اے پی سی سے کون کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر: ندیم رضا

ملک عزیر کی قسمت پکاریں یا عوام کا مزاج ۔۔یہاں کہنے کو تو ہر جمہوری حکومت کو آئینی طور پر پانچ سالہ مدت اقتدار سونپا جاتا ہے لیکن عمومی طور پر دو ڈھائی سال بعد ہی مزاج یار میں ایسی اکتاہٹ کی موجیں موجزن ہونا شروع ہو جاتی ہیں کہ ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ بس کر او یار ببس کر ۔ اب پاکستان میں پھر سے مائنس ون اور گو گو کے نعروں کا موسم چل پڑا ہے۔
اپوزیشن کی منتشر جماعتوں کو یکجا کرنے کا سہرا بلاول بھٹو زرداری نے سجا رکھا ہے۔

سیاست کے شاطر کھلاڑی کی چال کیوں ناکام ہوئی؟

بظاہر ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم ن حزب مخالف جماعتوں کو یکجا کرنے میں سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتی۔
اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کافی متحرک دیکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر سے وہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر کل جماعتی کانفرنس کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب شہباز شریف یا لندن سے میاں محمد نواز شریف کی جانب سے تاحال کوئی کانفرنس کی حمایت کا کوئی اعلان سامنے نہیں آسکا۔

شہباز شریف نے پارٹی صدارت سے استعفیٰ دے دیا؟

شہباز شریف کومنانے کے لیے بلاول بھٹو لاہور کا دورہ بھی کر رہے ہیں اور اے پی سی لاہور ہی میں منقعد کی جارہی ہے۔
اب تک اپوزیشن جماعتوں کی کارکردگی حکومت کی کارکردگی سے مایوس کن رہی ہے۔
عام تاثر یہی رہا ہے کہ جب بھی حکومت کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اسی اپوزیشن نے انہیں سنبھالا دیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہو یا وزیر اعظم کا، اسی طرح صدر مملکت کو چننا ہو یا سینیٹ چیئرمین کا انتخاب تمام امور میں اپوزیشن نے سہولت کاری کا فریضہ انجام دیا۔

‘بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ’ نے آخری لمحوں میں بزدار کو کن شرائط پر بچایا؟

اور تو اور غیر معمولی حالات میں معمول کے بجٹ کی منظوری میں بھی اپوزیشن عوام کی ترجمانی نہیں کر سکی۔
ایسی صورت حال میں کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کو شک کی نیت سے دیکھا جارہا ہے۔
جس طرح حکومت کی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے سوالیہ نشان بن چکی ہے اسی طرح اپوزیشن پر بھی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔
موجودہ صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ مقتدر حلقے بھی دباؤ میں دیکھائی دیتے ہیں۔
عمران خان کی حکومت اول روز سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کا ہر وقت دم بھرتی رہی ہے۔

اپوزیشن، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی صف بندیاں

ایسا ماضی کی کسی بھی عوامی حکومت نے برملا اظہار نہیں کیا لیکن اس مرتبہ حالات و واقعات بالکل مختلف رہے۔
یہی وجہ ہے کہ خاموش عوام کا دباؤ اس بار سب پر یکساں ہی پڑ رہا ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ پر کچھ زیادہ ہی بڑھ چکا ہے۔
اسی لیے بعض حلقے بلاول بھٹو کی کل جماعتی کانفرنس کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
چند حلقوں کا خیال ہے کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔
کیونکہ جب سے مائنس ون کی باتیں شروع ہوئی ہیں عمران خان نے بھی کچھ زیادہ ہی جارحانہ اننگ کھیلنی شروع کر دی ہے۔
بظاہر ان کی توپوں کا رخ اپوزیشن جماعتوں کی طرف ہوتا ہے لیکن حقیقتا نشانہ اپوزیشن نہیں اور کوئی ہوتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ بھی کہی جاتی ہے کہ نیب زدہ تمام سیاسی رہنماؤں کو گھروں پر من پسند سزا دی جارہی ہے۔
عمران خان نیب زدہ اپوزیشن رہنماؤں کو چھوٹ دینے کے سراسر خلاف ہیں لیکن پھر بھی سب آزاد ہیں۔
شگر مافیا کے سب سے بڑے مبینہ ملزم جہانگیر ترین کو بیٹے سمیت لندن جانے کی اجازت دے دی گئی۔
آخر ان آسائشوں کا کوئی نہ کوئی کام تو ان جماعتوں کو انجام دینا ہی ہو گا۔

اپوزیشن کی اے پی سی کا درپردہ ایجنڈا؟

وہ کام شائد لاہور میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بظاہر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔
دوسری جانب مقتدر حلقوں سے بھی بات چیت اور قانون سازی پر بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
بداعتمادی کی فضا میں اے پی سی بلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
کوئی جماعت کسی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں بظاہر ملتے ہیں لیکن ڈیلیں الگ الگ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔
اس کے برخلاف عوام کے مسائل پر موثر انداز میں آواز بھی نہیں اٹھا پار ہے ہیں۔

مریم نواز اور “مجوزہ” نئے اپوزیشن لیڈر کی ملاقات میں کیا طے پایا

پارلیمنٹ میں محض الزام تراشیوں میں وقت ضائع کر دیا جاتا ہے اور حکومت کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔
یعنی یہ جماعتیں اپنا اپنا حصہ بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی تک و دو میں لگی ہوئی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے برخلاف اس مرتبہ مزہبی جماعتیں زیادہ شدت موقف کے ساتھ سامنے آرہی ہیں۔
جمعیت علما اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان جو ساری زندگی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جڑی رہیں لیکن اس بار حصہ نہ ملنے پر سیخ پا ہیں۔
جماعت اسلامی پر نظر ڈالیں تو ان کی سیاست ہمیشہ کی طرح ہوا کے رخ پر ہی چل رہی ہے۔
کل جماعتی کانفرنس اگر ہوتی ہے تو اس کا انجام بھی ماضی کی کانفرنسوں سے مختلف نہیں ہو گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کون سی جماعت اس اے پی سے کیا فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر اسی تنخواہ پر کام جاری رہے گا۔


شیئر کریں: