بلوچستان بھر میں تیسری پوزیشن لینے والے مشتاق حسین بھی مچھ میں ذبح کردیا گیا

شیئر کریں:

دشت گردوں نے لہو ٹپکا کر ایک علم کا چراغ بھی بجھا دیا
مچھ میں دہشتگروں نے طالب علم مشتاق حسین کو بھی ذبح کرڈالا
مستقبل کے روشن خواب دیکھنے والا ذہین اور انتہائی محنتی مشتاق بلوچستان میٹرک
امتحانات میں صوبے بھر میں تیسری پوزیشن اپنے نام کرچکا تھا
مشتاق حسین نے میٹرک کے امتحانات میں 1053 حاصل کیے تھے
مشتاق نے نہ صرف تعلیم جاری رکھی بلکہ اس نے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے
اور گھروالوں کو مالی اسپورٹ دینے کے لیے کوئلے کی کانوں میں مزدوری جاری رکھی۔
کوئلے کی سیاہ کانوں میں کام کرنے والا یہ ہیرا اپنے روشن مستقبل کے لیے پرامید تھا
مشتاق کے خاندان والے بھی سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے
طالب علم کی ماں اب روشن دنوں کے لیے پرامید تھی۔

ہزارہ برادری کا 3 دن سے سٹرکوں پر لاشیں رکھ احتجاج ، ریاست مدینہ کے دعویدار غائب

ماں کو یقین تھا کہ اس کا جگر گوشہ اب کانوں میں مزدوری کرنے کی جگ کہیں افسر لگ جائے گا اور گھر کی غریبی دور ہوجائے گی
اس بدقسمت ماں کو کہاں خبر تھی کہ سالوں کی محنت اور امیدوں سے جواں کیا گیا یہ درخت پھل آنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جائے گا
مشتاق حسین بھی ان گیارہ کان کنوں میں سے ایک کان کن تھا جس کو اس فرقے اور قبیلے کی بنیاد پر شناخت کرکے ذبح کردیا گیا
مشتاق حسین کو مچھ میں دہشت گردوں نے بے دردی سے قتل کیا

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کراچی کے9 مقامات پر دھرنے

ان ظالموں نے مشتاق کی سانسیں روک کر اس کے والدین کو جیتے جی مار دیا
ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایسے کئی مشتاق ریاست سے اپنے خون کا حساب مانگ رہے ہیں
آج کوئٹہ کی سڑک پر جاری ہزارہ برادری کے دھرنے میں مشتاق حسین کا خون تو نظر آرہا ہے
لیکن قاتل کے خون آلودہ ہاتھ آج بھی قانون کی پکڑ سے باہر ہیں


شیئر کریں: