بھارتی انٹیلی جنس کی بیرون ملک ٹارگٹ کلنگ

تحریر محمد رضا سید
ستمبر 2023ء میں کینیڈا میں آزادی پسند سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد مغربی ملکوں کی انڈین انٹیلی جنس ایجنسی را کی
سرگرمیوں پر نظر رکھنے پر خصوصی توجہ مرکوز ہے. انڈین حکومت نے اپنے انٹیلی جنس ادارے را، کو پوری دنیا میں موجود مختلف
علیحدگی پسند تحریکوں سے وابستہ افراد کو نشانہ عبرت بنانے کا ٹاسک دیا ہے.
کینیڈا کے بعد ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو امریکہ میں نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ،انڈین حکومتی اہلکار نے اندین ایجنٹ کے ذریعے
نیو یارک شہر میں ایک مشہور سکھ علیحدگی پسندرہنما کو ایک لاکھ ڈالر کے بدلے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جسے امریکی انٹیلی جنس نے ناکام
بنادیا اور اس منصوبے کے اہم کرداروں کو حراست میں لے لیا.
ہندوستان میں موجود ایک اعلی انٹیلی جنس افسر نے نیویارک میں اپنے ایجنٹ نکھل کپتا کو سکھ رہنما کو قتل کرانے کیلئے ایک لاکھ ڈالر
بھی فراہم کئے. نکھل گپتا نے امریکی کے ایک اجرتی قاتل سے رابطہ کیا اور سکھ رہنما کو قتل کرنے کیلئے پیشگی 15000 ہزار ڈالر فراہم
کئے لیکن انڈین انٹیلی جنس سے اجرتی قاتل کے انتخاب میں غلطی ہوگئی.

کلرکہار موٹروے پہ بسوں کی لائنیں کیوں؟

اجرتی قاتل امریکی سکیورٹی ادارے کا انڈر کور ملازم تھا ، جس نے اس پورے منصوبے کو امریکی حکام کے سامنے فاش دیا
امریکہ کے محکمہ انصاف کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک سرکاری ملازم پر سکھ علیحدگی پسند تحریک کے امریکہ میں مقیم رہنما کو قتل کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا ہے، نیو یارک میں 53 سالہ بھارتی شہری نکھل گپتا عرف نک کے خلاف کرائے کے قاتل کے ذریعے نیو یارک شہر میں ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی ناکام سازش میں حصہ لینے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کردی گئی ہے، نکھل گپتا منصوبے کے فاش ہونے کے بعد فرار ہوکر چیک ری پبلک پہنچ گیا تھا تاہم چیک حکام نے گپتا کو گرفتار کرنے کے بعد 30 جون 2023 کو امریکہ اور جمہوریہ چیک کے درمیان دو طرفہ حوالگی کے معاہدے کے تحت امریکہ کے حوالے کردیا تھا، نیویارک کی ایک عدالت میں داخل کی گئی عدالتی دستاویزات کے مطابق اس سال کے شروع میں ایک ہندوستانی سرکاری ملازم نے نکھل گپتا سمیت دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر امریکی سرزمین پر ایک وکیل اور سکھوں کے سیاسی حقوق کیلئے سرگرم امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش تیار کی، نکھل گپتا نے انڈین سکیورٹی مینجمنٹ اور انٹیلی جنس میں ذمہ داریوں کے ساتھ سینئر فیلڈ آفیسر کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کیا ، مئی 2023 میں یا اس کے قریب بھارتی حکومت نے گپتا کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کا پروچیکٹ دیا۔ سکھ رہنما انڈیا کی مودی حکومت کے اقلیتوں کے خلاف مذموم عزائم کا نقاد ہے اور امریکہ میں قائم ایک ایسی تنظیم کی قیادت کررہاہے جو شمالی ہندوستان ریاست پنجاب کوجہاں نسلی مذہبی اقلیتی گروہ سکھوں کے واضح اکثریتی ہے ایک علیحدہ سکھ خود مختار ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جسے خالصتان کے نام دیا گیا ہے، جبکہ ہندوستانی حکومت نے اس سکھ رہنما اور اس کی علیحدگی پسندسیاسی تنظیم پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔
جون 2023 میں یا اس کے قریب، قتل کی سازش کو آگے بڑھانے کیلئے ہندوستانی حکومت کے سرکاری ملازم نے گپتا کو سکھ رہنماکے بارے میں ذاتی معلومات فراہم کیں، اجرتی قاتل جو امریکی حکومت کا انڈر کور ملازم تھا اس نے امریکی حکام کو سارے پلان سے آگاہ کرنے کی وجہ سے بھارتی حکومت کا منصوبہ قتل ناکام ہو گیا تاہم امریکی حکومت نے اس واقعے پر سفارتی اور سکیورٹی سطح پر اپنے اتحادی ملک بھارت سے رابطہ کیا اور متنبہ کیا کہ وہ دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود را کے قاتل اسکواڈ ختم کردے، امریکی میڈیا کے مطابق اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور نئی دہلی میں امریکی اور بھارتی حکام کے درمیان اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوئے ، تاہم بھارت کی طرف سے عدم تعاون کے بعد امریکی حکام نے نکھل گپتا کو امریکی محکمہ انصاف کے حوالے کردیا اور اب اس مقدمے میں نکھل پر فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

ہندوستان میں سخت گیر مذہبی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اقلتیوں پر مظالم بڑھےہیں اور ایسے واضح شواہد موجود ہیں جن کے مطابق انڈیا کی پی جے پی حکومت ریاستی طاقت کومذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف استعمال کررہی ہے، بھارتی انٹیلی جنس ادارے را پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان میں قتل و غارتگری کے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہناتی رہی ہے، پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کے کرتوتوں کو سامنے رکھا اور پاکستان میں زیر حراست را کے ایجنٹ کلبھوشن کے اعترافات سے عالمی برادری کو آگاہ کیا مگر یہ معاملہ پاکستان کا تھا اس لئے دنیا نے نظرانداز کردیا اور کچھ کوتاہیاں پاکستان کی حکومتوں اور اداروں سے بھی ہوئیں جس نےکلبھوشن کے مذموم عزائم کو درست انداز میں نہیں اُٹھایا، انڈیا جو بظاہر چین کے عالمی کردار کی وجہ سے مغربی دنیا کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے یہ سمجھ بیٹھاکہ کینیڈا اور امریکہ بھی پاکستان ہیں ،جہاں وہ اُن کے شہریوں کو ہاتھ لگائے اور وہ خاموش رہیں، وقت آگیا ہے کہ بھارت کے جنونی عزائم کو روک تھام کی جائے، اس موقع کا فائدہ اُٹھانا چاہیئے اور کلبھوشن کے معاملے کو ایک بار پھر نہایت گرمجوشی کیساتھ عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے اور ایسے بھارتی حکام جو جنونی حد تک اندرون اور بیرون ملک اقلیتوں کو نشانہ بنارہے ہیں اورقتل و غارتگری میں ملوث ہیں، اِن کی نقل وحرکت پر عالمی سطح پر پابندی لگائی جائے اور بھارت کے اُن عناصر کے اثاثوں پر پابندی عائد کی جائے جس کی مدد سے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
کینیڈا میں‌ سکھ رہنما قتل کا بھارت زمہ دار قرار