بھارت رافیل طیاروں سے کسے خوف زدہ کرنا چاہتا ہے؟

شیئر کریں:

رپورٹ عمید اظہر

رافیل طیاروں سے متعلق بلآخر بھارت کا خواب پورا ہو گیا۔
2016 میں بھارت نے فرانس سے 36 جدید رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا۔
چار سال طویل انتظار کے بعد رافیل طیاروں کی پہلی کھیپ بھارت میں پہنچ گئی۔
پانچ رافیل طیارے بھارت کی ریاست ہریانہ کے شہر امبالہ اترنے سے پہلے متحدہ عرب امارات کی الظفرہ ایئر بیس پر رکے۔
دلچسپ بات یہ کہ پانچوں فائٹر جیٹ ایک جیسے نہیں کچھ ایک سیٹ اور بعض دو سیٹوں والے ہیں۔
فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن کمپنی کے یہ طیارے فضا میں دوسرے طیارے سے ایندھن حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انتہائی طاقتور دو انجن والے ان طیاروں کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 22سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
طیاروں کی آمد سے قبل ایئر بیس اور انبالہ شہر کے آس پاس کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔
ایئر بیس کے اطراف دفعہ 44 1 لگادی گئی تاکہ کوئی طیاروں کی تصویر نہ لے سکے۔
جہازوں کی لینڈنگ کے وقت لوگوں کو چھت پر چڑھنے سے بھی منع کیا گیا۔
بھارتی فضائیہ اس سے پہلے روسی ساختہ مگ طیاروں پر انحصار کر رہی تھی۔
ان فرسودہ طیاروں کو بڑھتے ہوئے حادثات کے بعد فضائی تابوت قرار دیا جانے لگا تھا۔
ہمسایہ ملک پاکستان اور چین دونوں کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کو ان طیاروں کی ضرورت تھی۔
لداخ میں ایل اے سی اور پاکستان کے ساتھ ایل او سی پر حالات کشیدہ ہیں۔
چین سے مقابلہ کرنے کے لیے بھارت ان ہی طیاروں پر انحصار کرے گا۔
بھارتی فضائیہ میں رافیل ہی سب سے جدید فائٹر جیٹ طیارے ہیں۔
فضائیہ میں ایک قول بے حد مقبول ہے کہ مشین سے زیادہ مشین چلانے والے کی اہمیت ہوتی ہے۔
پاکستان فضائیہ کے پاس امریکی ساختہ ایف 16 موجود ہیں۔
پاکستان چین کے ساتھ مل کر جے ایف 17 بھی بنا رہا ہے۔
بھارت کے مغرب کے ساتھ بڑے دفاعی معاہدوں کے بعد پاکستان نے بھی چین کی مدد سے دفاعی صلاحیت بڑھانا شروع کردی ہے۔
پاکستان اور چین جدید جے ایف 17 کو ریکارڈ پندرہ دن کی قلیل مدت میں طیار کر رہا ہے۔
جے ایف 17 کی اس تیز ترین پروڈکشن کی وجہ سے پاکستان کا دفاع بے حد مضبوط ہو جائے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق رافیل فائٹر جیٹ اپنی تیزی اور جنگی صلاحیتوں کی وجہ سے جے ایف 17 اور ایف 17 سے بہتر مشین ہے۔
بھارت نے درحقیقت یہ طیارے چین سے مقابلہ کرنے کے لیے حاصل کیے ہیں۔
ذرائع کے مطاابق بھارت کی فرانس سے ڈیل کے بعد ہی پاکستان نے چین اور روس سے جدید طیاروں کے حصول کی کوششیں شروع کردی تھیں۔
خطے میں طاقت کے توازن کے لیے پاکستان جلد ہی کسی دوسرے ملک کے ساتھ جدید طیارے حاصل کرنے کا معاہدہ کرسکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے رافیل طیارے قطر اور مصر کے پاس بھی ہیں۔
ان طیاروں کی مدد سے کسی بھی ملک نے کوئی بڑی جنگی کامیابی حاصل نہیں کی۔
فرانس کے یہ طیارے صرف مشرق وسطی میں دہشت گردوں کے تھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
بھارت نے 2010 میں فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن کمپنی سے 100 سے زائد رافیل جنگی طیارے خریدنے کی بات شروع کی تھی۔
مودی حکومت نے 2016 میں 59 ہزار کروڑ روپے میں 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا۔
معاہدے کے تحت ڈسالٹ نے انڈيا میں 50 فیصد رقم کی سرمایہ کاری کا بھی وعدہ کیا۔
جہاز کے چھوٹے پُرزے بنانے کے لیے انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس سے معاہدہ کیا گيا جس پر
اپوزیشن پارٹیز نے سوال اٹھائے اور معاملہ سپریم کورٹ بھی گیا۔

سپریم کورٹ سے کلین چٹ ملنے کے بعد مودی حکومت نے بلآخر فرانس سے معاہدے کو عملی جامہ پہنایا۔
بھارت میں شادیانے بجائے جارہے ہیں اینکر ٹی وی پر چیخ چیخ کر رافیل کو بھارت کا باہوبلی قرار دے ہیں۔
بھارتی میڈیا بلاوجہ رافیل کو بڑا کر کے دیکھا رہا ہے مودی حکومت کو ان سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔
ویسے بھی ان طیاروں کو آپریشنل کرنے میں ابھی وقت درکار ہو گا۔
چین کے ساتھ ایل اے سی اور پاکستان کے ساتھ ایل او سی پر ان پانچ طیاروں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔
ان طیاروں کے حصول کے بعد بھی مودی سرکار چین سے فضائی اعتبار سے کہیں پیچھے ہے۔
بھارت کے بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پانچ طیاروں کی مدد سے پورے خطے پر برتری حاصل کرنے کی سوچ صرف مودی کا ایک خواب ہے۔


شیئر کریں: