بھارت کی 7 ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں فوجی قافلے پر حملہ

شیئر کریں:

مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں علحیدگی پسندوں کی تحریکوں میں مزید تیزی آگئی ہے۔
چین سے کشیدگی کے بعد خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ پیپلز لبریشن آرمی مغربی ریاستوں کارروائیاں تیز کرسکتی ہے۔
کمیونسٹ تنظیم پیپلز لبریشن آرمی بھارت سے آزادی کی تحریک چلا رہی ہے۔
بھارت کی مغربی ریاستوں میں چین کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔
مانی پور اور ناگالینڈ سمیت کئی مغربی علاقوں میں بھارت سے آزادی کی مسلح تحریکیں جاری ہیں۔

مودی کو نیپال سے خطرہ، سرحد پر سیکیورٹی ہائی الرٹ

میانمار سرحد کے قریب مانی پور میں علیحدگی پسندوں بھارتی فوج پر حملہ کر دیا۔
حملے میں متعدد فوجی مارے گئے اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بھارتی حکام پیپلز لبریشن آرمی کو حملے میں ملوث قرار دیا ہے۔
تھینک ٹینکس نے مزید حملوں کا ظاہر کیا ہے۔
مسلح تنظیموں کے خلاف بھارتی فوج ماضی میں آپریشن کرتی رہی ہے لیکن ان تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے بھارتی فوج مکمل طور ناکام ہے۔

پاکستان بنگلہ دیش رابطہ پر بھارت کی مودی سرکار پریشان

آزادی کی تحریکیں کیوں چلائی جارہی ہیں؟

مانی پور اور ناگالینڈ میں جاری آزادی کی تحریکوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ پیچھے تاریخ پر نظر ڈالنی ہو گی۔
بھارت کے مغربی حصے میں موجود سات ریاستوں کو سسٹر اسٹیٹس بھی کہا جاتا ہے۔
ان ریاستوں میں اروناچل پردیش، آسام، مانی پور، میگالیا، میزوران، ناگالینڈ اور تری پورا شامل ہے۔
ان سات ریاستوں کی سرحدیں بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش اور چین سے ملتی ہیں۔
بھارت کے آئین میں ان سات ریاستوں کو بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
ان سات ریاستوں میں آرٹیکل 370 کی مختلف شقیں نافذ العمل ہیں جس کے تحت ان ریاستوں کو خصوصی پوزیشن دی گئی ہے۔
ان ریاستوں میں آرٹیکل 371, 371A, 371B, 371C, 371D, 371E, 371F, 371G, 371H, 371I, and 371J لگائے گئے ہیں۔
ہرریاست کے لیے الگ الگ قانون سازی کی گئی ہے لیکن تمام ریاستوں میں بنیادی بات یہ ہے کہ ہر ریاست کو خصوصی مقام حاصل ہے۔
ریاستوں کی اپنی مقامی حکومتیں ہیں اور ریاستوں میں گورنرز سینٹرل گورنمنٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔
ان ریاستوں کو 1971 میں بھارتی آئین میں خصوصی اہمیت دے کر شامل کیا گیا۔ 2002 میں بھارتی حکومت نے آئین میں ترمیم کرکے مزید ایک اور آٹھویں ریاست سکم بنا دی۔
1947 میں پاکستان اور بھارت کی علیحدگی کے وقت کہ ریاستیں آزاد تھیں۔ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے کے قیام کے بعد ان ریاستوں کا سمندر کے ساتھ رابطہ ختم ہوگیا۔

بھارت رافیل طیاروں سے کسے خوف زدہ کرنا چاہتا ہے؟

ان ریاستوں کا لینڈ لاک ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے عوامی رائے کے خلاف ان ریاستوں کو اپنے ساتھ ضم کرلیا۔
بھارت میں زیردستی شمولیت مقامی لوگوں نے قبول نہ کی اور سات مسلح تنظیموں نے بھارت کے خلاف جدوجہد شروع کردی جو آج بھی جاری ہے۔
ان مسلح گروپس میں پیپلز لیبریشن آرمی، ریولیوشنری پیپلز فرنٹ، یونائٹڈ نیشنل لیبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
ان ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں اس قدر تیز ہوچکی ہیں کہ ناگالینڈ نے تو باقائدہ اپنا الگ پرچم بھی بنا لیا ہے۔
دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی ہندتوا نواز پالیسیوں کی وجہ سے بھارت مزید کمزور ہو رہا ہے۔
ایک سال سے جاری کرفیو کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریکوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جارہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی خالصتان کے لیے سکھوں نے تحریک تیز کردی ہے۔
جنوبی بھارتی ریاستوں میں تامل علیحدگی پسندوں کو قابو کرنے میں بھی مودی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
تامل ٹائیگرز کی مسلح جدوجہد کے دوران ہزاروں بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
خطے پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے اپنی جارحانہ پالیسیز کی وجہ سے علیحدگی پسندوں کی تحریکوں کو دوام بخشا ہے۔ حالات سے نظر آرہا ہے کہ بہت جلد بھارت ٹکروں میں بٹ جائے گا۔


شیئر کریں: