بابری مسجد کی جگہ رام مندر چاندی کے بلاک سے تعمیر ہوگا

شیئر کریں:

ہندوتوا نظریہ کا پھیلاؤ بھارت میں اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
پانچ اگست 2019 کو جموں، کشمیر اور لداخ کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے
والے سانحہ کو ایک سال ہو رہا ہے۔
اسی روز ٹھیک ایک سال بعد مودی سرکار نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر
کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔
یعنی 5 اگست کی تاریخ کو مودی سرکار ہندتوا نظریہ سے منصوب کرنا چاہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس نے اس دن کو یادگار بنانے کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔
پانچ اگست کے اس بھیانک منصوبہ کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔

رام مندر کی تعمیر کے خلاف نیویارک کے مصروف ترین کاروباری مرکز ٹائمز اسکوائر پر
احتجاج کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
بابری مسجد کی شہادت اور 1992 میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مظاہرے ہوں گے۔
بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے 1990 میں 16ویں صدی کی بابری مسجد کی جگہ
رام مندر تعمیر کرنے کی مہم شروع کی تھی۔
باالاخر 6 دسمبر 1992 کو انتہا پسندوں نے اترپردیش کے شہر ایودھیہ میں بابری مسجد کو شہید کر دیا۔
عدالت میں کیس چلا لیکن 2019 میں سپریم کورٹ نے رام مندر تعمیر کرنے کا متعصبانہ فیصلہ جاری کیا۔
مودی سرکار اب پونے تین ایکڑ رقبے پر چالیس کلو وزنی چاندی کے بلاک سے مندر کی تعمیر کا افتتاح کر رہی ہے۔
ترقی پسند بھارتی شہیریوں کا ماننا ہے کہ بھارت کی ایک ارب 35 کروڑ میں سے 60 فیصد آبادی
دیہی علاقوں میں رہتی ہے جو کورونا وائرس سے شدید متاثر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی کی حکومت انتہا پسندی پھیلا رہی ہے۔
حقائق بیان کرنے والے صحافیوں کو گرفتار کر کے اسیر بنا لیا جاتا ہے۔
بھارت کے پڑوسی ملکوں سے بھی تعلقات بہتر نہیں جس کی وجہ سے مودی سرکار تنہائی کی طرف جارہی ہے۔


شیئر کریں: