بچے بخار، سرخی، آنکھوں اور جسم پر سوجن کے شکار

شیئر کریں:

برطانیہ اور امریکا میں بچے ایسی سوزش پیدا کرنے والی بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں
جسے کورونا سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

اب تک برطانیہ میں 100 کے قریب بچے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
متعدد بچوں میں اس بیماری کی تشخیص ہو چکی ہے ، بیماری کی علامات دیگر یورپی ممالک میں
ٹی ایس ایس نامی عارضے سے ملتی جلتی ہیں۔
گذشتہ ماہ برطانوی ادارہ صحت نے این ایچ ایس کے ڈاکٹروں کو کہا تھا کہ وہ بچوں میں ایک
غیرمعمولی لیکن خطرناک ردِعمل پر نظر رکھیں۔
یہ احکامات ایسے وقت میں جاری ہوئے تھے جب لندن میں آٹھ بچے اس عارضے میں مبتلا ہوئے تھے
ایک 14 سالہ بچہ موت کی آغوش میں بھی جا چکا ہے
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آٹھوں بچوں میں تیز بخار، ریش، آنکھوں میں جلن ، سرخی، سوجن اور جسم میں درد
کی علامات پائی گئیں۔
ان میں سے اکثر کو پھیپھڑوں کی کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں تھی
سات کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا تاکہ ان میں خون کی گردش بہتر بنائی جا سکے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ کاواساکی کے بعد پیدا ہونے والی جسمانی تبدیلی سے ملتا جلتا نیا عارضہ ہے
جو صرف ایسے بچوں کو متاثر کرتا ہے جن کی عمر پانچ برس سے کم ہو۔ علامات میں ریش،
گلے میں سوجن اور خشک پھٹے ہوئے ہونٹ بھی شامل ہیں۔
یہ بیماری 16 برس تک کی عمر کے بچوں کو بھی متاثر کر رہا ہے جن میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے عارضے کا ایک عالمی وبا کے درمیان منظر عام پر آنا یہی معنی
رکھتا کہ یہ دونوں منسلک ہیں اور یہ علامات وائرس سے متاثر ہونے کے بعد
اینٹی باڈیز کی بڑھنے کے باعث سامنے آتی ہیں


شیئر کریں: