بھارتی چکن نیک کٹنے کے لیے تیار، چین نے گاؤں بسایا کسی کو خبر بھی نہ ہوئی

شیئر کریں:

چین نے بھارتی چکن نیک کاٹنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے سسٹر اسٹیٹس کو بھارت سے جوڑنے والے
سلیگوری کوریڈور پر نیا گاوں بسا لیا۔

اس علاقے پر بھارت، چین اور بھوٹان کے درمیان تنازعہ چلا آرہا ہے تاہم بھوٹان نے اس نئے گاوں پر کسی
قسم کے تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔
چین کا کہنا ہے کہ اس نے گاوں جس علاقے میں بسایا ہے وہ درحقیقت چین کا حصہ ہے۔


بھارت کے ہوش اڑ گئے

چین نے بھارت کو توڑنے کی منصوبے پر عملی طور پر کام شروع کر دیاچین کے نئے پلان نے بھارتی
دفاعی حلقوں کے ہوش اڑا کررکھ دیے ہیں۔
بھارت کو اس وقت دن میں تارے نظر آنے لگے جب امریکی سیٹلائٹ نے بتایا کہ چین نے بھارت اور
نیپال کے ساتھ متنازع علاقہ میں ایک نیا گاوں بسا چکا ہے۔

بھارت کی 7 ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں فوجی قافلے پر حملہ

چین کی طرف سے اتنا بڑا گاوں بسا دیا گیا لیکن بھارت کو خبر تک نہ ہوئی۔
چین کا سسٹر اسٹیٹس کو بھارت سے جوڑنے والے سلیگوری کوریڈور پر نیا گاوں بس چکا ہے۔
اسی علاقے میں 2017 میں چین اور بھوٹان کی فوج کے درمیان کشیدگی رہی تھی۔

لیکن اس بار دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے معاملے پر بھوٹان کے کسی قسم کے تحفظات سامنے نہیں آئے۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ اس کا ہے اور اس پر آباد کاری کا پورا حق رکھتا ہےدوسری طرف اس اقدام
سے بھارت میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔

یہی وہ علاقہ ہے جو بھارت کی چکن نیک انتہائی قریب ہے اور بھارت کو صرف 22 کلومیٹر کی لکیر
سے سات بڑی ریاستوں سے ملاتا ہے۔

ان ریاستوں میں اروناچل پردیش، آسام، مانی پور، میگالیا، میزوران، ناگالینڈ اور تری پورا شامل ہے۔
سلیگوری کوریڈور صرف بائیس کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے جو بھارت کو مغربی ریاستوں سے ملاتا ہے۔
ان ریاستوں میں پہلے ہی بھارت کے خلاف آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔

ان لوگوں کا رہن سہن اور خدوخال چین سے ملتا ہے چین بھی ان سات ریاستوں کا اپنا حصہ مانتا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوریڈور کے ساتھ گاوں بسا کر چین نے انتہائی اہم اور عملی چال چلی ہے۔
چین کا یہ عمل مستقبل میں ان سات ریاستوں کو بھارت سے الگ کرنے کی طرف اہم قدم ہے۔

بھارتی سرماؤں کو خبر تک نہ ہوئی

یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے حصے پر چین نے پورا گاوں بسا دیا اور بھارتی سرماوں
کی اس بات کی خبر تک نہ ہوئی؟
اتنا بڑا بجٹ خرچ کرنے کے بعد بھی بھارتی دفاعی ادارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے میں
ناکام نظر آرہے ہیں۔
ادھر لداخ میں صورت حال کچھ مختلف نہیں چین آئے روز بھارتی علاقوں پر قبضہ کرتا آرہا ہے چین نے
بھارتی بارڈر ایل اے سی کو بھی ماننے سے انکار دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مستقبل میں چین بھارت کے خلاف کیا نئی چال چلتا ہے؟


شیئر کریں: