بغیر امتحان دیے کامیابی کا طریقہ صحافی کی زبانی

شیئر کریں:

تحریر مظاہر سعید

بطور صحافی اپنے سفر آغاز جنرل نمائندگی سے کیاکچھ عرصے بعد یہ نمائندگی اسپورٹس میں تبدیل ہوگئی۔
بیوروچیف نے احکامات جاری کیے کسی بھی بیٹ میں اچھی خبر دے دو تو تمھیں وہی بیٹ دے دونگا۔
کافی کوشش کی اور بالآخر وفاقی اردو یونیورسٹی کی اچھی خبر دی جس پر انیس منصوری صاحب اور اسلم خان صاحب نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم سے متعلق خبروں کے ذمہ داری سونپ دی اور یوں تعلیمی رپورٹر بن گیا۔
ویسے تو دوران رپورٹنگ کافی کام کیا تو سوچا آج دوران امتحانات ہونے والے وائٹ کرائم کے بارے میں کچھ تحریر کروں وائٹ کرائم ایسا کرائم ہے جس کے ثبوت حاصل کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔
کیونکہ اس منظم کرائم کا حصہ ایک چوکیدار سے لیکر بورڈآفس میں موجود سیکشن آفیسر سب ہی ملوث ہوتےہیں اس کرائم سے سب سے زیادہ تکلیف بورڈ کے ناظم امتحانات کو ہوتی ہے لیکن بچارے اس کو پکڑ نہیں پاتے اس وائٹ کالر کرائم کی آمدنی دولا لاکھ روپے سے دس لالھ روپے یومیہ ہوتی ہے یعنی میٹرک کے امتحانات میں ہونے والے نویں اور دسویں جماعت سائنس گروپ کے دس پرچوں کے اختتام پراس آمدن کا تخمینہ بیس لاکھ سے ایک کرروڑ روپے تک جاپہنچتاہے۔
اس کام کو اس طرح سے سر انجام دیا جاتا ہے کہ سرکاری ادارے تو دور کی بات بورڈ کے چیرمین اور ناظم امتحانات اس وائٹ کرائم کو پکڑ نہیں پاتے اینٹی کرپشن گزشتہ پانچ سالوں سے اس کام کےپیچھے پڑی ہے لیکن ہربار اینٹی کرپشن کے چھاپوں کے بعد ناکامی نے انکے قدم چومے ۔۔۔اور اگر اس کام کے قریب پہنچ بھی گئے تو رشوت وصول کی اور چلے گئے لیکن جڑ تک نہیں پہنچ سکے۔
ثانونی تعلیمی بورڈ نے بھی مرکز امتحانات کو بلیک لسٹ کیا لیکن یہ کام نہ رک سکا سندھ بھر میں ہزاروں امتحانی مراکز بنتے ہیں جن میں سیکڑوں امتحانی مراکز ایسے ہوتے ہیں جہاں نقل کا تصور نہیں ہوتا یہ بات بھی حیران کن ہے مگر حقائق پر مبنی ہے ایسے امتحانی مراکز کی وجہ سے طالبعلم شدید پریشانی میں مبتلا ہوجاتاہے کیونکہ یہ امتحان طالبعلم کے لیے پہلا ایسا امتحان ہوتا ہے جوایک طالبعلم اپنے اسکول کے بجائے دوسرےاسکول میں دیتاہے ایک امتحان کا خوف دوسرا نئے اساتذہ کو دیکھنے کا ڈر۔
اب ایسے میں یہ مافیا امتحانی مراکز بننے کے بعد ایسےاسکول پر کام کرتےہیں جن کامرکز امتحان ایسا اسکول بنا ہو جہاں نقل نہیں ہوتی اس طرح ایسے طالبعلموں کے والدین اپنے اپنے اسکولوں کے اساتذہ کے زریعے اس مافیا کے کارندوں سے ملاقات کرتےہیں۔
یہ مافیا ان والدین کو اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ اپ کے بچے کو پیپر دینے کی نہیں بس پیپرکے اوقات میں ہمارےدیئے گئے پتے پر لانا ہوگا۔
صرف دس سے پندرہ منٹ کےلیےوالدین اس بات پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں۔
امتحانات سے تین روز قبل یہ مافیا طلباء کی مکمل تعداد بورڈ میں موجود سیکشن آفیسر کو بھیج دیتےہیں۔
سیکشن آفیسر مختلف امتحانی مراکز جہاں ان کے ہم خیال اساتذہ پہلے سے تعینات ہوتےہیں وہاں دو سے تین سو اضافی کاپیاں بھیج دی جاتی ہیں۔ امتحانات سے قبل سیکشن آفیسر اسکول اساتذہ اور مافیا کے کارندے کسی بھی گھر میں باقاعدہ ملاقات کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کی کوئی غلطی سرزد نہ ہو ساتھ ہی اسکول میں تعینات اساتذہ کی بھی نشاندہی ہوجاتی ہے امتحانات شروع ہوتے ہی اسکول میں موجود اساتذہ پیون اور چوکیدار کی مدد سے کاپیاں ایک پیکٹ بند کرکے امتحانی مراکز سے باہر بھیجی جاتی ہیں اور قریبی گھرمیں ان کاپیوں کو بھرا جاتا ہے۔
ٹھیک بارہ بجے یا امتحانی وقت ختم ہونے سے بیس منٹ قبل یہ کاپیاں اور طلباء کی حاضری جمع کرکے امتحانی مراکز پہنچادی جاتی ہے۔
اس عمل کے بعد سیکشن آفیسر کا کام شروع جاتاہے جو ایک کاپی کے ایک ہزار روپے وصول کرنے کے بعد کاپیوں کو انکے اصل امتحانی مرکز والی کاپیوں کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو اس طرح بغیر مرکز امتحان آئے ایک طالبعلم باآسانی اے اور اے ون گریڈ کے نمبر حاصل کرلیتاہے ۔
کسی کے والدین اس کام کے پانچ ہزار چھ اور کسی کسی کے والدین اس کام کے آٹھ ہزار روپے دیتے ہیں حیران کن بات یہ ہے کہ طلباء سرکاری اسکولوں کے نہیں پرائیوٹ اسکولوں کے ہوتےہیں۔
اسکول پیون امتحانات کےدوران پانچ ہزار چوکیدار روازنہ پانچ سے آٹھ ہزار اور اسکول سپریٹینڈٹ تقریبا پچیاسی سے نوے ہزار روپے روازنہ کماتا ہے۔
اگر کاپیوں کی تعداد زیادہ ہو تو اس رقم میں اضافہ ہوجاتاہے اس تحریر کے بعد بورڈ کے اندر موجود انرولمنٹ سیکشن اور ایم کیوام لندن حالیہ دنوں عمرہ کی سعادت حاصل کرنےوالے ایک افسر اور چیرمین سیکریٹریٹ کے افراد کس طرح امتحانات کے بعد نتائج تبدیل کرتے ہیں اس بارے میں پڑھنےوالوں کو آگاہی دی جائے گی۔


شیئر کریں: