بہو نے ساسو ماں کو سانپ سے ڈسوا کر مار دیا

شیئر کریں:

ساسو ماں اور بہو کے روپ میں بیٹی کی دشمنی انتہا کو پہنچنے لگی ہے۔
بہو اپنی ساس کو ایک لمحہ بھی گھر میں برداشت کرنے پر آمادہ نہیں
اور نفرت اتنی بڑھی کہ اس نے ساس کی زندگی ختم کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
بھارت کی ریاست راجھستان میں ایک بہو نے نفرت کی تمام حدیں پار کردیں۔
الپنا نے اپنی ساس کو مارنے کے لیے ایک آدمی سے کسی کے ذریعے 10 ہزار روپے میں سانپ خریدا۔

یہ واقعہ 2019 میں پیش آیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق الپنا کا شوہر ملازمت کے
سلسلہ میں گاؤں سے باہر شہر میں رہتا تھا اس دوران الپنا کا پڑوسی
سے چکر شروع ہو گیا اور وہ ہر وقت اس کے ساتھ موبائل پر مصروف رہنی لگی تھی۔

ساس کی جانب سے روک ٹوک اسے پسند نہ تھی جس پر اپنے آشنا کے ساتھ
مل کر راستے کی دیوار گرانے کا منصوبہ بنایا۔
باالاخر 2 جون 2019 کو الپنا نے ساس سبودھ دیوی کے کمرہ میں سانپ چھوڑا
جس کے کاٹنے سے ان کی حالات خراب ہوئی اور ڈیڑھ ماہ تک بستر پہ رہنے
کے بعد انتقال ہو گیا۔ اہل خانہ کو شک ہوا تو تھانہ میں مقدمہ درج کرایا گیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد 4 جنوری 2020 کو سانپ فروخت کرنے والے
اور الپنا کو آشنا کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا اور تینوں اس وقت سے قید میں ہیں۔

سانپ سے کٹوانے کے واقعات بھارتی فلموں میں عام تھے لیکن اب اسی عام زندگی میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔
سپریم کورٹ نے قاتل بہو کی ضمانت ایک بار پھر مسترد کر دی ہے اور کہا ہے
کہ ایسی خاتوں کی ضمانت کسی طور پر منظور نہیں کی جاسکتی
جس میں انسانیت نام کی کوئی شے موجود نہ ہو۔ سانپ کے ذریعے لوگوں
کی زندگیاں ختم کرنے کے رجحان کی بیخ کنی کرنی ہو گی جو کہ راجھتسان میں عام ہونے لگا ہے۔


شیئر کریں: