بھارت میں کسان مارچ روکنے کیلئے اسٹیڈیمز جیلوں میں تبدیل

بھارت میں کسان مارچ روکنے کیلئے اسٹیڈیمز جیلوں میں تبدیل

بھارت میں ایک بار پھر سے کسانوں نے اپنے حقوق کی حمایت میں مارچ کا اعلان کر دیا ہے. ریاست ہریانہ کی حکومت نے منگل
کو ہزاروں کسانوں کے دہلی جانے والے منصوبہ بند مارچ سے پہلے دو بڑے اسٹیڈیمز کو عارضی جیلوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

کسان بھی نکلنے کو تیار

ذرائع کے مطابق سرسا میں چودھری دلبیر سنگھ انڈور اسٹیڈیم اور ڈبوالی میں گرو گوبند سنگھ اسٹیڈیم میں کسانوں کو رکھا جائے گا. اسی طرح
پڑوسی ریاست دہلی کے حکام نے بھی سرحدوں پر کنکریٹ کے بلاکس رکھ دیے ہیں۔ ایک دوسری ریاست سے جڑی سرحد کے
ساتھ سڑکوں پر اسپائکس، خاردار تاریں اور ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
مرکز نے کسان یونینز کو مطالبات پر بات چیت کے لیے 12 فروری کو مدعو رکھا ہے۔ ہریانہ اور دہلی حکام نے اب منسوخ شدہ تین فارم
قوانین کے خلاف 2020 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے پابندیوں کا دفاع کیا ہے۔

فصلوں کے لیے امدادی قیمت

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سمیوکت کسان مورچہ اور متعدد کسان انجمنوں نے جن میں سے زیادہ تر اتر پردیش، ہریانہ اور پنجاب
سے تعلق رکھتی ہیں وہ احتجاج کے ذریعے مرکز پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں.
کسانوں‌ کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت کے لیے قانون فوری طور پر
نفاذ کیا جائے۔

پاکستان بھارت کی سرحدوں سے زیادہ سیکیورٹی

پنجاب کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما بھگونت مان نے دہلی اور ہریانہ میں داخل ہونے والی سڑکوں کا
موازنہ ہندوستان-پاکستان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے کیا ہے۔
ہریانہ نے امبالہ کے قریب شمبھو میں پنجاب کے ساتھ سرحد کو سیل کر دیا ہے۔ مارچ کو روکنے کے لیے جنڈ اور فتح آباد اضلاع میں
سرحد پر بڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے 11 سے 13 فروری تک سات اضلاع امبالہ، کروکشیتر، کیتھل، جند، حصار،
فتح آباد اور سرسا میں موبائل انٹرنیٹ خدمات اور بلک ایس ایم ایس کو بھی بند کر دیا ہے۔
2020 میں، پنجاب اور امبالا کے قریبی علاقوں سے بڑی تعداد میں کسان شمبھو بارڈر پر جمع ہوئے تھے. انہوں‌نے دہلی کی طرف مارچ
کرنے کے لیے پولیس کی تمام تر رکاوٹیں توڑ دی تھیں۔ کسانوں نے خاص طور پر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سے تین مرکزی فارم
قوانین کے خلاف دہلی کے سرحدی مقامات سنگھو، ٹکری اور غازی پور پر ایک سال طویل دھرنا دیاتھا۔