بچوں کو باندھ کے کیوں سلایا جاتا ہے؟

شیئر کریں:

ڈیرہ اسماعیل خان سے توقیر زیدی

دور جدید میں جہاں پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں نومولود بچوں کی جسمانی مالش اور باندھ کر سولانے کی صدیوں پرانی روایات دم توڑتی جا رہی مگر ڈیرہ اسماعیل خان میں نومولود بچوں کی مالش اور باندھ کر سولانے کی صدیوں پرانی روایات آج بھی زندہ و جاوید ہے۔

دور جدید میں پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں نومولود بچوں کی جسمانی مالش اور باندھ کر سولانے کی صدیوں پرانی روایات دم توڑتی جا رہی مگر ڈیرہ اسماعیل خان میں نومولود بچوں کی جسمانی مالش اور بچے کو باندھ کر سولانے کی صدیوں پرانی روایات آج بھی زندہ و جاوید ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے گھروں میں پیدائش کے بعد ماں اور بچے دونوں کی مالش کا اہتمام کیا جاتا ہے مالش کا یہ عمل نسل در نسل چلا آ رہا ہے نومولود بچے کی جسمانی مالش نانی، دادی یا ماں کرتی ہے۔ جبکہ ماں کی مالش گھریلوں خواتین سرسوں، گری، زیتون کے تیل سے کرتی ہیں۔ بزرگ خواتین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ مالش ایک صحت مند بچپن کی کنجی ہے۔ مالش سے نومولود بچوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔ بچے کی جسمانی مالش کر کے اس کی آنکھوں میں سرما لگایا جاتا ہے اور ایک سوتی کپٹرے جس کو سرائیکی زبان میں *دلا بڈھڑھا* کہا جاتا ہے میں کچھ اس طرح لپیٹا جاتا ہے کہ بچے کے ہاتھ سینے پر اور ٹانگیں سیدھی کرکے باندھ دیا جاتا ہے بعد میں چارپائی کے ساتھ کپٹرا باندھا جاتا ہے جس کو سرائیکی زبان میں *گھگوٹی* کہا جاتا ہے اس میں بچے کو سولا دیا جاتا ہے۔ ماؤں کے مطابق تیل سے کی جانے والی یہ مالش جب درست انداز میں کی جائے تو اس سے بچے کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے، بچہ بیکٹیریئل انفیکشن سے بھی بچ جاتا ہے۔ مالش کرنے والی ماؤں کا کہنا ہے کہ ہم نے بچی کے پیٹ کو دل کی شکل میں آہستہ آہستہ سہلانا شروع کیا اور پھر اس طریقہ کار کو پورے جسم پر استعمال کیا۔ پھر ٹانگوں کی مالش کرکے باندھ کر سولاتے ہیں۔ محققین کے مطابق نومولود بچوں کے لیے مالش کے فوائد ان کی صحت کے لیے بڑی عمر تک رہتے ہیں۔ باقاعدہ مساج بچے کے مائیکرو بایوم بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بیکٹیریا کی وہ تہہ ہوتی ہے جو جلد اور آنتوں میں رہتی ہے۔ مائیکرو بایوم ایک موثر رکاوٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انفیکشن دور رہ سکتا ہے۔


شیئر کریں: