بھارت میں نسلی تعصب کی انتہا، ٹوکیواولمپکس میں شکست کی زمہ داری دلت کھلاڑی پر عائد

شیئر کریں:

بھارت میں نسلی تعصب زندگی کے تمام شعبوں میں بڑھ چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ کھیل میدان میں بھی اونچی
زات کے ہندوؤں نے نچلی زات کے دلت خاندان سے تعلق رکھنے والی ہاکی کی کھلاڑی کو ٹوکیو اولمپکس
میں شکست کی وجہ قرار دے دیا۔

ٹوکیو اولمپکس میں بھارت کی خواتین ہاکی ٹیم کا ارجنٹائن کے ساتھ سیمی فائنل میں مقابلہ ہوا۔ فائنل تک
رسائی کرنے میں ناکامی کی زمہ داری بھارت کی طرف سے موجودہ اولمپکس میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والی
دلت وندناکتاریہ پر عائد کر دی گئی۔


میچ میں شکست کے بعد اونچی زات کے نوجوانوں نے ٹولی کی شکل میں ریاست اوتھراکنڈ میں وندنا کتاریہ
کے گھر پر ہنگامہ آرائی کی۔ مظاہرین نے میچ میں شکست میں وندنا کے اہل خانہ کو نسلی تعصب کا نشانہ
بنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں دلت کھلاڑیوں کو شامل نہیں کرنا چاہیے ان کی وجہ سے قوم کو ہار کا
سامنا کرنا پڑا۔

بھارت میں 20 کروڑ سے زائد دلت ہیں جن کے ساتھ ہر سطح پر نسلی تعصب کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ بھارت
کی حکمراں جماعت جو ہندوا نظریہ کی بنیاد پر اقتدار میں آئی وہ بھی دلتوں کے ساتھ انتہائی برا سلوک روا
رکھتی ہے۔ انتخابات میں بھی مودی نے نچلی زات کے ہندوں پر ٹھاکروں کو فوقیت دی۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر اپنی رپورٹس میں آواز اٹھاتی رہی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ انہتائی
ناروا سلوک اختیار کیا جاتا ہے۔ باالخصوص مسلمانوں کا زندگی کے ہر شعبہ میں بائی کاٹ کیا جانے لگا ہے۔
سرراہ مسلمان نوجوانوں کو زدوکوب کر کے جلا دیا جاتا ہے۔

ہاکی کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد نام نہاد اونچی زات کے ہندوں کی جانب سے نسل پرستانہ رویے
نے ایک بار پھر سے دنیا کے سامنے بھارت کا چہرہ عیاں کر دیا ہے۔


شیئر کریں: