بلوائی ہجوم اور پاکستان

شیئر کریں:

لیل و نہار / عامر حسینی

آج کل ذہنی انتشار اس قدر ہے کہ سدھ بدھ بھولے بیٹھا ہوں۔ ایک طرف مہنگائی کا سیلاب ہے جو مجھ جیسے مزدور
کو خس و خاشاک بنائے ہوئے ہے تو دوسری طرف روزمرہ خرچ سے ہٹ کر علاج و معالجے پہ اٹھنے والے اضافی
اور غیر متوقع اخراجات ہیں جس نے مجھ جیسوں کے ہوش اڑا رکھے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ان سب کے درمیان بات
کہاں سے شروع کی جائے۔

لوگ کہتے ہیں ہمارے سماج کو آج جب “بلوائی ہجوم عاشقان” کے نرغے میں دھکیلا جارہا ہے تو میں اس جوش و جذبے
کے ساتھ اس اقدام کے فکری اور عملی اثرات پہ لکھ نہیں رہا جیسے میں تکفیری اور نام نہاد جہادی یلغار کے دنوں میں
لکھ رہا تھا۔ ان کی بات درست ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اس سارے معاملے کو نہایت باریکی بینی سے
نہیں دیکھ رہا۔

مجھے تو یہ نظر آرہا ہے کہ ہماری اسٹبلشمنٹ نے جس بڑی قیمت پہ افغانستان میں “افغان طالبان” کو گلے سے لگائے
رکھا ہے اس کا خمیازہ اب ایک نئے مرحلے میں آہستہ آہستہ ہمیں بہت ہی بے رحم شکل میں بھگتنا پڑے گا۔ پاک-افغان
سرحد چاہے وہ طورخم باڈر ہو یا اسپین بولدک باڈر ہو اس کے راستے سے ایک تو افغان طالبان سے ٹوٹ کر بننے والی
داعش خراسان کے لوگ پاکستان میں نہ صرف داخل ہوں گے بلکہ وہ یہاں اس وقت بظاہر سوئے ہوئے سیل کے لوگوں
کو بھی اپنے ساتھ ملائیں گے اور پاکستان جلد یا بہ دیر دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کرے گا-

اس لہر کے فکری نظریہ ساز بے روزگار بڑے پیمانے پہ موجود بے چین نوجوانوں میں بھی اپنے لیے نئے رنگروٹ
تلاش کرے گی اور نئی پاکٹس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریاست میں غیر منتخب ہئیت مقتدرہ میں جو مذہبی کارڈ کو گلے
سے لگائے ہوئے ہے اس نے ہر قیمت پہ لبرل بورژوازی کو موقعہ پرستانہ کردار کے ساتھ ساست کرنے پہ مجبور
کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور ہماری لبرل بورژوازی بھی ہمیشہ کی طرح ہر قیمت پہ اقتدار میں شریک ہونے کو
بے تاب ہے چاہے اپنے لبرل ازم کو ٹھکانے کیوں نہ لگانا پڑے۔ پی پی پی، اے این پی سمیت پاکستان میں جو سوشل ڈییموکریٹیک روایت کی سیاسی جماعتیں ہیں وہ اس وقت سنٹر لیفٹ سیاست کو بھی ٹھیک طریقے سے زندہ نہیں کرپارہیں چہ جائیکہ وہ آنے والی مذہبی اور نسلی دہشت گردی کی لہر کے مقابلے میں مزدوروں، کسانوں، طالب علموں اور مظلوم و مجبور و مقہور گروہوں کو بائیں بازو کی روایتی انقلابی سیاست اور نعروں کے گرد اکٹھا کرپائیں۔

ہندوستان میں کمپوزٹ سیکولر کلچر اور احساس آہستہ آہستہ زعفرانی بلوے کے آگے دم توڑ رہا ہے۔ اور وہاں پہ سیکولر بوژوا جمہوریت جیسے آہستہ آہستہ تحلیل ہورہی ہے اس پہ سب سے زیادہ خوشی آکر جن سنگھیوں کو ہے تو جماعت اسلامی کے خمیر سے اٹھنے والوں کے لیے بھی یہ بڑی خوشی اور فرحت کی بات ہے۔

پاکستان میں ملامتی صوفیانہ روایت کو جیسے لبیکی گھن کھارہا ہے اور نام نہاد صوفی لبیکی بلوے کو عشق کے سیلاب کا نام دے رہا ہے ایسے ہی ہندوستان میں سیکولر جمہوری روایات کو جن سنگھی گھن کھارہا ہے اور ہندؤں کا ایک بہت بڑا گروہ اسے “ہندؤ راشٹر” کی تشکیل خیال کررہا ہے۔

گزشتہ دنوں “سکرول ان” میں فریدہ پاچا دیوالی کے حوالے سے اپنے گھر کی ایک روداد پڑھ کر بے اختیار دل چاہا کہ اپنے پڑھنے والوں کو اس سے روشناس کراتا چلوں۔ وہ کہتی ہیں

“یہ سب ایک یا دو ہفتے پہلے شروع ہوجاتا۔ میرے ابا مقامی مسجد کے امام کے پاس جایا کرتے اور وہ اپنی مقدس کتابوں سے مہورت کا اعلان کرتے۔: دیوالی کی شام وہ مبارک گھڑی جس پہ میرے ابا کو آنے والے کے لیے اپنے کاروبار کے کھاتوں کو شروع کرنا ہوتا۔

بہت سارے بوھرا کی طرح میرے ابا بھی تاجر تھے۔ وہ شہر کے مضافات میں بنے کارخانوں کو ٹول اور مشینی پرزوں کی سپلائی دیا کرتے تھے۔ بوھرا گجرات سے آنے والی شیعہ مسلمان برادری ہے۔ 19ویں صدی میں ان میں سے بہت سارے بمبئی ہجرت کرکے آئے اور فورٹ ولیم و کرافورڈ بازار کے گرد بس گئے۔ اصل میں فورٹ ولیم کا ایک پڑوس اب بھی بوھرا بازار کہلاتا ہے حالانکہ وہاں اب چند ہی بوھرا کاروبار موجود ہیں۔

سن 1878 میں ہمارے پڑ نانا نے کرافورڈ بازار کی ایک گلی میں ہارڈ وئیر اسٹور کھولا تھا۔ خاندان اسٹور کے اوپر والی منزل میں رہتا تھا۔ یہ بالائی منزل تھی جہاں میری اماں، ان کے بہن بھائیوں اور کزنوں نے پرورش پائی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ کرافورڈ بازار کی ہر ایک کلی کسی خاص فن حرفت کے سازو سامان کے لیے خاص ہوگئی تھی۔ ہارڈ وئیر،گلاس، پیپر، جواہرات، رنگ وغیرہ ۔ بوھرا،خوجا اور میمن برادریوں کے کاروبار گجرات کے ہندؤ اور جین جاتوں کی دکانوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ زبان، مقام کے اشتراک کے بندھن میں گوندھے ہوئے اور کاروباری تعلقات سے جڑے ہوئے وہ ایک دوسرے کے ساتھ روز میل جول کرتے اور اس نے ان کو ایک دوسرے کے ساتھ ایک پیچیدہ بندھن میں جوڑ دیا تھا۔

دیوالی کے پہلے روز دھنتیرس کو میرا بھائی اور میں ابا کے ہمراہ زیوری بازار میں چاندی کی ایک چھوٹی سی دکان میں جاتے جہاں ہم اس دن کی روایت کی مناسبت سے چاندی کا ایک سکّہ خریدتے۔ بس فرق صرف یہ ہوتا کہ اس سکّے پہ لکشمی دیوی کی شبیہ کی بجائے اللہ کا نام کندہ ہوتا۔ ہماری اگلی منزل عبدالرحمان اسٹریٹ میں اسٹیشنری اسٹور ہوتا ۔ سال نو کے لیے درکار تمام کھاتے، لیجر، رجسٹر، بل بکس اور دیگر کا آڈر دیا جاتا۔

دکاندار ان سب کو سرخ رنگ کے کپڑے میں لپیٹ کر باندھ دیا کرتا اور بانس کی ایک قلم ان کے اندررکھتا اور پھر احتیاط سے اس سامان کو ہمارے پھیلے بازوؤں پہ رکھ دیتا۔ ہم گلیوں سے اس حالت میں کزرتے تھے کہ بھاری کتابوں کے بوجھ تلے ہمارے بازو شل ہورہے ہوتے ،ہم دوسرے بچوں کے پاس سے گزرتے، ان میں سے کچھ کی پیشانیوں پہ تلک لگے ہوتے اور وہ ہماری طرح کا بوجھ ڈھو رہے ہوتے تھے۔

راستے میں ہم اپنے خاندانی اسٹور پہ ٹھہرتے۔ یہاں ہمارے ماموں صفائی کی نگرانی کررہے ہوتے۔ فرش پہ جمی گندگی صاف کی جارہی ہوتی اور شیلفوں میں لگے مکڑی کے جالوں کو ہٹایا جارہا ہوتا تھا اور لگی گرد صاف کی جارہی ہوتی تھی جو رواں سال جمع ہوجایا کرتی تھی۔

ایک گہرے غار جیسی جگہ جو تازہ پانی کے کنوین جیسا معلوم ہوتا تھا ہماری چھپن چھپائی کے کھیل کے لیے پسندیدہ جگہ تھی۔ اس کے تاریک گوشے جادو اور بھید سے بھرے ہوئے تھے۔ اس کی دیواروں پہ ہر سائز کے نٹوں، کیلوں، بیچوں اور بولٹ سے بھرے سینکڑوں بکسے لگے ہوئے تھے۔ بعض اوقات جب بڑے دن بھر کے لیے کہیں جاتے تو ہمیں وہاں کھیلنے کی اجازت ہوا کرتی تھی ۔

دیوالی کا دن شام ہونے کے انتظار کے ساتھ گزارا جاتا۔ متعین وقت سے پہلے سارا قبیلہ اسٹور پہ جمع ہوجایا کرتا، عورتیں دلکش ساڑھیوں میں اور مردا اپنے سروں پہ بوھرا ٹوپیاں پہنے ہاتھوں میں گھل رہی آئس کریم کے پیالے پکڑے اپنے ان دشتے داروں سے بات چیت کرتے جنھیں انھوں نے کافی عرصے سے دیکھا نہیں ہوتا تھا۔

پھر مہورت کے عین وقت پہ جونہی پہلا پٹاخہ کان پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ پھٹ کر روشنی کا ہالہ بناتا اور عمارت اس کے دھماکے کی آواز سے لرزتی،میرے والد کھاتے والی کاپی کا پہلا صفحہ کھولتے زعفرانی پانی کا چھڑکاؤ ہوتا اور سیاہی کی دوات میں وہ بانس والی قلم ڈبوتے اور گجراتی میں پہلے الفاظ لکھتے جو بسم اللہ کا ترجمہ ہوا کرتے تھے۔

یہ صرف ہمارے خاندان کا خاصہ نہ تھا۔ اگر آپ ان گلیوں میں گھومتےے پھرتے تو بے شمار بوھرا دکانوں میں آپ کو پھول اور بتیاں روشن ملتیں ، ایسی رسومات اس وقت بجا لائی جاتی دکھائی پڑتیں جب ہندؤ اپنی دکانوں میں لکشمی دیوی کو بلانے کے لیے “جوپڑا بوچا” کررہے ہوتے تھے۔

دیوالی کے اگلے دن کی صبح، گجراتی سال نو پہ تمام کاروبار کھل جاتے۔ اپنے بہترین لباس میں، میں اور بھائی اپنے والد کے ہمراہ ہوتے جو اپنے دوستوں ، کاروباری ساتھیوں سے ملنے جاتے جو مسلمان اور ہندؤ سب ہوتے تھے۔ مردحضرات ہاتھوں کو جوڑ کر پرنام کرتے اور ایک دوسرے کو “سال مبارک” کہتے اور ہم اپنے منہ میں خشک میوے ٹھونس لینے کی کرتے اس امید پہ کوئی “انکل” ہمیں مٹھی بھر خشک میوے دے گا۔

ظاہر ہے کہ یہ ہمارا سال نو تو نہیں ہوتا تھا۔ بوھرا کا نیا سال تو محرم کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ج اسلامی کلینڈر کے مطابق پہلا مہینہ تھا۔ اگرچہ اس دن بھی ہم دعوت طعام سے سرفراز ہوتے لیکن یہ دن پہلے ہی عزاداری اور مرثیہ نگاری کے ہوتے تھے۔ جبکہ گجراتی سال نو خوشی کا تیوہار تھا۔
تقسیم شدہ شہر

حالات نوے کی دہائی کے شروع میں بدلنا شروع ہوئے۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام اور اس کے پیچھے پھوٹ پڑنے والے فسادات نے بمبئی کے کردار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ تھوڑے عرصے بعد مالیاتی سال کی ابتدا یکم اپریل سے ہونے لگی جس سے اس کی تمام رسومیاتی اور مذہبی اہمیت ختم ہوکر رہ گئی۔ شہر کا نام بھی بدل دیا گیا جس سے نئی قسم کی مقامیت کو اہمیت ملی، بوھرا برادری بھی بدل گئی، بہت زیادہ تنگ نظر اور اپنے اندر بند ہوکر رہنے لگی، کاروبار کرنے کا طرز بدلا تو پرانے طرز پہ ادا کی جانے والی رسموں کے لیے جگہ نہ رہی ۔ اور آہستہ آہستہ جیسے جیسے وقت گزرا علاقہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا، پراانے کاروبار کی جگہ چمکدار دکانوں نے لے لی جن میں سستا چینی مال فروخت ہورہا تھا

میرے ابا کافی پکے مذہبی تھے۔ وہ کام پہ جانے سے پہلے ہمیشہ قرآن پاک کے چند اوراق کی تلاوت کرنا کبھی نہ بھولتے، کبھی جمعہ کی نماز قضا نہ کرتے اور ساری زندگی اپنی موت تک رمضان میں روزے رکھا کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے لیے یہ فطرت سے ہٹ کر بات نہیں تھی کہ وہ گنیش پانڈل پہ بٹ رہی پرساد کے لیے اپنی ہتھیلی پھیلا دیا کرتے تھے۔ یا ان کے لیے ہولی کے لیے روشن آگ میں سکّہ پھینکنا ایسا ہی تھا جیسے محرم کے دوران سبیل امام حسین سے پانی پینا اور تعزیہ کا جلوس دیکھنا۔

میں اکثر حیران ہوتی ہو کہ ایسا اعتماد، اور خود پہ یقین کرنے والی شناخت ان میں کہاں سے آیا کرتی تھی ۔ اور کس طرح سے وہ تمام اجزا اور ٹکڑے جن سے ملکر میرے ابا کی ذات کا احساس بنا تھا اکٹھے شانتی سے وہاں رہتے اور ایک دوسرے سے کبھی ٹکراؤ میں نہیں آیا کرتے تھے؟ یہآں تک کہ کچرات میں 2002ء میں جو مسلمانوں کی نسل کشی ہوئی اس نے بھی خدا پہ ان کے یقین کو متزلزل نہیں کیا اور نہ ہی ہماری مشترکہ انسانیت پہ سے ان کا ایمان اٹھا۔

کیا اس کی وجہ ان کا اس نسل سے تعلق ہونا تھا جو نو آزاد ہندوستان میں پلی پڑھی اور جس کے اندر تحمل اور سیکولر ازم کی اقدار باہم ملی جلی تھیں؟ کیا ہم ہمیشہ سے ان اقتدار سے محروم ہونے پہ مجبور تھے کیونکہ ہر آنے والی نسل اس جدوجہد سے مزید دور ہوتی گئی جس کے نتیجے میں یہ ملک بنا اور ڈھیل ڈھالے طریقے سے اس کے بنیادی آدرشوں سے بندھے ہوئے ہیں؟ معاملہ چاہے جو کچھ بھی جو ہم بن چکے اس سے ہم آہنگ ہونا بہت مشکل ہے۔

متحارب کیمپوں میں بٹے آج کے ہندوستان میں، یہ ناقابل یقین لگتا ہے کہ محض تین عشروں پہلے دیوالی جیسی تقریبات مشترکہ ہوا کرتی تھیں ۔ جیسا کہ میں ہم آہنگی، برداشت، شائستگی اور شناختیں جو سیال تھیں اور ملنساری پہ مبنی تھیں ان کے کھ جانے کا سوگ مناتی ہوں، میں یہ محسوس کرنے پہ مجبور ہوگئی ہوں کہ آج کے دور میں کہیں ایسا نہ ہوں کہ زندہ روایات مکمل طور پہ بھلا دی جائیں اور ہم تاریخ میں نفرتوں سے مملو آمادہ جنگ برادریوں کے طور پہ یاد رکھے جائیں۔

جن دنوں بمبئے میں فسادات کے تاریک یوم تھے، میرے ابا کو گھر سے ہندؤ کاروباری ساتھی جو اپنے کاروبار اور دکانوں بارے فکر مند ہوتے جو جہآں ہم رہتے تھے اس کے بالکل قریب تھے بلاتے تو وہ ان سے کہتے،”کچھ نہیں ہوگا، پریشان مت ہوں، میں ہوں نا”۔

بیس سال کی عمر میں خود کو ان سے زیادہ سمجھ دار مان کر میں اپنے دیدے گھماتی اور ان کو ملامت کرتی،” کیا آپ اپنے آپ کو امتابھ بچن سمجھتے ہیں؟” بلوائی ہجوم سے بھڑ پڑنے کا میرے ابا کا خیال مجھے ہندی فلموں کے گھسے پٹے پلاٹ کی طرح مضحکہ خیز معلوم ہوتا تھا جن کو دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہ بات مجصھے بہت دیر سے سمجھ آئی کہ شاید ان کا اپنے دوستوں کو یہ باور کرانے کا نہایت سادہ طریقہ تھا کہ شہر ہوسکتا ہے شعلوں کی لپٹ میں آجائے لیکن تمہارا اور میرے جو رشتہ ہے وہ بدلے گا نہیں
(نوٹ‌ لکھاری کا ادارہ کی پالیسی سے متفق ہونا ضروری نہیں)


شیئر کریں: