بغاوت کے مقدمہ سے صحافی اظہارالحق کی رہائی

شیئر کریں:

لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان اور سابق صدر پرویز مشرف پر تنقید کے الزام میں گرفتار صحافی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالت نے بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار صحافی اظہار الحق کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
جسٹس مجاہد مستقیم نے صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، صحافی کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں بغاوت کا الزام بنتا ہی نہیں تها۔
بغاوت پر اکسانے کی دفعہ 505 لگانے کیلئے مجاز اتهارٹی کی مظوری اور ضابطہ فوجداری کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔
میاں داؤد نے کہا ہمارا کیس بهی یہی ہے کہ حکومت اور پرویز مشرف پر تنقید بغاوت کے زمرے میں نہیں آتی۔
دسمبر میں پرویز مشرف کو سزا ہوئی اور حکومت سابق صدر کے دفاع میں آ گئی۔
ان دنوں میں پرویز مشرف اور حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو دهمکیاں دی جا رہی تهیں۔
صرف میڈیا کو خوفزدہ کرنے کیلئے صحافی پر جنوری میں جهوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔
تین ماہ گزر گئے، ایف آئی اے صحافی کے موبائل اور کمپیوٹر کا فرانزک نہیں کرا سکا۔
قانون کہتا ہے کہ تفتیش اور چالان نامکمل ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔
اس پر ایف آئی اے کے وکیل کا کہنا تھا ملزم سے ابهی بہت تفتیش کرنا باقی ہے یہ ضمانت کا حقدار نہیں۔
عدالت نے کہا صحافی کو قید میں رکهنا ہے تو تفتیش اور چالان میں کوئی پیش رفت تو بتائیں؟
کارکردگی آپ کی زیرو ہے اور ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے پهرتے ہیں۔


شیئر کریں: