برطانوی راج نے ہندؤں کو مسلمانوں کی ہندوستان آمد بارے کیسے گمراہ گیا؟

شیئر کریں:

منان احمد آصف
مترجم: عامر حسینی

نوٹ: ندیم آصف عرشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ ایک پوسٹ میں لکھا کہ مذہبی کارڈ کا سیاست میں استعمال ہندوستان میں برطانوی کالونیل پروجیکٹ تھا تو ہمارے ساتھی شعیب عادل مدیر “نیا زمانہ” نے اس پہ شکوک کا اظہار کیا- میں نے ماہرین سماجیات اور ماہرین تاریخ کی تحقیقات کے حوالے سے ندیم آصف عرشی کی بات کی حمایت کی تو انہوں نے اس تحقیق کو سامنے لانے کی بات کی ۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے تبصرے میں اپنے موقف کی حمایت میں “چچ نامہ” اور “محمد بن قاسم” کی سندھ پہ حملے بارے میں ایسی رائے پیش کی جسے منان احمد آصف اپنی کتاب میں تفصیل سے برطانوی راج کا پھیلایا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے ان کا ایک مضمون ہندوستانی ویب سائٹ “سکرول ان” پہ شایع ہوا ۔یہآں پہ اس مضون کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔(عامر حسینی )

ایک وقت وہ آیا جب ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی پروجیکٹ ہندوستان کے ماضیوں کی کھوج میں بدل گیا تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے آسانی سے جانا نہ جاسکا- اسی لیے اسے بہت کم تسلیم کیا گیا۔ اس کھوج کا مقصد برصغیر میں بیرونی لوگوں، ثقافتوں،مذاہب اور سیاست کی آمد کی دریافت تھا۔ہم جانتے ہیں کہ 1498ء سے ہندوستانی خطہ پرتگیزیوں، ولندیزیوں اور تیموریوں کی تجارتی ، سیاسی اور فوجی حملوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ یقینی بات تھی اس کھوج کے منصوبے کا ایک سبب نئے آنے والے برطانویوں کی خود آپنی آمد کا جواز پیش کرنا تھا۔ اس کی دوسری وجہ برٹش کا اپنے آپ کو رومیوں کا جانشین بتانا تھا۔

سن 1776ء میں ایڈورڈ گبن نے اپنی کتاب ” سلطنت روم کا زوال اور تباہی ” کی پہلی جلد شایع کی۔ یہ سال ہے جب برطانیہ عظمی نے امریکہ میں اپنی 13 نوآبادیات کھودی تھیں۔ جبکہ باقی کی جلدیں 1788ء میں شایع ہوئیں جن کی بہت تعریف ہوئی اور اس کی خوب فروخت بھی ہوئی ۔ گبن کی اس کتاب کا مرکزی خیال برطانیہ عظمی کے تحت عالمی نظام اور سلطنت روما کے تحت عالمی نظام کے درمیان تاریخی رشتوں کی کھوج تھا۔

اس نے اس نظریے کی بنیاد فراہم کی جو برطانوی کالونیل انٹرپرائز کو ماضی کی عظیم سلطنت کا جانشین کے طور پر جواز کی تلاش کی-ایسی سلطنت جو ایک لمبے عرصے کے لیے یورپ میں امن اور خوشخالی لیکر آئی- یہاں تک کہ میں یہ کہوں گا کہ سلطنت روما کے تجربے کے تناظر کے اندر زیادہ بااثر نسل اور سیاست کے درمیان تعلق کی اس کی دریافت تھی۔ یہ تعلق فوری طور پہ ہندوستان میں برطانوی فتح کو جواز بخشنے کے لیے لاگو کیا گیا۔

فرنگیوں نے اپنا سامراجی منصوبہ 1757ء میں پلاسی کی جنگ کے بعد شروع کیا- 1783ء میں ولیم جوںز کلکتہ میں فورٹ ولیم میں بطور سیشن جج پہنچا۔ اگلے عشرے میں اس نے علم لسانیات کی ایک نئی شکل کی بنیاد رکھی جس میں لسانیات اور انسانی ہجرتوں کے رجحانات کو باہم ملایا گیا تھا اور انڈو-یورپی خطے میں نسلوں کے باہم میل جول کا مطلعہ کیا گیا- اس نے قدیم زبانوں اور ہندوستان میں غیر ملکیوں کی آمد کی طویل تاریخ کو ماقبل ہجرتوں سے جوڑ دیا۔، ایک ایسا پروسس جو برٹش کی برصغیر میں موجودگی سے ختم ہگیا- وہ ایک کہانی لیکر آیا جس نے یونانی، لاطینی اور سنسکرت زبانوں کو “مشترکہ سرچشمے” کے زریعے سے جوڑا جو کہ اب وجود نہیں رکھتا تھا۔ یہ مشترکہ سر چشمہ بہت ہی دور دراز کی دوسری سلطنتوں سے آنے والے فاتحین تھے۔

انیس ویں صدی کے شروع میں، برطانوی افسروں کی ایک نئی نسل ہندوستان کے ماضیوں پہ اتھارٹی /سکالر بن گئی ۔ انھوں نے اپنے آپ کو بعد میں آنے والے سکندر اعظم خیال کرلیا اور جغرافیوں، عوام اور چیزوں کی ایسی کہانیاں گھڑیں جو ہندوستان کو یونانیوں سے جوڑتی تھیں اور اسے وسعت دیکر رومیوں اور ماضی سے جوڑ دیتی تھیں۔ الیگزینڈر برنس ، جمیس ٹوڈ ، رچرڈ ایف برٹن اور ایڈورڈ ـبی ایسٹوک ان جیسے اسکالرز میں زیادہ نمایاں تھے۔

انہوں نے بمبئے اور کابل کے درمیان سفر کیے ۔ مسودات، سکّے اور تانبے کے بنے برتن جمع کیے اس بات کو پختہ کرنے کے لیے کہ کیسے سکندر مقدونی کی برصغیر کے شمال مغربی علاقوں کی فتوحات کے زریعے سے ہندوستان یونانیوں کے زیر اثر آیا۔ ان کی تحقیق یونانیوں، رومیوں کی ہندوستان سےتجارت، اسکندر مقدونی کی فتوحات اور اس کی فوجوں کی باقیات پہ مرکوز تھی جو ان علاقوں میں پیچھے بس گئے تھے جہاں جہاں سے سکندر گزرا تھا۔

انہوں نے وسط ایشیا کے پہاڑوں سے برصغیر میں ہونے والی ہجرتوں اور ان پیش رفتوں سے پیدا تعلقات کو دیکھا جن سے زبانیں، شہر، مذاہب اور سیاست نے جنم لیا تھا۔ آریا، انڈو-پارتھین اور وائٹ ہن کی ہندوستان برصغیر کی برادریوں میں موجودگی پر جو مشترکہ یوریشین ورثے کی نشاندہی کرتی تھی پہ انہمں نے رائل ایساٹک سوسائٹیز آف بنگال اور بمبئی کے جریدوں میں اپنی تحقیق شایع کی۔

انیسویں صدی کے وسط میں، برٹش ماہرین تاریخ کی ایک نئی نسل اس خام مواد کو تاریخی نظریات میں بدلنے کے منصوبے ککا حصّہ بنادیا۔ ایچ ایم ایلیٹ اور ایم الفنسٹن اس نسل کے اولین لوگ تھے۔ ان کی پیروی وینسٹ سمتھ ، سٹینلے پول، الیگونڈر کننگھم اور آر بھی وائٹ ہیڈ نے دوسروں کے ساتھ کی۔ جیسے جیسے برٹش کالونیل جغرافیہ پھیلا یعنی کلکتہ سے دہلی تک، مدراس سے بمبئے تک اور لاہور سے پشاور تک تو ہندوستان کے ماضیوں کو کھودنے کے منصوبے کی وسعت کے ساتھ یہ نظریہ بھی گہرا ہوتا چلا گیا۔

سنسکرت زبان کی جڑیں، آرین نسل کی جنیالوجی، برصغیر کے قدیم مقامی قبائل اور مقامات کے ناموں کی لفظی تاریخ اس دور کی کالونیل تقریروں، جریدوں کے مظامین ، سفرناموں، ضعلی رپورٹوں، تاریخوں اور تبصروں میں باقاعدگی سے ظاہر ہوتے – اس منصوبے کے وسط میں اور پہلی بار انیسویں صدی کے وسط میں جس سوال پہ روشنی ڈالی گئی وہ سوال تھا مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1843 میں میانی کے مقام پہ ٹالپر میروں کو شکست دے کر ریاس سندھ کو فتح کرلیا۔ سندھ کی فتح کو ہندوستان کی مسلمانوں کے ہاتھوں فتح سے جو غلط ہوا تھا اسے ٹھیک کرنے کا اقدام کے طور پہ دکھایا گیا۔ بدیشی مسلمانوں کی حکومت جو آٹھویں صدی سے چلی آرہی ہے کے شکنجے سے ہندؤں کی نجات کا اقدام۔ دریائے سندھ جہاں سے بحریہ عرب میں گرتا ہے اس کے ڈیلٹا کے مرکز پہ موجود سندھ بندرگاہوں، خشکی بڑے ٹکڑوں اور صحرا جیسے علاقے پہ مشتمل تھا۔

انیسویں صدی کے آغاز میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ریاست سندھ سرحدی علاقہ تھا، اگرچہ معاصر نقشے میں یہ برصغیر کے دوسرے علاقوں جیسے گجرات،راجھستان، پنجاب اور بلوچستان سے گھرے ہوئے تھے۔ دریائے سندھ جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے قبضے میں نہیں لیا تھا یہ بالائی سطح پہ بمبئی سے لاہور جانے کا بحری راستا تھا جو رنیت سنگھ کی سلطنت کا دارالخلافہ تھا۔ اگرچہ تھر کے صحرا اور بلوچستان کے زریعے سندھ ہندوستان اور درانی کے دربار کابل سے جڑا ہوا تھا۔

کمپنی نے سندھ کو لازمی طور پہ بہت پہلے سے قائم بمبئی پرزیڈنسی اور افغانستان کے درمیان ایک بفرزون کے طور پہ دیکھا( ساتھ ساتھ سنٹرل ایشیا اور ایران میں فرانسیسی اور روسی مفادات کے خلاف بفر کے طور پر بھی) اس سے بھی زیادہ اہمم اس کے عالم فاضل جنگجو ؤں نے پہلے ہی یہ دریافت کرلیا تھا کہ محمد بن قاسم نے “وائٹ ہن” انڈو بختارین کی باقیات کو 712ء میں شکست دی تھی اور ہندوستان کے ہندؤں کو مسلمانوں کی ایک ہزار سال کی غلامی مں دھکیل دیا تھا۔ یہ دریافت فوری طور پہ سیاسی طور پہ استعمال کی گئی۔

ایڈورڈ لاء ایلن برا ، ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے ہندوستان کا گورنر جنرل ڈرامائی طور پہ کابل سے سومناتھ مندر کے دروازے واپس لیکر آیا۔ اس کا مقصد ہندؤں پہ یہ ثابت کرنا تھا کہ اس کی کمپنی وہاں مسلمانوں کی بربریت کو ختم کرنے کے لیے آئی تھی ۔ اس نے 1842ء میں ہندوستان کی عوام اور تمام راجا مہاراجا اور نوابوں کے نام اعلامیے میں اعلان کیا کہ مندر کی تباہ شدہ باقیات کی ہندوستان واپسی ۔۔۔۔۔800 سال سے آپ کی تذلیل۔۔۔۔۔ سومناتھ کے مندر کے دروازوں کا واپس آنا ، آپ کی ذلت کی لبی یادیں آپ کی قومی عظمت کا قابل فخر ریکارڈ ہے۔” ایلن برو کی سٹریٹجی یہ تھی کہ کمپنی کو مسلمانوں کے ہاتھوں ہندؤں کو جو تاریخی نقصان پہنچا تھا اس کا ازالہ کرنے والی بناکر پیش کیا جائے۔ جبکہ اس دوران یہ مسئلہ ہرگز نہیں تھا کہ ان “دروازوں” ک “سومناتھ” سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

چارلس نیپئر پورپ میں شاہی جنگوں کا ایک ممتاز فوجی کمانڈر جسے ایلن برا نے سندھ کی فتح کے لیے چنا تھ بہت زیادہ مذہبی شخص تھا۔ وہ ابھی ہندوستان پہنچا ہی تھا جب اس نے سندھ فتح کرنے کی اپنی مہم شروع کردی۔

اسے یقین ہوچکا تھا کہ کمپنی تجارت کی اسیر ہوکر اپنے خدائی مشن سے گریزاں ہوچکی تھی ۔ اس نے سندھ کے مطلق العنان آمر مسلمان حکمرانوں سے مفروضہ آزادی کو مسیحی فریضہ خیال کیا۔ وہ ٹالپروں کو بہت بڑے بدقماش بدمعاش بیوقوف (حکمران) کہتا تھا جن کے قبضے میں زنانخانے تھے جو نوجوان لڑکیوں سے بھرے ہوئے تھے جن کی چیڑپھاڑ ان کے دوستوں نے کی ہوتی تھی اور ان کے حرم میں عورتوں سے وحشتناک سلوک کیا جاتا تھا۔ وہ یہاں تک کہتا تھا کہ ٹالپر کبھی کبھی انسانی قربانی سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔

نیپئر کی طرف سے 17 فروری 1843ء میں سندھ کے الحاق کی برٹش کیطرف سے ایک بہادرانہ اقدام کے طور پہ تعریف کی گئی ۔ ان میں سے بعض نے اسے چنگ پلاسی سے مماثل واقعہ قرار دیا جس کے بعد ہندوستان میں برٹش راج قائم ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے لکھا،”پلاسی میں کلائیو کی عظیم الشان فتح کے بعد سے مقامیوں نے یا یورپی دستوں نے ہندوستان میں اس سے مماثل فتح حاصل نہیں کی تھی ۔” اس کی فتح میں ان کہانیوں کو بڑھاوا ملا جن کے مطابق برطانوی راج ہندوستان میں عرصہ دراز سے بے دخل اور محکوم انڈو یورپی نسلوں کی واپسی تھی۔ اور اس نے مسلمانوں کے راج کی اصل کو برصغیر میں بدیشی مذہبی پاور کے غلبے کے طورپہ پیش کیا گیا۔

مسلمانوں کی ہندوستان میں اصل کے عتبار سے برٹش فتح نے بتدریج مہاراجا ساجی راؤ یونیورسٹی آف بڑودہ، عثمانیہ یونیورسٹی علی گڑھ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کلکتہ میں تیار کیے گئے مقامی ماہرین تاریخ کے تاریخی شعور کی صورت گری کی۔شبلی نعمانی(1857-1914)، جادوناتھ سرکار (1857-1914)، سید سلیمان ندوی(1884-1953)، آر سی موجمدار(1888-1980)، محمد حبیب (1885-1971) اور بی ڈی مرچندانی (1906-1980) ان جیسے ماہرین تاریخ میں سے ہیں جنھوں برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے سوال پہ غور و فکر کرتے ہوئے کالونیل ہسٹریوگرافی/تاریخ نویسی کی طرف نیشنلسٹ ردعمل تلاش کرنے کی کوشش کی –

کلکتہ ریویو،اسلامیک کلچر اورانڈین ہسٹاریکل ریویو جیسے جریدوں میں ان میں سے بہت ساروں نے کالونیل مخالف تاریخ کی کوششوں کو ہندوستان میں مسلمان راج بارے کالونیل بیانیوں سے متضادم پایا۔ انہوں نے مسلم تاریخ کو قوم پرست بیانیہ میں ڈھالنے کے لیے جدوجہد کی، یہ دیکھتے ہوئے کہ برصغیر کے مسلم حکمرانوں کو نوآبادیاتی مورخین نے غیر ملکی نسل کے غاصب کے طور پر دکھایا ہے جنہوں نے اپنی فتوحات اور حکومتوں کے دوران ان گنت ہندو مندروں کو مسمار کر دیا تھا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے باہر سے مذہبی حملہ آور ہونے کی دلیل کا مرکز ایک خاص متن تھا – چچ نامہ۔ یہ 19ویں صدی کے اوائل میں نوآبادیاتی تاریخ نگاری میں ٹکڑوں میں داخل ہوا۔ ایلیٹ سے ایلفنسٹن اور سمتھ تک، ہندوستان میں اسلام کی تاریخ پر لکھنے والے برطانوی مورخین نے چچ نامہ کو فتح کی کتاب سمجھا۔ اصل میں 1220 کے آس پاس فارسی میں لکھا گیا، یہ سندھ میں محمد بن قاسم کی مہم کی آٹھویں صدی کی عربی تاریخ کا خود ساختہ ترجمہ تھا۔ یہ ان واقعات کو بیان کرتا ہے جو اس کی فتح سے پہلے کے واقعات کے ساتھ ساتھ دنیا کے اس حصے میں اس کے قیام کے دوران پیش آئے تھے – جو تقریباً 60 سال پر محیط ہے۔

سرکار اور مجمدار جیسے ہندوستانی قوم پرست مورخوں کی تحریروں میں چچ نامہ اور باہر کے مسلمان کی شخصیت بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستانی ماضی پر سرکار کے لیکچرز – نیز مغل ہندوستان کی ان کی تاریخوں – نے برطانوی مورخین سے اپنا اشارہ لیا اور دلیل دی کہ “غیر ملکی تارکین وطن” مسلمانوں کے ذریعہ ہندوستان کی فتح اسلام کی “شدید توحید پرستانہ فطرت” کی وجہ سے تمام سابقہ حملوں سے بنیادی طور پر مختلف تھی – جو کچھ متضاد تھا۔ قبل از اسلام ہندوستان کے مشرکانہ مذہبی طریقوں کے ساتھ۔ “سندھ کی عرب فتح” کے ساتھ مجمدار کے سلوک نے مسلمانوں کو فاتح کے طور پر پیش کیا جنہوں نے اسپین کو فتح کرنے کے بعد لامحالہ اپنی لالچ بھری نگاہیں ہندوستان پر ڈالیں۔

اس کے برعکس، مسلم علماء کی ایک نسل نے عرب اور ہندوستان کے درمیان تاریخی روابط پر زور دیا جو محمد بن قاسم کی آمد سے پہلے تھے۔ نعمانی نے پیغمبر اسلام اور ابتدائی اسلام کی دیگر اہم شخصیات کی اپنی سوانح حیات میں ان روابط کو اجاگر کیا۔ 1882 اور 1898 کے درمیان، اس نے ہندوستان میں ابتدائی مسلم ریاست پر تاریخی مضامین کی ایک وسیع اقسام تیار کیں، جس میں دونوں خطوں کے درمیان ابتدائی روابط کو اجاگر کیا گیا۔ ندوی اور عبدالحلیم شرر نے 20ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں سندھ کی تاریخیں اسی انداز میں لکھیں۔ حبیب، ایک مارکسی مورخ نے اپنے 1929 کے مضمون عرب فتح سندھ میں زور دار انداز میں دلیل دی کہ مسلمان ہندوستان میں فاتح کے طور پر نہیں بلکہ آباد کاروں کے طور پر آئے تھے۔

تاہم یہ مسلمان مورخین چچنامے کو فتح کی کتاب کے طور پر درجہ بندی سے نہیں گزر سکے۔ 1947 کے بعد بھی، پورے جنوبی ایشیاء اور برطانیہ میں کام کرنے والے مورخین نے سندھ میں مسلم ماضی کی تاریخ کے بارے میں مزید تحقیقات کیں، اس قدیم متن کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا جس طرح نوآبادیاتی مورخین کرتے تھے۔ یو ایم داؤد پوتا، نبی بخش خان بلوچ، مبارک علی، ایچ ٹی لیمبرک اور پیٹر ہارڈی سبھی نے چچنامے پر بے شمار مضامین اور کتابیں لکھی ہیں۔ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی سندھ کی فوجی فتح نے ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کا آغاز کیا۔

پھر بھی یہ مبینہ اصلیت کی داستان چچنامے کی غلط درجہ بندی پر مبنی تھی۔ یہ اس وقت عربی یا فارسی میں لکھی گئی فتح کی کسی دوسری تاریخ کے برعکس قرآت تھی۔ اس میں بہت کچھ شامل کیا گیا ہے جو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے اور قبضے سے بہت کم تعلق رکھتا ہے۔ یہ 8ویں صدی کی تاریخ کم اور 13ویں صدی کا سیاسی نظریہ زیادہ ہے۔ اس کا ایک قدیم عربی متن کا ترجمہ ہونے کا دعویٰ درحقیقت سندھ میں مسلمانوں کی تقریباً 500 سالہ موجودگی کی یاد کو ابھارنے کے لیے ہے جو قیام اور رہائش کے دور کے طور پر تھا۔

یہ سندھ اور گجرات کی بندرگاہوں – جیسے دیبل، دیو اور تھانے – اور عدن، مسقط، بحرین، دمام اور سیراف کی عرب بندرگاہوں کے درمیان زمینی اور سمندری روابط کی تاریخ پیش کرتا ہے۔ اس میں فارسی، پہلوی اور پراکرت کے متن پر مبنی ہے جو ایک طرف عمان اور یمن اور دوسری طرف سری لنکا اور زنجبار کے درمیان ہزاروں سال پرانے تعلق کو تلاش کرتے ہیں۔ چچنامے میں یہ رشتے تجارت، شادی بیاہ، آباد کاری، زبانوں اور رسم و رواج پر محیط ہیں اور یہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان محض حریف ہونے کی وجہ سے تفرقہ پیدا کرنا اور برقرار رکھنا ناممکن بنا دیتے ہیں۔

اس کتاب کو 1820 کی دہائی کے اوائل سے برطانوی نوآبادیاتی مورخین نے جان بوجھ کر غلط استعمال کیا اور غلط پڑھا۔ انہوں نے اپنے کام میں “بیرونی” کے ساتھ “دوسرے” کو تبدیل کیا اور تعلق کی تاریخ خارج ہونے کی تاریخ بن گئی۔

جان جہانگیر بیدے کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ، The Arabs in Sind: 712-1026 AD، اسی علمی تناظر میں لکھا گیا تھا۔ 1973 میں یوٹاہ یونیورسٹی کو پیش کیا گیا، یہ مقالہ اس وقت تک غیر مطبوعہ رہا جب تک کہ کراچی کے انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ فار پرزرویشن آف ہیریٹیج آف سندھ نے اسے اس سال کے شروع میں چھاپ دیا۔

ہم نہیں جانتے کہ بیدے نے کبھی اپنا کام کیوں شائع نہیں کیا۔ کتاب کے ڈسٹ جیکٹ پر لکھے گئے نوٹ یہ بتاتے ہیں کہ اس کے خاندان یا کیریئر کا پتہ لگانے کی تمام کوششیں بڑی حد تک ناکام رہیں۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نے صلیبی جنگوں کے ایک بااثر مورخ ڈاکٹر عزیز ایس عطیہ کے ساتھ کام کیا تھا، اور یہ کہ ان کے کام کو مورخین جیسے ڈیرل میک لین، مبارک علی، محمد یار خان اور یوحنان فریڈمین نے نقل کیا ہے اور اس کی توسیع کی ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائی۔ ہم 2017 میں اس مقالہ کو کیسے پڑھیں؟ ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ابتداء کی تاریخ، نیز اوپر دی گئی تاریخ نویسی، 1973 میں کیسی تھی۔

بیدے اپنے مقالے کا آغاز اس حقیقت پر غور کرتے ہوئے کرتے ہیں کہ سندھ کی تاریخ کو عصری توجہ بہت کم ملی ہے۔ وہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تاریخ کے نسبتاً کم متنی ماخذ موجود ہیں اور یہ کہ مورخین “عام طور پر پہلے سے تصور شدہ تعصبات کے تابع رہے ہیں جو خاص طور پر مصنفین کے مذہبی نقطہ نظر سے رنگے ہوئے ہیں”۔

مسلمانوں کو مذہبی حملہ آور سمجھنے کے بجائے، وہ مختلف ذرائع کا جائزہ لے کر ان کی سندھ پر فتح کی معاشی بنیاد تلاش کرتا ہے، جن میں سے ابتدائی تاریخ نویں صدی کے وسط تک ہے۔ اپنے آخری باب، کامرس اینڈ کلچر اِن سندھ میں، وہ نویں اور دسویں صدی کے سفرناموں، تاجروں کے بیانات اور شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ایک زمانے میں بحر ہند کی ایک باہم جڑی ہوئی دنیا موجود تھی جس میں سندھ ایک محور تھا۔

جیمز ایٹکنسن کے ذریعہ ایک سندھی آدمی اور اس کے ساتھیوں کا لتھوگراف | راج 1843-1947 کے تحت کراچی
بیڈے نوآبادیاتی تاریخی بیانیے کو بھی توڑ دیتے ہیں جس میں ہندوستان میں برطانوی آمد کو برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے مختلف ہونے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ سندھ پر عربوں کی فتح کی تاریخ 1843 میں برطانوی فتح کی تاریخ سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ “… ایک ہزار سال بعد سندھ کی عرب انتظامیہ اور ہندوستان میں برطانوی انتظامیہ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت ہے۔” وہ تبصرہ کرتا ہے.

بیڈے کا کام ہماری دنیا میں ایک نوادرات یا شے کے طور پر داخل ہوتا ہے۔ یہ غیر فعال ہے – تاریخ لکھنے کے پہلے دور کا ایک منجمد نمونہ۔ اس کی جڑت ہمیں کراچی کے انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ فار پرزرویشن آف دی ہیریٹیج آف سندھ کی طرف دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے جس نے اس چیز کو دنیا میں لایا ہے۔ EFT ایک غیر منافع بخش، غیر سرکاری تنظیم ہے جو سندھ کے “فنکارانہ، ٹھوس اور غیر محسوس ورثے” کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔ سندھ میں آثار قدیمہ کے مختلف مقامات کے تحفظ، دیکھ بھال اور تحفظ میں یہ قابل ستائش کام کرتا نظر آتا ہے۔

یہ کتاب اس کے اشاعتی پروگرام کا حصہ ہے جو نئے کاموں کو شروع کرنے کے علاوہ پرانی، غیر دستیاب علمی تحریروں کو شائع کرتی ہے۔ تاہم، میں نئے، تازہ ترین، تنقیدی تعارف کے بغیر پرانے اسکالرشپ کی دوبارہ اشاعت کو ایک ناجائز اقدام کے طور پر دیکھتا ہوں۔ یہ خاص طور پر بیڈے کے کام کے لیے ہے کیونکہ، پہلے غیر مطبوعہ ہونے کی وجہ سے، یہ ضروری علمی جائزہ اور بحث سے نہیں گزرا ہے۔ سندھ میں عرب، اس طرح، ایک عام قاری کے لیے ایک نئی عبارت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اسے سندھ پر اسکالرشپ میں کہاں رکھا جائے یا اس کے مندرجات کو کیسے سمجھا جائے۔

پاکستان میں پرانی تحریریں شائع کرنے کا رواج عام ہے۔ برصغیر کی تاریخ کے اصل تعارف کے طور پر برطانوی دور کے ضلعی گزٹیئرز اور دیگر نوآبادیاتی تحریریں معمول کے مطابق دوبارہ شائع کی جاتی ہیں۔ اس کا غیر صحت بخش اثر یہ ہے کہ نوآبادیاتی تعصبات اور فریم ورک بلا مقابلہ اور وسیع پیمانے پر مقبول ہیں۔ نہ تو ہماری تاریخ کو ختم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی آگاہی ہے کہ ہمارے ماضی کے بارے میں تحریروں پر نوآبادیاتی علم کے عمل نے کیا تباہی مچائی ہے۔

سندھ کے ماضی پر نظر ثانی کریں۔
تقسیم کے ستر سال بعد، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں قارئین اور مصنفین اپنی تاریخ پر نظر ثانی کریں اور دوبارہ سوچیں۔ ماضی نئے سوالات اور نئے تنقیدی فریم ورک کی روشنی میں تجزیہ کا متقاضی ہے۔ ہم عرب سے مذہب سے متاثر حملہ آوروں کے طور پر ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے بارے میں برطانوی بیانیہ کے یرغمال نہیں بن سکتے۔

سندھ کے ماضی پر دوبارہ غور کرنا اور اس کا از سر نو تصور کرنا – خاص طور پر موہنجوداڑو سے شروع ہونے والے اور محمد بن قاسم کی آمد پر ختم ہونے والے دور کے بارے میں – پاکستان کی تاریخ سے قطعی طور پر متعلقہ ہے کیونکہ اس سے ہمیں یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا ہم یہاں کسی خدائی مشن پر باہر سے آئے ہیں یا ہماری کہانی زیادہ ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی مورخین کے مقابلے میں پیچیدہ، نیز ہماری اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی تاریخوں نے ہمیں یقین دلایا ہے۔

ہمیں اپنی تاریخ کے بنیادی ماخذ کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور بیڈ کا مقالہ اس شمار کے بارے میں مددگار معلومات پیش کرتا ہے۔ ہمیں سنسکرت، پہلوی، فارسی، عربی، سندھی اور گجراتی جیسی زبانوں کے مطالعہ کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے جن میں یہ ماخذ لکھے گئے ہیں تاکہ ہم ان کی غلط تشریح اور غلط تشریح نہ کریں جیسا کہ ہم نے چچ کے معاملے میں کیا تھا۔


شیئر کریں: