بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ ہونے پر معاہدہ قبل از وقت ختم ہونے کا خدشہ

شیئر کریں:

وفاقی بجٹ میں آئی ایم ایف کی تمام شرائط نا ماننے کے باعث قرضے کے معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے۔تاہم وقت سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ختم ہونا پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں،، اس سے قبل 21 مرتبہ قرض لینے کے معاہدے ہوئے،، لیکن صرف صرف 7 پروگرام میں قرض کی پوری رقم ملی،، 14 مرتبہ آئی ایم ایف نے آدھے راستے میں ہی لال جھنڈی دیکھا دی۔

پاکستان نے سب سے پہلے 1958 میں آئی ایم ایف سے ساڑھے تین کروڑ ڈالر کا قرض لینے کے لیے معاہدہ کیا لیکن ایک پائی بھی نہیں ملی۔دوسرا معاہدہ 1965 میں جزل ایوب کے دور میں 5 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا کیا گیا،، اس کی پوری رقم مل گئی۔ 1972 میں پاکستان نے 14 کروڑ ڈالر کے قرضے کے لیے معایدہ کیا۔ لیکن 11 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہی مل سکے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1973 1974 اور 1977 میں آئی ایم ایف سے قرض کے تین معاہدے ہوئے۔ تینوں مرتبہ قرض کی پوری رقم پاکستان کو مل گئی۔

جزل ضیا الحق کے دور میں 1980 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 2 ارب 39 کروڑ 20 لاکھ ڈالر قرض کا معاہدہ ہوا،، لیکن ایک ارب 77 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہی ملے،، 1988 میں بے نظیر بھٹو کے پہلے دور سے 2012 تک پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سلسلے میں مجموعی طور پر 11 معاہدے کیے،، تاہم ان میں سے صرف دو مرتبہ دسمبر 1989 اور نومبر 2000 کے معاہدوں کی پوری رقم ملی باقی 9 مرتبہ قرضے کے پروگرامز ادھورے ہی ختم ہو گئے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں 2008 میں آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 10 ارب 66 کروڑ ڈالر کے قرض کا معاہدہ ہوا،، تاہم بجلی، گیس مہنگی،، شرح سود اور ٹیکس ریٹس بڑھانے،، اور روپے کی بے قدری کے بعد بھی پاکستان کو ساڑھے سات ارب ڈالر سے کم رقم ملی،، اور آئی ایم ایف نے باقی شرائط پوری نا کرنے پر پروگرام قبل از وقت ہی ختم کر دیا،، موجودہ معاہدے سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کا قرضے کا آخری معاہدہ مسلم لیگ ن کے دور میں ستمبر 2013 میں 6 ارب 64 کروڑ ڈالر کے لیے ہوا تھا،، اس پروگرام کے تحت پاکستان کو قرض کی پوری رقم مل گئی تھی۔


شیئر کریں: