برطانیہ کی معیشت تباہی کے دہانے پر

شیئر کریں:

لندن سے تحریر وجیہہ الحسن

ایک زمانہ تھا جب انگلستان کا جھنڈا پوری دنیا پر راج کرتا تھا مشرق سے لے مغرب تک ملکہ برطانیہ کا تاج چمکتا تھا خوشحالی ترقی اس قوم کا مقدر تھی پوری دنیا سے لوگ برطانیہ میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے اتے تھے بہترین روزگار ملنا تو یہاں پر عام سی بات تھی کوئی شخص بھی خالی پیٹ نہیں سوتا تھا وقت گزرتا رہا برطانیہ میں سب کچھ ٹھیک چلتا رہا کہ اچانک برٹش گورمنٹ نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ یوکے کو یورپی یونین سے الگ کیا جائے اور پھر ملک میں 23جون 2016 کو ریفرینڈم ہوا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ رہنا چائیے یہ نہیں حالانکہ یہاں کی عوام یورپی یونین سے باہر نہیں نکلنا چاہتی تھی مگر پھر بھی برٹش گورمنٹ نے فیصلہ کیا کہ انگلینڈ اب یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا اور فیصلے پر عملدرآمد ہوا اور انگلینڈ یورپی یونین سے الگ ہوگیا بس یہی وہ غلط فیصلہ تھا کہ برطانیہ کے الٹے دن شروع ہو گئے کیونکہ جب اپ یہ سوچ لیں کہ اپ کما رہے ہیں اور سب کھا رہے ہیں تو وہ اپ کے زوال کا ٹائم ہوتا ہے کیونکہ اپ کو کس کے نصیب کا مل رہا ہے یہ اپ نہیں جانتے اور برطانیہ حکومت نے بھی یہی دعوہ کیا تھا کہ انگلستان کماتا ہے یورپ والے کھاتے ہیں یورپی یونین کے نکلنے کے عمل کو بر گزٹ کا نام دیا گیا جس میں سابق وزرائے اعظم بورس جانسن اور ڈیوڈ کیمرون نے اہم کردار ادا کیا جبکہ سکاٹ لینڈ کی حکومت بر گزٹ کے خلاف تھی
یورپ سے علیحدہ ہونے کے بعد برطانوی گورمنٹ کو یہ احساس ہوگیا کہ انے والے وقت میں عوام کے لئیے مشکل فیصلے کرنا ہوگے برٹش سرکار نے عوام پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں تین سو گناہ اضافہ کرے ایسا عوام پر بم گرایا کہ عوام حیران اور پریشان ہوگئی اسی طرح رہائشی مکانوں کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بھی سو فیصد تک مہنگی ہوگئی جس سے برٹش عوام کی بھی چیخیں نکل گئی اب انگلستان میں حالات یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ برطانیہ کی عوام نے ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے اور اپنے بجلی اور گیس کے بل ادا کرتے ہیں یعنی برطانیہ کی عوام رات کو بھوکے پیٹ سوتی ہے بے روزگاری نے عوام یہاں سے بھی ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے برطانیہ جیسی دنیا کی بڑی معیشت میں پیٹرول کی قیمتیں بھی عوام پر بوجھ بن گئی ہیں
ماہرین معاشیات نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے سال جون میں برطانیہ کی معیشت مزید کم ہو گی آکتوبر سے لے کر اگلے سال جون سے ہر سا ماہی کے دوران 0.2 فی صد کمی اتی رہے گی اور 2023 میں ڈی جی پی کی شرح 0.3 فیصد سے بھی کم ہو سکتی ہے انرجی کی قیمتوں افراط زر اور سود میں آضافے عالمی معیشت کمزور ہونے کی وجہ سے برطانیہ کی معیشت اگلے سال کے وسط تک بھی مشکلات شکار رہے گی نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ برطانیہ میں نرسسز پیرامیڈیکل اسٹاف جوئنیر ڈاکٹرز ریلوئے ملازمین سمیت دیگر شعبہ جات کے ورکرز ہڑتال پر چلے گے ہیں لوگوں کے اندر قوت خرید کم ہو گئی ہے ریل کا پہیہ ہو یہ معیشت کا پہیہ دونوں ہی جام ہو گئے ہیں حکومت وقت بھی اپنی عوام کو ریلف دینے میں ململ ناکام ہو گئی ہے یوکرین اور روس کی جنگ نے برطانیہ کی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دیا ہے اب اس ترقی یافتہ خوشحال ملک کی رونقیں کب بحال ہو گی یہ کوئی نہیں جانتا اس ملک میں معاشی حالات کے پیش نظر تین بار وزیراعظم تبدیل ہوئے مگر عوام کو ریلف نہ مل سکا


شیئر کریں: