بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات اور معاشرے کی زمہ داری

شیئر کریں:

تحریر ابوبکر صدیق

چاند رات تھی بچے بڑی عید کی تیاریوں میں مگن تھے
مردان کے علاقہ جانبازنرے کی 4 سالہ اقراء گھر سے ہاتھوں
پر مہندی سجانے کے لیے نکلی مگر واپس نہ لوٹی۔بچی کے
رشتہ داروں نے رات بھر بچی کی تلاش میں گزاری لیکن ناکامی
کے بعد اہلخانہ نے گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانے میں درج کرائی

پولیس نے تفتیش کا عمل شروع کر لیا یوں چار دن بعد وویلا مچ گیا
کہ 4 سالہ اقراء کی لاش قریبی کھیتوں میں پڑی ہے اس خبر کو سنتے ہی
علاقہ میں کہرام مچ گیا بچی کی والدہ ننی بچی کی لاش دیکھ کر اپنے ہوش
کھو بیٹھی.

پوسٹمارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ ذیادتی کی تصدیق ہوئی پولیس
کی بھی دوڑے لگ گئیں خصوصی ٹیمیں تشکیل پائی ملزم کا سراغ لگانے
کے لیے علاقے کے سینکڑوں افراد کے خون کے نمونے لیکر فرانزک کے لیے
بھیجوائے گئے لیکن ملزم ہاتھ نہ آسکے والدین کے ساتھ پولیس بھی پریشان
تھی

کہ اچانک کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا اور پولیس نے انکشاف کیا کہ
معصوم اقراء کے قتل میں اسکی دو پڑوسن بہنیں ملوث ہے اب پولیس
اور اسپتال انتظامیہ کے مابین اس معاملے پر ٹھن گئی اس دوران پنجاب
فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ بھی سامنے آئی جس میں بچی کے ساتھ
ذیادتی نہ ہونے کی تصدیق ہوئی

غلط رپورٹ پیش کرنے پر والدین نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف درخواست
دی اور پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ایم ایم سی کے فرانزک لیبارٹری کے
انچارج اور ٹیکنیشن کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ٹیکنیشن کو گرفتار کر لیا
مردان میں اقراء کا واقعہ کوئی نیا نہیں تھا اس طرح کے واقعات مردان ریجن
میں متعدد بار رونما ہوچکے ہیں

مردان ریجن جس میں نوشہرہ،چارسدہ،صوابی،اور مردان کے
اضلاع شامل ہیں میں 2019 میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے
48 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جبکہ 46 واقعات میں بچوں کے ساتھ
زیادتی کی کوشیشیں مختلف وجوہات کی بنا پر ناکام ہوئی

سب سے زیادہ کیسز نوشہرہ میں رجسٹرڈ ہوئے جہاں 18 بچوں
کو ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔صوابی دوسرے نمبر پر رہا وہاں 13
بچوں کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔۔تیسرے نمبر پر مردان رہا اس ضلع
میں 11 مقدمات درج کئے گئے۔

چارسدہ میں 6 بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کی گئی
ڈی آئی جی مردان ریجن کے مطابق ان واقعات میں ملوث
افراد کا سراغ لگانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے علاوہ
ہزاروں افراد کی ٹیکنیکل مانیٹرنگ کی گئی انکا دعویٰ ہے
کے بچوں کے ساتھ ذیادتی کے واقعات میں ملوث تمام ملزمان
کو گرفتار کیا گیا

بچوں کے ساتھ ذیادتی کے واقعات میں اضافہ معاشرے کے لیے
تشویش ناک ہے اگرچہ حکومتی ادارے اور تنظیمیں اس حوالے
سے عوام میں شعور، بیداری اور اگاہی پیدا کرنے کے لیے مسلسل
مہم چلا رہی ہیں لیکن اس کے باجود یہ افسوس ناک واقعات روکنے
کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے بعض اضلاع میں
بچوں کے متعلق جرائم کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کر دی ہے لیکن
معاشرے کے صاحب رائے افراد کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہے
یہ صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ ہم سب کو اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا
ہوگا

اس سلسلے میں سب سے بڑی زمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے
کہ بچوں کو اپنا دوست بنائے اور انکی خاموشی ۔توڑے ان میں اعتماد
پیدا کریں والدین ذیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں اس معاملے
کی اہمیت کو سمجھیں بچوں کے ساتھ اس موضوع پر بات کریں۔

یہ بھی ممکن نہیں کے والدین سارا دن بچوں کو دیکھے کیونکہ بچوں کی
دیکھ بال کے ساتھ زندگی گزر بسر کرنے کے لیے محنت مزدوری اور دیگر
معاملات بھی نمٹانے پڑتے ہے کچھ زمہ داریاں معاشرے کی بھی ہے

اسکولوں میں اساتذہ کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی بچوں کے مسائل
پر نظر رکھیں علاقہ عمائدین اور علمائے کرام بھی اس قسم کے واقعات میں
روک تھام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہے وہ اس مہم میں والدین اور
حکومت کا ساتھ دیں

حکومت اس معاملہ کو سنجیدہ لیں اس حوالے سے قانون سازی کریں
بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے والوں کو عبرتناک سزا دیں تاکہ اس قسم
میں واقعات میں کمی آئے اگر بچوں کے زیاتی کے واقعات میں کمی نہ
آئی تو مستقبل میں اس قسم کے واقعات خوفناک حد تک بڑھ سکتے ہیں


شیئر کریں: