اے آر وائی کے اینکر “اقرار الحسن کو گرفتار کرو” مطالبہ زور پکڑ گیا

شیئر کریں:

سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کا ٹرینڈ پاکستان میں خوب چل پڑا ہے۔ جسے دیکھو وہ
ٹوئیٹر کے ذریعے کسی بھی واقعہ باالخصوص زیادتی کے واقعات پر بول کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش
کر تا ہے۔

14 اگست کو مینار پاکستان پر ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے انسانیت بھی شرما
گئی تھی۔ اس بے شرمی کے واقعہ پر اے آر وائی کے اقرار الحسن اور ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی
دونوں مل کر عائشہ اکرم کے گھر گئے۔

اقرار نے پھر عائشہ اکرم کے ساتھ ایک تصویر ٹوئیٹر پر شیئر کی کہ رات کے اس پہر میں انسانی ہمدردی
کے لیے پہنچا ہوں۔ اس تصویر میں اقرار نے عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ عائشہ اکرم میں یاسر شامی
اور اقرار کے درمیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔

اس تصویر پر پھر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلنا شروع ہوا کہ ” اقرار الحسن کو گرفتار کرو”۔ سوشل میڈیا پر
صارفین کا کہنا ہے کہ ان تینوں نے مل کر یہ ہمدردی کا ڈرامہ رچایا ہے۔ اس کا مقصد یوٹیوب اور ٹوئیٹر پر
زیادہ سے زیادہ لائکس کا حصول تھا۔

ٹوئیٹر پر لوگ یاسر شامی اور اقرار الحسن کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں ساتھ ہی دو تصویروں کو ملا کے
ایک تصویر بھی شیئر کی گئی ہے جس میں پولیس افسر کی عائشہ اور اس کی والدہ سے گھر پر ملاقات
ہے اور دوسری تصویر ایک بہترین ڈرائنگ روم میں تینوں سوشل میڈیا ایکسپرٹ کی ملاقات والی ہے۔
اس پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

صارفین کہتے ہیں کہ لوگ سستی شہرت کے لیے اس وقت سب کچھ کرنے پر تیار دیکھائی دیتے ہیں۔ عزت
نام کی کوئی شے نہیں رہی بس زیادہ سے زیادہ لائیکس اور ری ٹوئیٹ چاہئیں۔ ٹی وی پر بیٹھ کر
انسانیت کا درس دیتے ہیں اور پردے پیچھے گھناؤنا چہرہ ہے۔  


شیئر کریں: