“بحرالکاہل اور بحرہند” کے لیے امریکی حکمت عملی

شیئر کریں:

تحریر فضل گیلانی

امریکہ اپنی سلامتی اور معاشی وسائل کو مضبوط بنانے کے لیے’’ بحرالکاہل و بحر ہند‘‘ کے تناظر میں
ایک منظم حکمت عملی بنانا چاہتا ہے۔ اس خطے میں امریکہ کے اتحادی بھی اپنی فوجی سلامتی کو
درپیش مسائل کی خاطر اس سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ تاہم یہ نئی امریکی حکمت عملی اس کے کچھ
اتحادیوں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے مثلا جنوبی کوریا ، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ، ویتنام
، فلپائن ، سنگاپور اور دیگر کے لیے۔

امریکہ کا یہ نیا اتحاد اور عسکری حکمت عملی اب بھی صرف چین کے عروج اور فوجی طاقت کے خلاف
ایک طاقتور دیوار قائم کرنے کا حربہ ہی سمجھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چین کیونکہ
اس خطے سمیت جنوبی ایشیا اور دیگر ممالک کی تعمیر نو میں مدد فراہم کر رہا ہے تبھی تو امریکہ اپنے
چار اہم اتحادیوں برطانیہ ، جاپان ، بھارت اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیاں بنانے میں مصرف ہے
جس سے چین کی معاشی اور فوجی بہتری پر قابو پایا جا سکے۔ 25 ستمبر 2021 کو بلنکن کا کہنا تھا کہ
امریکہ جلد ہی بحرالکاہل اور بحر ہند کے خطے کے لیے نئی حکمت عملی جاری کرے گا۔

امریکہ کی بحر الکاہل کمانڈ

ریاست ہائے متحدہ امریکہ بحرالکا ہل و بحر ہند (USINDOPACOM) ایریا آف ریسپونسیبلٹی (AOR) جوکہ زمین کی تقریبا نصف سطح پر محیط تصور کیا جاتا ہے اور امریکہ کے مغربی ساحل کے پانیوں سے لے کر ہندوستان کی مغربی سرحد تک اور انٹارکٹیکا سے قطب شمالی تک پھیلا ہوا ہے۔

ایشیائی بحرالکاہل دنیا کی 50 فیصد آبادی پر مشتمل ہے جس میں 36 قومیں 3000 زبانیں بولتی ہیں۔
امریکی ذمہ داری کا علاقہ مسلم اکثریتی ممالک میں ابھرتی ہوئی جمہوریتوں کا سب سے بڑا علاقہ بھی
ہے اور یہی تو امریکہ چاہتا ہے کیونکہ اس خطے میں اس کے تین بڑے اقتصادی اتحادی موجود ہیں
جن میں جمہوریت کو فروغ دینا اور برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
امریکہ چین کے گورننس سسٹم کو نا پسند کرتا ہے اور نا ہی اس کا اثر و رثوق دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کا مقصد
کئی ایک مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ بحرالکاہل و بحر ہند کو محفوظ بنایا جائے تاکہ امریکہ اپنے
جمہوری اور سرمایادارانہ نظام حکومت کو ان علاقوں میں مزید پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ دیر پا
برقرار بھی رکھ سکے ۔

اسی مقصد کی خاطر کم و بیش 375000 امریکی فوجی اور غیر فوجی یا سویلین انٹیلی جنس اہلکار فعال
طور پر ان علاقوں میں تفویض کیے گئے ہیں۔

امریکہ کا بحرالکاہل و بحر ہند میں عسکری طاقت کیسی ہے؟

یو ایس پیسیفک فلیٹ تقریبا 200 بحری جہازوں پر مشتمل ہے جس میں پانچ ایئر کرافٹ کیریئر مخصوص
اسٹرائیک گروپوں سمیت موجود ہیں
1،100 جدید طیارے ،
130،000 ملاح اور شہری محافظ۔
پیسیفک ریجن میں دو میرین ایکسپیڈیشنری فورسز اور تقریبا 86،000 اہلکار اور 640 طیارے شامل ہیں۔
یو ایس پیسیفک ایئر فورسز میں تقریبا 46،000 ائیر مین اور عام شہری اور 420 سے زائد طیارے شامل ہیں۔
یو ایس آرمی پیسیفک میں ایک کور اور دو ڈویژنوں کے تقریبا 106،000 اہلکار ہیں۔
اس کے علاوہ 300 سے زیادہ طیارے اور پانچ واٹر کرافٹ AOR بھر میں جاپان اور کوریا سے الاسکا اور ہوائی
کے لیے تفویض کیے گئے ہیں۔ 1200 سے زائد اسپیشل آپریشنز اہلکار بھی شامل ہیں۔

انڈو پیسیفک کمانڈ اے او آر میں ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس سویلین ملازمین کی تعداد تقریبا 38،000 ہے۔

زیادہ اہم ترین تو بات یہ ہے کہ چین کے قریب ترین علاقے اور اس کے بی آر آئی راستوں سے قریب تر
امریکہ کا اپنا وجود شمالی ماریانا جزیرے پر بھی ہے۔ ویسے تو یہ امریکی علاقہ ہے مگر اس جزیرے کا
اب زیادہ تر انحصار چین کی اقتصادیات سے منسلک ہے۔

گوام

گوام کا جزیرہ جو کہ امریکی علاقہ ہے ہوائی جزیرے سے 4،000 میل (6،437 کلومیٹر) دور بھی ہے اس
جزیرے پر بھی امریکہ کے تین اہم ترین فوجی اڈے ہیں۔
1) ایگو ، گوام میں اینڈرسن ایئر فورس بیس۔
2) ماریا این اے ایس ، گوام میں نیول فورس ماریا این اے ایس نیوی بیس۔
3) اپرا ہاربر ، گوام نیوی بیس۔

ہوائی

بحرالکاہل میں موجود امریکہ سب سے بڑے جزیرے ہوائی میں 11 فوجی اڈے ہیں اور اس کے علاوہ امریکہ کے
جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی فوجی اڈے ہیں۔ یہ بہت عام سا خیال ہے کہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ
اس خطے میں شمالی کوریا ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ شمالی کوریا کی دیرینہ امریکی دشمنی سے بڑا ہے
جوکہ امریکہ کی تنگ نظری میں چین ہے۔

امریکہ اپنی نیوکلیئر آبدوز ٹیکنالوجی آسٹریلیا کو آخر کیوں کر دے رہا ہے؟

امریکہ کے اتحادی اپنے اس بلاک کے مفادات کو یقینی بنانے میں ہمیشہ سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آسٹریلیا
کے ساتھ پچاس سالہ پرانی اس ٹیکنالوجی کا اشتراک امریکہ کو سفارتی، معاشی ، دفاعی ، غیر ملکی امداد
اور نرم طاقت کا مناسب امتزاج حاصل کرنے کی اجازت دے گا جو جمہوری حکمرانی کے نظام کو مضبوط
بنانے کی کوشش میں استعمال کیا جائے اور چین کی بڑھتی طاقت کے ساتھ ساتھ کمیونزم کے حکمرانی
خیالات کا احاطہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ انڈو پیسیفک میں سیاسی پیش رفت ہمیشہ اسی کے تین بڑے
اتحادی ممالک کے درمیان میں گھومتی رہے۔ امریکی حکمت عملی خطے میں گرنے والے جمہوری اداروں
کو ایک بار پھر محکم کرنے میں بھی مددگار ہوگی۔

فرانس کا کردار؟

اس حالیہ نئے امریکی انڈو پیسیفک سیکیورٹی اتحاد کی تشکیل کے بعد فرانس اس معاہدے کو یو ایس،
برطانیہ اور آسٹریلیا کا ایک افسوسناک فیصلہ سمجھ رہا ہے۔ فرانس کا ایسے کہنا اور سمجھنا بھی برحق
ہے کیونکہ فرانس کو انڈو پیسفک میں کسی دوسری طاقت سے کم سمجھنا ہی ایک بڑی بیواقوفی ہو گی۔
فرانس اس خطہ میں پیسفک میوٹ ، لا ریونین ، نیو کالیڈونیا اور فرانسیسی پولینیشیا میں سب سے
بڑا حصہ دار ہے کیونکہ یہ تمام فرانسیسی علاقے ہیں اور جوکہ ڈیڑھ ملین سے زیادہ فرانسیسی شہری آبادی
کے حامل ہیں۔
یہ 11 ملین مربع کلومیٹر پر محیط دنیا کا دوسرا بڑا اقتصادی زون بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں فرانس نے
انڈو پیسفک کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ صرف ایک دہائی میں سات ہزار سے
زائد فرانسیسی کمپنیاں اس خطے میں کام کر رہی ہیں اور 320 بلین یورو سے زیادہ کی براہ راست
سرمایہ کاری نے فرانس کو اس خطے میں غیر یورپی ممالک کو تیسرا برآمد کنندہ بنا دیا ہے۔
فرانسیسی علاقوں کی حفاظت کے لیے 8000 سے زائد فوجیوں کے درجنوں جہاز مختلف اڈوں پر بھی موجود ہیں۔

نتیجہ

اس خطے میں امریکی مشترکہ نظریات پر مبنی پوشیدہ اہداف بھی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ
کا خواب نہیں تھا لیکن بائیڈن کا نظریہ ضرور مختلف ہے۔ بائیڈن کی انتظامیہ اس خطے میں اپنے مستقبل کو
نئی حکمت عملی کے ساتھ دیکھتی ہے۔ افغانستان میں 20 سال کی فوجی جدوجہد کی ناکامی کے بعد امریکہ،
چین پر قابو پانے کے لیے ایک اور حکمت عملی کے ساتھ واپس آنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ لیکن اس بار کسی
ملک یا اقتصادی جنگ پر حملہ نہیں کر رہا۔ چونکہ اس کا سافٹ وئیر بھی تبدیل ہو چکا ہے اور جوابی
بیانیہ یہ ہے کہ فوجی اور سیکیورٹی اتحاد کی مدد سے چین کے سب سے بڑے منصوبے بی آر آئی شراکت داری
کے خلاف زیادہ سے زیادہ مخالفت اور مضبوط سے مضبوط تر ڈھال تیار کی جائے۔

(لکھاری چین کی ژیان جیا ٹونگ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ریسرچر ہیں ان کے پاس پاکستان میں صحافتی و تجزیہ نگاری کا تجربہ بھی موجود ہے۔ چین کی چنخوا یونیورسٹی سے انٹرنیشل ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن ان بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیٹیو کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے ۔ انٹر نیشنل ریلیشن اور ماس کمیونیکیشن میں بھی پاکستان کی جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹر کی ڈگریاں لے چکے ہیں۔)


شیئر کریں: