونا فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
لوگوں کے رش کے باعث تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے اپیل کی ہے کہ ایک دم سونا فروخت نہ کیا جائے۔
صرف ضرورت کا سونا بیچا جائے کیونکہ دکانداروں کے پاس دینے کے لئے پیسے نہیں بچیں گے۔
کاروبار بند ہونے کی وجہ سے روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
زندگی کا پہیہ چلانے کے لئے لوگ سونا بیچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
تھائی لینڈ ہی نہیں بھارت سمیت دیگر ملکوں میں بھی سونے کی فروخت کا رجحان بڑھنے کا خدشہ ہے ۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق کورونا کی عالمی وبا کے باعث رواں سال گھروں
میں رکھے سونے میں ریکارڈ کمی کا خدشہ ہے۔
دوہزار انیس میں 129 اعشاریہ 5 لاکھ ٹن سونا گھروں سے باہر فروخت کے لیے آیا۔
دوہزار اٹھارہ کے مقابلے میں یہ 37 فیصد زیادہ تھا۔
کورونا کی عالمی وبا کے باعث اب 2020 میں نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے۔
بتوں کی پرستش کرنے والوں کے ہاں گولڈ کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
صورت حال اگر ایسی ہی خراب رہی تو خدشہ ہے سونا بیچنے والے زیادہ ہوں گے لیکن خریدار نظر نہیں آئیں گے۔


شیئر کریں: