بھارت میں انتہاپسند ہندوں کا پادری پر پولیس اسٹیشن میں تشدد

شیئر کریں:

بھارت میں اقلیتوں پر ہر گزرتے وقت کے ساتھ مظالم بڑھتے ہی جارہے ہیں اب تو پولیس اسٹیشن بھی محفوظ
نہیں رہے۔ پہلے پولیس مسلمان اور دیگر اقلیتوں کی شکایات پر کان نہیں دھرتی تھی لیکن اب تو تھانہ میں
بھی بند اقلیتوں کے رہنما محفوظ نہیں رہے۔

ریاست چھتیس گڑھ کے دارلحکومت رائے پور کے پولیس اسٹیشن میں انتہاپسند ہندوؤں کے ایک گروپ نے
مسیح مبلغ کو اہل کاروں کی موجودگی میں بہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

مسیح بلغ کو پرانی بستی کی پولیس نے ہندوؤں کا مزہب تبدیل کرانے کے الزام میں لوگوں کی درخواست پر
گرفتار کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ہندتوا کے مقامی رہنما تھانہ آئے اور ہندوؤں کو جبرا مسیح بنانے کا پادری پر الزام لگایا۔
بنیاد پرستوں نے پولیس سے کہا فوری طور پر پادری کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پادری بھی اپنی برادری
کے ساتھ تھانہ پہنچا۔ اس موقع پر دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور پھر انتہا پسندوں نے
پادری پر تشدد شروع کر دیا۔

کیا مودی کا ہندوستان فاشٹ ملک بن رہا ہے؟

خیال رہے بھارت میں 2014 میں نریندرا مودی کے آنے کے بعد سے اقلیتوں باالخصوص مسلمان اور مسیح
برادری کے ساتھ انتہائی امتیازی سلوک اختیار کیا جارہا ہے۔ بھارت کو سیکولر ریاست سے ہندو ریاست
میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب مسیح برادری نے بھی علیحدگی کے نعرے لگانے شروع کر دیے ہیں چند روز پہلے مسیح
رہنما نے بغاوت کا علم بلند کیا۔ صورت حال اگر اسی طرح بگڑی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب تمام اقلیتیں
ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر علیحدگی کی تحریک شروع کردیں۔


شیئر کریں: