اے زندگی گلے لگا لے

شیئر کریں:

تحریر امبرین خان

زندگی اے زندگی تجھے کسی طرح سمجھ سکوں۔
ہم ایسے سیارے پر رہتے ہیں جہاں کوئی خوش نہیں۔
جہاں کوئی تکلیف میں بھی نہیں اور جہاں کوئی اداس بھی نہیں۔
میں نے آج تک وہی لکھا جو محسوس کیا اور ارد گرد دیکھا۔

اپنے آپ میں دیکھنا چاہیے

اپنے آپ میں دیکھا کافی دنوں سے جب میں کہیں جاتی واک پر، شاپنگ یا افس میں ایک ہی
بات سوچ رہی تھی کہ دنیا تو ایک اللہ نے ہی بنائی ہے اور پھر بھی ہر شخص کی زندگی ایک
دوسرے سے مختلف کیوں ہے؟
ایک تجربہ کر کے دیکھیں آپ اتوار کے روز کسی شاپنگ مال جا کر ایک جگہ بیٹھ جائیں اور
صرف آتے جاتے لوگوں کو دیکھیں۔

پھر آپ کو احساس ہو گا کہ زندگی کا اصول ہے ناکامی کے باوجود کامیابی حاصل کی جائے۔
گھاٹے کے باوجود نفع حاصل کیا جائے۔
غم میں بھی خوشی تلاش کی جائے اور دکھ میں بھی سکھی نظر آیا جائے۔

ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں پسند کی شادی (لو میرج) کرنے والے ایک دوسرے سے چھ
مہینے بعد ہی چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ارینج میرج والے تو یہ سوچ کر شادی کرتے ہیں
کہ جی جوا کھیلنے لگے ہیں دیکھیں اب جیت کس کی ہوتی ہے یا گیم کتنی لمبی چلتی ہے۔

پھول کانٹوں کے درمیان سے کیسے ٹوٹ جاتے ہیں؟

دیکھیں جی گلاب کا پھول کتنا خوبصورت اور نازک ہوتا ہے۔
اس کو دیکھ کر دل کرتا توڑ لیا جائے جب کہ اس کے ساتھ حفاظت کے لئے کانٹے بھی ہوتے ہیں۔
کانٹے ان کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں کہ پھول توڑا نہ جا سکے لیکن پھول تو تب بھی ٹوٹے گا۔
آسان کیے دیتی ہوں کہ دنیا میں شیشہ بھی ہے اور پتھر بھی ہے۔

اب ضروری ہے کہ شیشے کی حفاظت خود کی جائے اور پھول کے ساتھ حفاظت کے لئے پتھر ہوں
بھی تو توڑ لئے جاتے ہیں۔
انسان برا کب بنتا ہے جب وہ وعدہ پورا کرنے کے وقت وعدہ خلافی کرے۔
جہاں شرافت دیکھانی ہو وہاں کمینہ پن بھی دیکھائے، جہاں بڑا پن دیکھانا ہو وہاں چھوٹا پن
بھی دیکھائے۔
جہاں اسے معاف کر دینا چاہیے وہاں وہ انتقام بھی لینے لگے اور جہاں اعتراف کرنا پڑے وہاں
ہٹ دھرمی سے کام لے۔
جہاں اسے پردہ پوشی کرنی ہو وہاں پردہ بھی اٹھانے لگے تو ایسے انسان کو انسان کہلانے کا حق
نہیں وہ بس زندگی جیتا اور لوگوں کے دلوں سے نکل جاتا ہے۔

تیزاب اور نفرت کیا مشترک ہے؟

میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ نفرت کی مثال اس تیزاب جیسی ہے کہ کسی چیز پر تیزاب
ڈالنے سے زیادہ نقصان اس عام برتن کا ہوتا ہے جس میں تیزاب رکھا جاتا ہے۔

زندگی میں کریکٹر موسم کی طرح آتے اور جاتے ہیں

اس لئے اگر آپ کسی سے نفرت کرتے ہیں یا انتقام لینا چاہتے ہیں تو اپ کے اندر دن رات نفرت کی
آگ جلتی رہے گی مگر دوسرے شخص پر اس کا اثر صرف اس وقت ہوتا ہے جب آپ عملا اس
کو نقصان پہنچا سکیں۔
لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے مگر جہاں تک تعلق نفرت کرنے والے کا ہے تو اسے کوئی ایک چیز
لازمی برداشت کرنی پڑتی ہے یا تو وہ انتقام کی آگ میں جلتا رہے گا یا بالفرض انتقام لے لیا تو اپنے
ضمیر سے لڑتا رہے گا اور سکون ختم کر لے گا۔

اس لئے کسی نے برا کر دیا آپ کے ساتھ تو اپنا سکون خراب مت کیجیے۔
وقت نے واپس اسے وہ سب دیکھانا ہی ہے آپ کوشش نہ کریں اپنے آپ کو خراب کرنے کی بلکہ
آپ تو مزید سکون کریں۔
لیکن کچھ لوگ بلاوجہ ہر چیز خدا پر چھوڑ دیتے ہیں جیسے ایک گھر میں کام کرنے والی اگر
مہینے کے اینڈ پر اپنی تنخواہ مانگے تو اس سے کہا جائے کہ جاو میں نہیں دوں گی رزق دینے
والا تو خدا ہے۔
تمھیں بھی خدا دے گا اور مجھے بھی۔

ایک مثال سے سمجھاتی ہوں شہد کی مکھیوں کو ایک پونڈ شہد کے لیے بیس لاکھ پھولوں
کا رس چوسنا پڑتا ہے۔
اس کے لئے مکھیاں تقریبا تیس لاکھ اڑانیں بھرتی ہیں اور اس دوران تقریبا پچاس ہزار میل
کا سفر کرتی ہیں۔
اس کے بعد بھی شہد مکمل تیار نہیں ہوتا، شہد ابتدائی مرحلے میں پانی کی طرح ہوتا ہے
پھر بہت سے مراحل سے گزرنے کے بعد شہد بنتا ہے۔

خالق دو جہاں ایسا بھی کر سکتا تھا کہ شہد بنی بنائی دنیا میں آجاتی، اللہ اگر چاہتا تو شہد
کی نہر بھی بہا دیتا مگر ایسا نہیں کیا۔

زیادہ عزت انسان کو اپے سے باہر کر دیتی ہے

یہ انسان کے لئے سبق ہے کہ کوئی چیز بغیر اہتمام کے نہیں ملتی ہر چیز حاصل کرنے کے
لئے محنت ضروری ہے۔

خاص طور پر اس چیز یا کام میں برکت کے لیے صاف نیت اور وفاداری ضروری ہے۔
ایک بات ذہن میں رکھیں ہمیشہ لوگوں کو اہمیت نہ دیں لیکن کسی کی بھی تذلیل نہ کریں۔
ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگوں کو زیادہ عزت دی جائے تو وہ اوقات سے
بھی باہر ہو جاتے ہیں۔
اینڈ پر ایک گانا یاد آیا سنیں آپ بھی ہم بھی سنتے ہیں۔
(اے زندگی گلے لگا لے ،ہم نے بھی تیرے ہر اک غم کو گلے سے لگایا ہے )


شیئر کریں: