بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی 64ویں برسی

شیئر کریں:

تحریر ضمیر کاظمی

مولانا ظفر علی خان تحریک پاکستان کے عظیم مجاہدوں میں سے ایک تھے انہوں نے ولولہ انگیز
شاعری کے ذریعہ مسلمانوں میں جذبہ آزادی بیدار کیا۔
مولانا ظفر علی خان تحریک آزادی پاکستان کے مجاہد، مسلمانان ہند کے ولولہ انگیز راہنما
اور عظیم شاعر بھی تھے۔
مولانا نے اپنے فن خطابت، صحافت، سیاست اور شاعری کے ذریعہ دو قومی نظریہ کی اہمیت
سے لوگوں کو آگاہ کیا۔
مولانا ظفرعلی خان کی شاعری میں مذہبی عنصر ہمیشہ غالب رہا۔
تحریک آزادی پاکستان میں مسلمانوں کے جذبہ آزادی کو گرمانے کی وجہ سے انہیں متعدد
بار پابند سلاسل بھی رہنا پڑا۔
مگر اسیری بھی انہیں حق کی راہ سے نہ ہٹا سکی اور مولانا اسی طرح میدان عمل میں سرگرم رہے۔
مولانا ظفر علی خان کی پوتی ریحانہ خاتون کہتی ہیں وہ آج بھی ان ہی کے راہنما اصولوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔
مولانا نے سیاست اور شاعری کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اپنی موجودگی کا لوہا منوایا۔
زمیندار اخبار کی ادارت کے ذریعہ برصغیرکے مسلمانوں کے لیے ان کی صحافتی خدمات سنہری حروف سے تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔
علم و ادب میں ان کا گھرانہ اپنا ثانی نہیں رکھتا، زمیندار اخبار تحریک آزادی میں مسلمانوں کا نمائندہ اخبار سمجھا جاتا تھا۔
اخبار کے ذریعہ مولانا نے مسلمانوں کی ذہنی آبیاری کی اور جذبہ آزادی بیدار کیے رکھا۔
مولانا ظفر علی خان کی پر اثر تحریریں اور ان کی شاعری میں فکر اور مذہب پرعملداری کے لیے کسی کو قائل کرنے کا انداز سب سے نرالا تھا۔
خطابت ایسی کہ بولتے تو سامعین پر سحر طاری ہو جاتا اور اپنی باتوں کے ذریعے لوگوں کے قلب میں اتر جاتے۔
ان کی فکر انگیز تحریروں کی وجہ سے انہیں بابائے صحافت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
صحافت کے لیے ان کی لازوال خدمات، انداز تحریر اور حق گوئی آج کے صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
مولانا ظفر علی خان 27نومبر 1956کو دار فانی سے دار حقیقی منزل کی جانب کوچ کر گئے۔
وزیر آباد کے آبائی گاﺅں کرم آباد میں آج بھی علم کے پیاسے ان کی قبر پر حاضری دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔


شیئر کریں: