بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا

شیئر کریں:

تحریر محمد امنان

وزیر اعظم عمران خان کو مفت مشورہ ہے کہ خان جی اگر حالات اس نہج پہ آچکے ہیں کہ ترجمانوں کی
فوج، سوشل میڈیا بریگیڈ اور مشیروں کے ٹولے کا سارا زور لگا کر بھی بات نہیں بن پا رہی تو “حضور صلح کر لیں۔
اوپر بیان کردہ عناصر کی صف میں اب وہ یوٹیوبرز بھی شامل ہو رہے ہیں جو بیچارے دن رات کوشش کر
رہے ہیں کہ حضور کا اقبال بلند رہے۔

ہماری تجیحات کیا ہیں؟

ارطغرل غازی کی پروڈکشن ٹیم اور ملکی یوٹیوبرز سے تو ملاقات کی جا سکتی ہے لیکن 5 روز سے منفی
درجہ حرارت میں اپنے پیاروں کی میتیں لیے بیٹھے ہزارہ قبیلے کے مظاہرین سے ملاقات کا وقت شاید ابھی
آیا نہیں ہے خان صاحب کے لیے۔

بات ترجیحات کی ہوتی ہے یہ نیوزی لینڈ تھوڑی ہے کہ ایک کافرہ وزیر اعظم سانحہ ہو جانے پر فوری
طور پر جا کر مسلمانوں کو گلے لگا لے اور انکا درد بانٹے ، عوام بھی بڑی ہی کوئی ڈھیٹ ثابت ہوئی ہے۔

گذشتہ 73 سالوں سے اس عوام کو کبھی آہنی ہاتھوں سے اور کبھی جھوٹے وعدوں سے لوٹا گیا مگر
یہ قوم ہے کہ اب بھی یقین رکھتی ہے کہ کچھ نہ کچھ بہتر ہو گا ۔ اچھے کی امید ضرور رکھنی چاہئے بے یقینی کفر کے زمرے میں آتی ہے۔

مگر یقین کرنے کے لیے سامنے موجود شخص بھی تو پختہ کردار کا مالک ہو نا۔ اس عوام کو شاید آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہاں نظام طاقتوروں کا ہے اسکی زندہ مثال ، نقیب اللہ قتل، شاہ زیب قتل، سانحہ ساہیوال، اسامہ ندیم ستی کا قتل اور پھر یہ ہزارہ کے کان کنوں کا قتل ، راو انوار وغیرہ وغیرہ بے شمار المیے ہیں ہزاروں داستانیں ہیں مگر کیا کیجئے۔

حکومتیں حاصل کی جاتی ہیں عیاشیوں کے لیے اور مخالفین کی منجی ٹھوکنے کے لیے۔
پچھلی حکومتوں نے بھی یہ ہی کیا اور تبدیلی کا نعرہ مار کر پٹ پہ ہاتھ مار کے للکارے
مارنے والے خان نے بھی یہی کیا۔

قائد کا احترام کہاں‌گیا؟

اب آجائیے فیصل آباد یہاں کے نو منتخب صوبائی وزیر خیال کاسترو کو عہدہ ملنے کی دیر تھی کہ اجمل چیمہ، لطیف نذر گجر، عادل پرویز گجر، میاں وارث ، شکیل شاہد اور خودساختہ امیدوار برائے لارڈ مئیر رانا زاہد خیال کاسترو کو دئیے جانے والے عشائیے میں ایک ٹانگ اٹھا کر لڈی جھومر کھیل رہے ہیں قائد محترم کا احترام بالائے طاق رکھتے ہوئے نوٹ نچھاور کر رہے ہیں اور جھوم رہے ہیں۔

قائد محترم محمد علی جناح صاحب کا احترام تو تب ہی بھلا دیا گیا تھا جب وہ بیمار ہوئے تھے اور ایمبولینس خراب ہو گئی تھی خیر فیصل آباد سے مچھ پہنچیں تو یہاں لاشے ہیں۔
سخت سردی ہے مظاہرین ہیں مظلوم مائیں بہنیں ہیں اور ایک انتظار ہے۔

کیا یوٹیوبرز سے ملاقاتیں ضروری ہو چکی ہیں؟

اس شخص کا انتظار جو اپنے حرم میں بیٹھا غیر ملکی پروڈکشن ٹیم اور یوٹیوبرز سے ملاقاتیں کر کے خود کو کامیاب دکھانے کی سکیموں پہ غور کر رہا ہے جو کسی کے لخت جگر کے کٹ جانے پر ایک ٹوئٹ کر کے یہ کہتا ہے کہ میں سمجھ سکتا ہوں تم لاشیں دفناو میں آجاوں گا۔

سیکیورٹی خدشات ، مصلحتیں ، سیاسی منظر نامہ ، دشمن کی سازشیں اور معاشی بدحالی یہ پرانے قصے آج تک بدلے نہ جا سکے ہیں اگر یہی تقدیر ہے اس ملک میں غریب اور مظلوم کی تو وہ عوام جن کے پاس بوریاں بھر کے پیسہ نہیں ہے ، بیروزگاری کے تھپیڑے اور صرف چند دلاسے ہیں ان پہ واجب ہے کہ وہ یہاں خواہش نہ کریں حالات سے سمجھوتہ کر لیں۔

وزراء ، مشیر، ترجمان ، سوشل میڈیا بریگئیڈ اور کروڑوں روپے پھونک دینے پر بھی اگر آپ خود کو حکمران بنانے میں ناکام ہیں رعایا کا درد سمجھنے سے عاری ہیں آپکی ترجیحات میں خود فریبی اور اپنی ذات سے اندھا لگاو بڑھتا جا رہا ہے تو جناب عالی آپکو گذشتگان سے الگ اور منفرد کہلوانے کا کوئی حق نہیں ہے اپنے حریفوں سے صلح کر لیجئے۔

اس ملک کی بے آسرا عوام کا یہی مقدر ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک سے بس اتنی فریاد کر کے پوچھتے رہیں کہ

بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا
میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا؟؟

سال بدلے حکومتیں بدلیں، چہرے مہرے سب کے سب بدل گئے مگر نہیں بدلی تو یہاں غریب کی سزا اور مظلوم کے حصے کی اذیت نہیں بدلی لیکن وقت کہیں دور بہت دور یہ صدا ضرور دے رہا ہے کہ

دلِ ما مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اُٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا


شیئر کریں: